0
Thursday 23 May 2019 14:26

آئی ایم ایف کا دباؤ، اسٹریٹجک اتحادی چین سے حاصل کئے گئے تمامتر قرضوں کی تفصیلات جاری

آئی ایم ایف کا دباؤ، اسٹریٹجک اتحادی چین سے حاصل کئے گئے تمامتر قرضوں کی تفصیلات جاری
اسلام ٹائمز۔ پاکستان نے پہلی دفعہ چین سے لئے گئے قرضوں کی تفصیلات جاری کر دیں۔ جاری کردہ سرکاری دستاویزات کے مطابق پاکستان نے موجوہ مالی سال میں صرف چین سے 6 ارب 50 کروڑ ڈالر قرضے وصول کیے جبکہ گزشتہ 10 ماہ میں پاکستان نے مجموعی طور پر 8 ارب 60 کروڑ ڈالر کے قرضہ حاصل کیے۔ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے دباؤ کی وجہ سے وزیر اعظم عمران خان نے اپنے اسٹریٹجک اتحادی چین سے حاصل کیے گئے تمام تر قرضوں کی تفصیلات جاری کیں۔ دستاویزات کے مطابق رواں مالی سال جولائی سے اپریل کے دوران حاصل کئے گئے قرضے کراچی کے نیو کلیئر پاور پلانٹ جو کے ٹو اور کے تھری کے نام سے جانا جاتا ہے جبکہ چائنہ سیف ڈپازٹس (ایس اے ایف ای) کے لئے قرضے حاصل کئے گئے۔

اس سے قبل جولائی 2018ء میں پاکستان نے چین سے 2 ارب ڈالر ایس اے ایف ای کی مد میں وصول کئے تھے جنہیں اسٹیٹ بینک پاکستان کے کھاتوں میں بھی دکھایا گیا ہے۔ پاکستان نے سعودی عرب سے 3 ارب ڈالر اور متحدہ عرب امارت سے 2 ارب ڈالر کے قرضہ وصول کئے، لیکن یہ قرضے چائنیز سیف ڈپازٹس کے ساتھ ظاہر نہیں کئے گئے۔ پاکستان اپنے غیرملکی زرمبادلہ کے ذخائر بڑھانے کے لئے طویل مدت سے چینی قرض کا سہارا لے رہا ہے مگر یہ پہلی بار ہے جب چین کے مرکزی بینک کے ڈپازٹس وزارت خزانہ کے قرضوں کے اعداد و شمار میں شامل کئے گئے ہیں۔ وزارت خزانہ کے ترجمان ڈاکٹر خاقان نجیب نے اس حوالے سے کسی بھی قسم کی ڈویلپمنٹ بتانے سے گریز کیا۔

جبکہ وزارت خزانے کے ایک سینئر افسر نے بتایا کہ قرضوں کی تفصیلات جاری کرنے کا فیصلہ وزیراعظم کے مشیر برائے خزانہ عبدالحفیظ شیخ کی جانب سے کیا گیا۔ مارچ میں چین نے دو تجارتی بینکوں کے ذریعے قرض فراہم کیا تھا، جس میں چائنہ ڈویلپمنٹ بینک جس نے 2 ارب 24 کروڑ مختصر وقت کے لئے جبکہ انڈسٹریل اینڈ کمرشل بینک آف چائنہ (آئی سی بی سی) نے 30 کروڑ ڈالر قرضہ دیا جبکہ چین نے گذشتہ 10 ماہ میں زیر تعمیر نیو کلیئر پاور پلانٹ کے لئے 60 کروڑ 40 لاکھ ڈالر کا قرضہ فراہم کیا۔ چین نے گذشتہ 10 ماہ کے دوران پاک چائنہ اقتصادی کوریڈور (سی پیک) منصوبے کے دوران مالیاتی اخراجات کی مد میں ایک ارب 40 کروڑ ڈالر فراہم کئے جس میں زیادہ تر ادائیگی سکھر ملتان موٹروے، حویلیاں تھاکوٹ منصوبہ اور لاہور اورنج لائن منصوبے کی مد میں کی گئی۔
 
خبر کا کوڈ : 795868
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے