0
Tuesday 28 May 2019 17:41

محسن داوڑ اور علی وزیر نے فون کر کے دھرنا ختم نہ کرنے کا کہا، سیکرٹری دفاع

دھرنا دینے والوں نے ایک شخص کی رہائی کے بدلے میں دھرنا ختم کرنے کا فیصلہ کیا تھا
محسن داوڑ اور علی وزیر نے فون کر کے دھرنا ختم نہ کرنے کا کہا، سیکرٹری دفاع
اسلام ٹائمز۔ سیکرٹری دفاع لفٹینٹ جنرل (ر) اکرام الحق نے پی ٹی ایم دھرنے اور پاک فوج کی چیک پوسٹ پر حملے کے حوالے سے کہا ہے کہ دھرنا دینے والوں نے ایک شخص کی رہائی کے بدلے میں دھرنا ختم کرنے کا فیصلہ کر لیا تھا۔ انہوں نے بتایا ہے کہ دھرنا دینے والوں سے مذاکرات کامیاب ہو گئے اور انہوں نے دھرنا ختم کرنے کا فیصلہ کر لیا تھا لیکن محسن داوڑ اور علی وزیر نے انہیں فون کر کے کہا کہ دھرنا ختم نہ کیا جائے۔ انہوں نے کہا ہے کہ پاک فوج کی چیک پوسٹ پر حملہ افسوسناک ہے اور کسی کو بھی ریاست کی رٹ کو چیلنج کرنے نہیں دیں گے۔ لیفٹینٹ جنرل (ر) اکرام الحق نے بتایا ہے کہ محسن داوڑ اور علی وزیر کے ساتھیوں نے دھرنا دیا تھا اور دھرنا دینے والوں نے ایک مشتبہ شخص کی رہائی کے بدلے میں دھرنا ختم کرنے کا فیصلہ کر لیا تھا لیکن محسن داوڑ اور علی وزیر نے انہیں فون کر کے دھرنا ختم کرنے سے روک دیا۔ یاد رہے کہ 26 مئی کو علی وزیراور محسن داوڑ نے ساتھیوں کے ساتھ پاک فوج کی چیک پوسٹ پر میران شاہ میں حملہ کر دیا تھا اور مسلح حملہ آوروں نے پاک فوج کے جوانوں پر براہ راست فائرنگ کی تھی، جس سے ایک جوان شہید جبکہ 5زخمی ہو گئے تھے جس کے جواب میں پاک فوج نے فائرنگ کی، فائرنگ کے تبادلے 3 حملہ آور جاں بحق جبکہ 10 زخمی ہو گئے تھے۔ اس حوالے سے مراد سعید پہلے کہہ چکے ہیں کہ قومی اسمبلی کے ایک رکن نے فون کر کے دھرنے کے شرکاء کو دھرنا ختم کرنے سے روکا تھا اور حکومت کے پاس ویڈیو اور فون کال ریکارڈ بھی موجود ہے۔ اب سیکرٹری دفاع لفٹینٹ جنرل (ر) اکرام الحق نے پی ٹی ایم دھرنے اور پاک فوج کی چیک پوسٹ پر حملے کے حوالے سے کہاہے کہ دھرنا دینے والوں نے ایک شخص کی رہائی کے بدلے میں دھرنا ختم کرنے کا فیصلہ کر لیا تھا۔ انہوں نے بتایا ہے کہ دھرنا دینے والوں سے مذاکرات کامیاب ہو گئے اور انہوں نے دھرنہ ختم کرنے کا فیصلہ کر لیا تھا لیکن محسن داوڑ اور علی وزیر نے انہیں فون کر کے کہا کہ دھرنا ختم نہ کیا جائے۔
خبر کا کوڈ : 796757
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب