0
Saturday 25 May 2019 20:15

ٹرمپ بالآخر ایران کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور نہیں کر پائے، عبدالباری عطوان

ٹرمپ بالآخر ایران کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور نہیں کر پائے، عبدالباری عطوان
اسلام ٹائمز۔ عرب اخبار "رای الیوم" میں لکھنے والے معروف عرب لکھاری عبدالباری عطوان نے عرب اخبار "رای الیوم" کے اداریئے میں حسب سابق چند سوالات اٹھاتے ہوئے لکھا کہ کیا ایران جوہری معاہدے پر دستخط کرنے پر پشیمان ہے؟ ایران ٹرمپ اور اس کے اتحادیوں کو عقب نشینی پر مجبور کرکے ان کی اس معاہدے سے یکطرفہ دسبرداری کا مداوا کیسے کرسکتا ہے؟ آج کل ثالثی کرنے والوں کی تعداد اتنی بڑھ کیوں گئی ہے؟ اور کیا ایرانیوں کی "مرگ بر امریکہ" کے نعرے پر مبنی نفرین ٹرمپ کو بھی ڈبو دے گی، جیسا کہ کارٹر کے ساتھ ہوا تھا۔؟ عبدالباری عطوان کے مطابق آجکل ایران اور امریکہ کے درمیان تناؤ کی شدت میں کمی آنے کے ساتھ ہی جو سوال اٹھ رہا ہے، وہ یہ ہے کہ کیا بڑے یا چھوٹے پیمانے پر کسی بھی قسم کی فوجی کارروائی کا احتمال کم ہوگیا ہے؟ وہ بھی جب دونوں طرف کے اعلیٰ حکام امن و امان کی باتیں کر رہے ہیں اور بہت سے ثالث تہران کا دورہ بھی کرچکے ہیں۔

عرب لکھاری اپنے اٹھائے گئے سوالات کا جواب دیتے ہوئے لکھتا ہے کہ جی ہاں! فوجی کارروائی کا احتمال کچھ کم ہوگیا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے ایرانی رقیب کو ڈرا دھمکا کر امریکی وزیر خارجہ مائیک پمپیو کی بارہ شرائط کے ساتھ مذاکرات کی میز پر لانے کی اپنی پوری کوشش کر لی ہے۔ وہ شرائط جو بظاہر صلح کے سفید پرچم کو لہرانے جیسی تھیں، لیکن دراصل ایران کو نہ صرف اپنے تمام تر جوہری و میزائل تجربوں سے ہاتھ دھونا پڑتے بلکہ اُسے لبنان، یمن، عراق، مقبوضہ فلسطین اور افغانستان میں موجود اپنے حمایت یافتہ گروہ، جو اس کے دفاعی، سیاسی اور فوجی ستونوں کے مانند ہیں، سے بھی ہاتھ اٹھانا پڑتا۔ رای الیوم نے لکھا کہ ایرانی حکام اور ایرانی صدر ڈاکٹر حسن روحانی جو اصلاح طلب گروہ میں سے ہیں، آج جب امریکہ کی ان فوجی حرکتوں کو دیکھتے ہیں تو ان کے پاس امریکہ جیسے ملک کے ساتھ جوہری معاہدے پر دستخط کرنے پر پشیمانی کے اظہار کے سوا اور کوئی چارہ نہیں بچتا، کیونکہ اس معاہدے کے ساتھ وابستہ ان کے تمام تر خواب چکنا چور ہو کر رہ گئے ہیں۔

لکھاری کے مطابق ممکن ہے کہ ایرانیوں کی یہ پشیمانی، جنگ یا صلح کسی بھی صورت میں، ان کی طرف سے کسی جوابی اقدام کی صورت میں سامنے آئے۔ کم از کم یہ کہ اگر ایران اپنے دشمن امریکہ کے مقابل جنگ پر اتر آئے تو جوہری معاہدے کے بانی ایرانی صدر ڈاکٹر حسن روحانی کے کہنے کے مطابق ایران اپنے اتحادیوں سمیت اس طرح سے جنگ میں داخل ہوگا کہ گویا یہ اس کی آخری جنگ ہو، لہذا وہ اپنی تمام تر قوت کو جنگ میں استعمال کرتے ہوئے اپنے دشمنوں پر بدترین ضرب لگائے گا جبکہ اگر ثالثی ہو جائے اور اس کو دوبارہ مذاکرات میں بیٹھنا پڑے تو بھی اس مرتبہ وہ پہلے سے زیادہ محتاط انداز اپنائے گا اور دشمن کے کم از کم مطالبات تسلیم کرنے کے ساتھ ساتھ مدمقابل سے قرار پانے والے معاہدے سے یکطرفہ طور پر خارج نہ ہونے کی ضمانت بھی مانگے گا۔

رای الیوم نے مزید لکھا کہ ایرانیوں نے اس بحران کے ابتدائی دنوں میں ہی یہ ثابت کر دیا تھا کہ وہ مقابلے کے لئے پوری تیاری میں ہیں۔ ایرانیوں نے اپنے دشمن کے حساب کتاب اور توقعات کے برخلاف خود پریشان ہونے کے بجائے اپنے حریف امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو پریشان کرکے رکھ دیا ہے۔ انہوں نے اپنے تمام تر معاملات اپنی گرفت میں لے رکھے ہیں۔ ایرانیوں کی لکڑی سے بنی کشتیاں، جن پر بیلسٹک میزائل نصب ہیں، خلیج فارس میں موجود امریکی طیارہ بردار بحری بیڑے کو غرق کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں اور عراق میں موجود ایرانی حلیف گروہوں نے بھی اپنے میزائلوں کا رخ امریکی چھاؤنیوں کی طرف موڑ دیا ہے، جن میں کم از کم 6000 سے زائد امریکی فوجی موجود ہیں جبکہ حتمی طور پر سعودی عرب کی تیل کی اور دوسری تنصیبات پر ڈرون حملے، ایرانی اتحادی ہونے کے ناطے یمنی حوثیوں کی فہرست میں بھی شامل ہوں گے۔

عبدالباری عطوان نے مزید لکھا کہ امریکی صدر ٹرمپ ایک ایسے بحران میں پھنس چکے ہیں، جس کو انہوں نے خود ہی خلیج (فارس) کے خطے میں جنم دیا ہے، جبکہ اب انہیں اپنی بچی کھچی عزت بچانے کے لالے پڑ چکے ہیں اور وہ بھی ایک ایسی صورتحال میں جب ایران کے گھٹنے ٹیکنے سے متعلق ان کی تمام تر امیدیں ٹوٹ چکی ہیں۔ اس کے اہم ثبوت خود انہی کے اور ان کے وزیر دفاع کے تازہ بیانات ہیں، جنہوں نے کہا تھا کہ خلیج فارس میں فوجی حرکات میں اضافہ جنگ کے لئے نہیں بلکہ امریکیوں پر ایران کی طرف سے کسی بھی قسم کے حملے کے دفاع کے لئے ہے۔ البتہ یہ واضح جھوٹ ہے اور یہ کوئی نئی بات بھی نہیں، کیونکہ اگر امریکہ جنگ نہیں چاہتا تو وہ کیوں اتنے سارے لشکر بھیج اور علی الاعلان ایرانی حکومتی نظام یا کم از کم اس کے رویّے کو بدلنے کی دھمکیاں دے رہا ہے؟ امریکہ ایرانی نظام حکومت کو بدل نہیں سکتا، جبکہ ایران بھی کبھی امریکی شرائط کے مطابق اپنے رویّے کو نہیں بدلے گا۔

کالم نگار عبدالباری عطوان لکھتے ہیں کہ ایران امریکی بدمعاشی کے مقابلے میں شام کے سقوط میں مانع ثابت ہوا ہے اور یہ بھی بعید نہیں کہ آنے والے صدارتی الیکشن میں وہ ٹرمپ کی سرنگونی کا باعث بھی بن جائے۔ بالکل اسی طرح جیسے سابقہ امریکہ صدر جمی کارٹر کو ایران نے سرنگوں کیا تھا اور وہ اپنی دوسرے دور کی صدارت کے لئے امریکی صدارتی الیکشن میں کامیاب نہیں ہو پائے تھے۔ تو کیا "مرگ بر امریکا" پر مبنی ایرانی نفرین ٹرمپ کے شامل حال بھی ہو جائے گی، جیسا کہ ان سے پہلے سابق امریکی صدر جمی کارٹر کے شامل حال ہوئی تھی؟ (کارٹر اپنے ریاستی دورے کے آخری 14 ماہ کے دوران امریکی سفارت کاروں کی گرفتاری کے مسئلے میں ہی پھنسے رہے، جبکہ امریکی سفارت کاروں کی عدم بازیابی اور امریکہ میں تسلسل کیساتھ بڑھتی افراط زر کی شرح 1980ء میں ہونے والے امریکی صدارتی الیکشن میں کارٹر کی شکست کا موجب بنی)۔

عبدالباری عطوان لکھتے ہیں کہ بڑی طاقتوں کے لئے جنگ کا مسئلہ، چاہے ان کے اپنے خطے میں ہو یا دنیا کے کسی اور مقام پر، ایک سادہ سا مسئلہ ہے، خاص طور پر جب کاغذی حساب کتاب کے مطابق طرف مقابل کمزور ہو، لیکن وہ چیز جس کا اندازہ لگانا سخت ہے، جنگ شروع کرنے کے بعد کی صورتحال ہے، خاص طور پر جب اس حوالے سے پہلے ہی شام، لیبیا، افغانستان، عراق اور یمن کے علاوہ دوسرے نمونوں پر مشتمل ایک طویل فہرست موجود ہو۔ انہوں نے لکھا کہ گو کہ ایران اور امریکہ کے درمیان موجودہ بحران کی شدت میں ایرانی تیل کی برآمدات کو صفر تک پہنچانے کے مقصد سے لاگو کی گئی امریکی پابندیوں کے دوسرے مرحلے میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے۔

لیکن پھر بھی ایرانی تیل کی برآمدات اپنے معمول کے مطابق جاری ہیں اور ایرانی تیل کے حامل بحری جہاز اپنے تیل سے بھرے ٹینکوں سمیت امریکی جنگی کشتیوں اور B-52 نامی امریکی اسٹریٹجک بمبار طیاروں کی ناک تلے سے گزرتی چلی جاتی ہیں، جبکہ اس کے برعکس یہ امریکی اتحادی ہی ہیں، جن کے بحری بیڑے "الفجیرہ" بندرگاہ پر حملوں کا نشانہ بن رہے ہیں۔ اس تمام تر صورتحال کا مطلب یہ ہے کہ فوجی کے بجائے اقتصادی جنگ پر مبنی ٹرمپ کی تمام تر دھمکیاں ان کی خام خیالی سے بڑھ کر کچھ ثابت نہیں ہوئیں، جبکہ کسی بھی جنگ میں امریکہ کی جیت کا چانس نہ صرف انتہائی کم ہے بلکہ اس کے لئے انتہائی خطرناک بھی ہے۔ انہوں نے اپنی تحریر کے آخر میں لکھا کہ نتیجے کے طور پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ ٹرمپ اور ان کے تمام تر اتحادی جو اب تک جنگی بھبکیاں مارتے رہے ہیں، ان دھمکیوں کے ساتھ وابستہ اپنی تمام تر امیدیں کھو بیٹھے ہیں۔
خبر کا کوڈ : 796284
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب