0
Thursday 30 May 2019 01:26

اس سال کا "یوم القدس" گذشتہ تمام سالوں سے زیادہ اہم ہے، آیت اللہ سید علی خامنہ ای

اس سال کا "یوم القدس" گذشتہ تمام سالوں سے زیادہ اہم ہے، آیت اللہ سید علی خامنہ ای
اسلام ٹائمز۔ رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای نے ایران کے گوش و کنار سے آئے ہوئے سکولوں، کالجز اور یونیورسٹیز کے ہزاروں اساتذہ اور فیکلٹی ممبرز سے خطاب کرتے ہوئے یونیورسٹیز اور دوسرے علمی مراکز کی حقیقی پیشرفت کو سراہا اور امریکی "دباؤ کے ماحول میں مذاکرات" کی پالیسی کے مقابلے میں پوری قوم کے ہوشیار رہنے پر تاکید کرتے ہوئے کہا کہ اس سال کا یوم القدس گذشتہ تمام سالوں کے یوم القدس سے زیادہ اہم ہے، کیونکہ امریکہ اور اس کے بعض پٹھو "صدی کی ڈیل" کے ذریعے دنیا سے مسئلہ فلسطین کو ختم کرنا چاہتے ہیں کہ البتہ اس مقصد میں بھی ناکام رہیں گے۔ ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای نے کہا کہ اس مرتبہ یوم القدس کی کئی گنا زیادہ اہمیت کی وجہ امریکہ اور خطے میں موجود اُس کے پٹھوؤں کے خیانت کارانہ اقدامات ہیں، جن کے ذریعے وہ "صدی کی ڈیل" کو لاگو کرنا چاہتے ہیں۔

انہوں نے آج کے مسئلہ فلسطین کے اس کی ماضی کی صورتحال کے ساتھ واضح فرق کو امریکہ اور اس کے پٹھوؤں کے "مسئلہ فلسطین کو سرے سے ختم کر دینے" پر مشتمل واشگاف بیانات کو قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سال "یوم القدس" کی ریلیوں کی اہمیت، جو مسلم عوام کے میدان میں حاضر رہ کر فلسطین کے دفاع کرنے کے مترادف ہے، پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہے۔ آیت اللہ سید علی خامنہ ای نے زور دیتے ہوئے کہا کہ فلسطین کا دفاع کرنا صرف اسلامی لحاظ سے ہی ضروری نہیں بلکہ وجدانی اور انسانی بنیادوں پر بھی اہم ہے، جبکہ مسلمانوں کے لئے یہ مسئلہ شرعی اور دینی وظیفے کی حیثیت بھی رکھتا ہے۔ رہبر انقلاب اسلامی نے بین الاقوامی میڈیا پر مذاکرات کے شور شرابے کے حوالے سے کہا کہ ایران کو مذاکرات کی میز پر واپس لانے جیسے بیانات کے پیچھے ان کا مقصد ایران کو امریکہ کے ساتھ مذاکرات پر بٹھانا ہے، کیونکہ دنیا کے کسی اور ملک کے ساتھ ہمارا کوئی مسئلہ نہیں، جبکہ یورپی ممالک کے ساتھ ہم پہلے سے مذاکرات کر رہے ہیں۔

انہوں نے مذاکرات میں اصلی مسئلے کو "مذاکرات کے موضوع کو مشخص کرنا" قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہم ہر ایک موضوع پر مذاکرات نہیں کریں گے، کیونکہ "انقلاب اسلامی کے بنیادی موضوعات" جیسے ملکی صلاحیت وغیرہ کے موضوع پر مذاکرات نہیں ہوسکتے۔ انہوں نے اس بات کو واضح کرتے ہوئے کہ مذاکرات کا مطلب اپنے موقف کے بعض حصوں سے ہاتھ اٹھا لینا ہوتا ہے، کہا کہ دفاعی مسائل جیسے موضوعات مذاکرات کے قابل نہیں، کیونکہ ان مسائل میں ہونے والے مذاکرات صرف انہی دو جملے پر مشتمل ہوسکتے ہیں کہ دشمن ہم سے کہے کہ ہم ان مسائل میں یہ مطالبہ کرتے ہیں جبکہ اس صورت میں ہمارا جواب "نہ" ہی ہوسکتا ہے اور یوں مذاکرات ہی ختم ہو جائیں گے۔

انہوں نے اس بات پر دوبارہ تاکید کی کہ اسلامی جمہوریہ ایران امریکہ کے ساتھ مطلق طور پر مذاکرات نہیں کرے گا اور کہا کہ جیسا کہ پہلے بھی کئی مرتبہ کہا جا چکا ہے، امریکہ کے ساتھ مذاکرات نہ کرنے کی وجہ یہ ہے کہ اولاً تو اس کا کوئی فائدہ نہیں اور ثانیاً اس کے بہت سے نقصانات ہیں۔ رہبر انقلاب آیت اللہ سید علی خامنہ ای نے مختلف ممالک کے مقابلے میں امریکیوں کے اپنی غنڈہ گردی پر مبنی اہداف تک پہنچنے کے روییّے کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ امریکیوں کی عام طور پر اپنے مقاصد تک پہنچنے کے لئے ایک خاص حکمت عملی اور ایک خاص تکنیک ہوتی ہے۔ ان کی حکمت عملی مدمقابل کو "دباؤ" کے ذریعے تھکا دینا اور پھر "مذاکرات" کو اپنے "دباؤ" کی پالیسی کے تکمیل کنندہ عنصر کے طور پر استعمال کرکے اپنے مقاصد تک پہنچنا ہوتا ہے۔ آیت اللہ سید علی خامنہ ای نے کہا کہ یہ مذاکرات دراصل مذاکرات نہیں بلکہ ان کی "دباؤ کی پالیسی" کا پھل کاٹنا ہے، جبکہ امریکہ کے ساتھ مذاکرات کی میز پر بیٹھنا دشمن کے ان اہداف کو تکمیل تک پہنچانے کے مترادف ہے، جو وہ اپنی "دباؤ کی پالیسی" کے ذریعے حاصل نہیں کر پایا۔

انہوں نے دشمن کی اس چال کے مقابلے کا واحد رستہ امریکیوں کے مقابلے میں پریشر پوائنٹس کے استعمال کو قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر پریشر پوائنٹس کا صحیح استعمال کیا جائے تو امریکی دباؤ ختم ہو جائے گا یا بالکل کم رہ جائے گا، لیکن اگر قوم امریکیوں کی "مذاکرات کی دعوت" سے فریب کھا گئی اور اپنے پریشر پوائنٹس کا استعمال نہ کرسکی تو اس کا قطعی نتیجہ قوم کے اپنے رستے سے ہٹ کر دشمن کے مقابلے میں ہار جانا ہے۔ انہوں نے اسلامی جمہوریہ ایران کے پاس امریکی دباؤ کے مقابلے میں متعدد پریشر پوائنٹس کی موجودگی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ان کے پراپیگنڈے کے برعکس یہ پوائنٹس فوجی آپشنز نہیں ہیں، البتہ اگر ضرورت پڑی تو عسکری آپشنز بھی پوری طرح تیار ہیں۔
خبر کا کوڈ : 796993
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب