0
Tuesday 28 May 2019 23:03

قبائلی اضلاع، انصاف روزگار سکیم کی شرائط پر نظرثانی کی ضرورت

قبائلی اضلاع، انصاف روزگار سکیم کی شرائط پر نظرثانی کی ضرورت
اسلام ٹائمز۔ خیبرپختونخوا حکومت نے نئے ضم شدہ اضلاع میں غربت اور بے روزگاری کے خاتمے کیلئے انصاف روزگار سکیم کے نام سے قرضہ سکیم شروع کی ہے، جس کے مطابق اورکزئی، خیبر، کرم، مہمند اور کوہاٹ و پشاور کے نیم قبائلی علاقوں میں 15 اپریل سے جبکہ دیگر علاقوں میں 15 مئی سے قرضوں کی فراہمی کا آغاز کیا گیا ہے۔ قرضہ فراہم کرنے والے خیبر بینک کے مطابق قرضہ 18 تا 50 سال کی عمر کے اس قبائلی شخص کو دیا جائے گا، جس کے پاس قابل عمل اور منافع بخش کاروبار کا آئیڈیا ہو۔ انصاف روزگار سکیم کے تحت 50 ہزار سے لے کر 10 لاکھ روپے کا قرضہ دیا جائے گا، خیبربینک کے مطابق تعلیم یافتہ و ہنرمند افراد کو 10 لاکھ روپے تک، تکنیکی ماہرین کو 5 لاکھ اور دیگر روزگار کیلئے زیادہ سے زیادہ 3 لاکھ روپے تک کا قرضہ دیا جائے گا۔ علاوہ ازیں اگر کوئی پہلے سے موجود اپنا کاروبار مزید پھیلانا چاہے تو اسے بھی تین لاکھ روپے کا قرضہ فراہم کیا جائے گا۔ خیبربینک کے مائیکرو فنانس ڈٓویژن کے آفیسر رحمان خٹک کہتے ہیں کہ پہلے مرحلے میں انصاف روزگار سکیم کیلئے ایک ارب روپے مختص کیے گئے ہیں جس کا مقصد بدامنی اور فوجی آپریشنوں سے متاثرہ ان علاقوں سے غربت کا خاتمہ اور نوجوانوں کو روزگار کے مواقع فراہم کرنا ہے۔ واضح رہے کہ قبائلی علاقوں میں بدامنی کے باعث لاکھوں لوگوں کا روزگار و ذرائع آمدنی ختم ہوگئے ہیں، جو اب انتہائی کٹھن حالات میں شب و روز بسر کررہے ہیں۔ قبائلی ضلع کرم کے علاقے پاراچنار سے تعلق رکھنے والی 40 سالہ شازیہ بی بی بھی انہی لوگوں میں سے ایک ہیں۔
 
شازیہ بی بی کے شوہر چند سال قبل ایک لڑائی میں کام آئے، جس کے بعد وہی گھر کی واحد کفیل ہیں، سلائی کڑھائی کرکے جو اپنا اور اپنے گھر بار کی کفالت کررہی ہیں۔ ذرائع کے ساتھ گفتگو میں شازیہ بی بی کا کہنا تھا کہ سکیم کا پتہ چلا تو انہیں بڑی خوشی ہوئی کیونکہ وہ ایک عرصے سے اپنا کاروبار شروع کرنا چاہتی تھیں تاہم ان کے پاس سرمایے کی کمی تھی۔ انہوں نے کہا کہ میں ایک سلائی سنٹر کھولنا چاہتی ہوں جس میں سلائی وغیرہ کرکے نہ صرف اپنی ضرورت پوری کروں گی، بلکہ میری طرح کی دیگر مجبور خواتین کی تربیت بھی کروں گی۔ بقول شازیہ سنٹر کے قیام پر 10 سے 12 لاکھ روپے کی لاگت آئے گی اور اگر انصاف روزگار سکیم کے تحت حکومت انہیں یہ رقم فراہم کردیتی ہے تو ان کے سارے مسائل حل ہو جائیں گے۔ واضح رہے کہ شازیہ ایسی ہنرمندوں کیلئے پروگرام میں قرضے کی حد پانچ لاکھ روپے تک ہے تاہم شازیہ اس سے لاعلم ہیں۔ اسی طرح شمالی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے سماجی کارکن کامران خان کہتے ہیں کہ قبائلی علاقوں میں روزگار کے مواقع بہت ہیں اور لوگ ہنرمند بھی ہیں تاہم کمی صرف سرمایے کی ہے، اگر یہ قرضہ انہیں مل جائے تو مقامی معیشت پھلے پھولے گی اور بےروزگاری میں بھی کافی حد تک کمی آجائے گی۔ ذرائع کے ساتھ گفتگو میں کامران خان نے واضح کیا کہ شمالی وزیرستان میں بڑی بڑی نئی مارکیٹیں بنی ہیں لیکن دوکان کھولنے کیلئے لوگوں کے پاس سرمایہ نہیں جبکہ معدنیات کا شعبہ بھی کافی منافع بخش ثابت ہو سکتا ہے تاہم اصل مسئلہ پیسوں کی کمی کا ہے۔ انصاف روزگار سکیم کے تحت قرضے کے حصول کیلئے بعض شرائط بھی پوری کرنا ضروری ہیں، جن میں سرکاری حکام سمیت دو افراد کی جانب سے ضمانت اور زیادہ سے زیادہ 3 سال میں قرضہ لوٹانا شامل ہیں۔ قبائلی ضلع خیبر س تعلق رکھنے والے تعلیم یافتہ نوجوان محمد یونس کہتے ہیں کہ ان شرائط کا پورا کرنا قبائلی عوام کیلئے دشوار ہوگا۔ ذرائع کے ساتھ گفتگو میں محمد یونس کا کہنا تھا کہ تین سالوں میں قرضہ لوٹانا ناممکن ہے، باڑہ بازار کو کھلے 4 سال ہوگئے، تاہم بازار ابھی تک مکمل طور پر بحال نہیں ہوا اور دکانداروں کی اکثریت تاحال اس طرح کے منافع سے محروم ہے، سوچنے کا مقام یہ ہے کہ نئے کاروبار کیونکر ایسے جلدی چل پائیں گے اور قرضے لوٹا دیے جائیں گے۔ انہوں نے ضامن کی شرط میں سہولت کی فراہمی کا مطالبہ بھی کیا۔
خبر کا کوڈ : 796786
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب