0
Monday 27 May 2019 20:01

امریکی اقتصادی جنگ دراصل ایرانی عوام کیخلاف ہے، امریکی سیاسی ماہرین

امریکی اقتصادی جنگ دراصل ایرانی عوام کیخلاف ہے، امریکی سیاسی ماہرین
اسلام ٹائمز۔ امریکی یونیورسٹی "نارٹےڈیم" کے ذیلی ادارے "کروک انسٹیٹیوٹ فار انٹرنیشنل پیس" کے ڈائریکٹر "ڈاکٹر ڈیوڈ کورٹ ہائیٹ" نے اپنی ایک تحقیق میں لکھا ہے کہ امریکی صدر "ڈونلڈ ٹرمپ" نے کہا تھا کہ وہ مغربی ایشیا میں مزید امریکی فوجی بھیجنا چاہتے ہیں جبکہ اس خطے میں جنگ کے خطرات پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ چکے ہیں، لیکن درحقیقت یہ جنگ اقتصادی جنگ ہے، جس نے ایرانی عوام کو اپنے نشانے پر لے رکھا ہے۔ کروک انسٹیٹیوٹ کے ڈائریکٹر نے "اسکرول" نامی ویب سائٹ پر نشر کئے گئے اپنے اس تحقیقی مقالے میں لکھا کہ ایران پر عائد امریکی پابندیوں کی قیمت دراصل وہاں کے عام عوام ادا کر رہے ہیں۔ ایران کے تیل کی برآمدات اور قومی آمدن مسلسل گھٹتی جا رہی ہے جبکہ افراط زر کی شرح مسلسل بڑھ رہی ہے اور معاشی سختیوں میں کئی گنا اضافہ ہوگیا ہے۔ اسی طرح ایران کی قومی کرنسی کی قیمت میں 60 فیصد سے زیادہ کمی آئی ہے، جو اسی تناسب سے عام عوام کے سرمائے میں کمی کا باعث بھی بنی ہے۔

ڈاکٹر کورٹ ہائیٹ نے اپنے تحقیقی مقالے میں لکھا کہ ایسا لگتا ہے کہ ایرانی عوام کو سزا دینے کا یہ عمل جان بوجھ کر اپنایا گیا ہے، درحالیکہ جب امریکی وزیر خارجہ "مائیک پمپیو" سے پوچھا گیا تھا کہ آپ کیسے توقع کرسکتے ہیں کہ ایران پر عائد امریکی پابندیوں کی وجہ سے ایرانی حکومت اپنے روییّے میں تبدیلی لے آئے گی؟ تو ان کا کہنا تھا کہ امریکی پابندیاں یہ کام کرنے کے صلاحیت نہیں رکھتیں جبکہ مائیک پمپیو نے ایرانی عوام کو مخاطت کرتے ہوئے کہا کہ یہ مسئلہ ایرانی عوام کے ساتھ تعلق رکھتا ہے کہ اگر وہ چاہیں تو اپنے حکومتی نظام کو بدل دیں۔ واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ 8 مئی 2018ء کو یکطرفہ طور پر ایرانی جوہری معاہدے سے دستبردار ہوگئے تھے، جس کے بعد انہوں نے ایران پر پہلے سے عائد امریکی پابندیوں کو، جو معاہدے کی صورت میں معطل ہوچکی تھیں، دوبارہ بحال کرنے کا حکم دے دیا تھا۔
خبر کا کوڈ : 796593
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب