0
Saturday 25 May 2019 17:02

آج ایران کیساتھ ترکی کے اتحاد کر لینے کا وقت ہے، ترک سیاسی رہنما

آج ایران کیساتھ ترکی کے اتحاد کر لینے کا وقت ہے، ترک سیاسی رہنما
اسلام ٹائمز۔ ترکی کے ایک اخبار "ملی گیزیٹ" نے لکھا ہے کہ امریکہ ایران کے خلاف دھمکیوں کے ذریعے مشرق وسطیٰ میں اپنے پنجے گاڑنا چاہتا ہے جبکہ اس "وحشی گھوڑے" (امریکہ) کا اصلی ہدف "ترکی" ہے۔ ترکی کے سعادت الدین کارادوما نے لکھا کہ کیا ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ ہوگی؟ اس کا جواب منفی ہے جبکہ ترکی کے حکمران ایک طرف سے تو روسی میزائل ڈیفنس سسٹم S-400 خریدنے کے لئے ایشیا کے ساتھ مذاکرات کر رہے ہیں اور دوسری طرف دوبارہ سے مغربی ممالک کے ساتھ اپنے معاہدات حاصل کرنے کی کوشش بھی کر رہے ہیں۔ یہ کہا جا رہا ہے کہ ترکی کو ملنے والے روسی میزائل ڈیفنس سسٹم S-400 کی تحویل میں تاخیر ہو جائے گی۔ ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیئے کہ "کفر، ایک واحد قوم ہے" گو کہ وہ ایک دوسرے کے ساتھ اختلافات رکھتے ہیں، لیکن انہوں نے مختلف تاریخی حوالوں سے ایک دوسرے کے ساتھ اتفاق کر رکھا ہے۔

سعادت پارٹی کے رہنما سعادت الدین کارادوما نے لکھا کہ آج، ترکی کے ایران کے ساتھ اتحاد کرنے کا وقت ہے، کیونکہ ایسی کوئی ضمانت موجود نہیں کہ جو کچھ آج ایران کے ساتھ ہو رہا ہے، کل وہ ترکی کے ساتھ نہیں ہوگا۔ آج ترکی کے سامنے دو رستے موجود ہیں، یہ کہ ترکی یا تو ایران کے مسلمان عوام کے ساتھ اپنے اتحاد و یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے ان کے شانہ بشانہ کھڑا ہو جائے اور عقلمندانہ اقدامات اٹھائے اور یا پھر انتظار کرے، کیونکہ کل اس کی باری کا دن بھی آجائے گا۔  امریکہ براہ راست ایران پر کبھی حملہ آور نہیں ہوگا۔ ایرانی حکومت کا کسی کے ساتھ مذاق نہیں۔ ایران کئی سو سال کے سفارتی اور جنگی تجربات کا حامل ایک سنجیدہ ملک ہے۔ امریکہ کسی بھی دوسرے ملک سے بڑھ کر ایران کو پہچانتا ہے۔

انہوں نے لکھا کہ امریکہ نے سالہا سال پہلے سے خطے میں تبدیلی لانے کی سازش کر رکھی تھی، جس کے دو ثبوت قابل ذکر ہیں: ایک یہ کہ (سابقہ امریکی وزیر خارجہ) کنڈولیزا رائس نے 2013ء میں واشنگٹن پوسٹ میں "مشرق وسطیٰ میں جغرافیائی تبدیلی" کے بارے ایک مقالہ تھا، جبکہ 2013ء میں ہی رابن رائٹ نے بھی نیویارک ٹائمز میں ایک مقالہ لکھا تھا، جس میں مشرق وسطیٰ کے آج کے حالات پر روشنی ڈالی گئی تھی۔ امریکہ اپنا ہر قدم مشرق وسطیٰ میں اپنے سیاسی اہداف کو حاصل کرنے کے لئے اٹھا رہا ہے۔ اس نے فوجی اقدامات اور ایرانی شہروں پر بمباری کرنے کے بجائے ایران کے خلاف اقتصادی جنگ چھیڑ رکھی ہے، جبکہ ممکنہ صورت میں وہ ایرانی حکومتی نظام کو بھی ختم کر دینا چاہتا ہے۔
خبر کا کوڈ : 796240
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے