0
Friday 31 May 2019 22:03
آج کے معاشرے میں مسئلہ فلسطین کو زندہ رکھنا بھی بہت بڑا جہاد ہے

اسرائیل کی نابودی دور نہیں، بہت جلد قبلہ اول پر پرچم حق لہرائے گا، تحریکِ آزادی القدس

ایران ہی وہ واحد قوت ہے جس نے مسئلہ فلسطین کو مضبوط کیا
اسرائیل کی نابودی دور نہیں، بہت جلد قبلہ اول پر پرچم حق لہرائے گا، تحریکِ آزادی القدس
اسلام ٹائمز۔ غاصب صیہونی ریاست اسرائیل کی نابودی کا وقت دور نہیں، انشاء اللہ جلد قبلہ اول بیت المقدس پر پرچم حق لہرائے گا، مشرق وسطیٰ میں آنے والی بیداری کی لہر آزادی بیت المقدس پر ہی ختم ہوگی۔ ان خیالات کا اظہار مقررین نے تحریکِ آزادی القدس پاکستان کی جانب سے سی بریز تا تبت سینٹر نکالی جانیوالی ’’مرکزی آزادی القدس ریلی‘‘ میں تبت سینٹر پر منعقدہ جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ مقررین میں امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان کے مرکزی صدر قاسم شمسی، صدر شیعہ علماء کونسل سندھ علامہ ناظر عباس تقوی، مرکزی ڈپٹی سیکریٹری جنرل مجلس وحدت مسلمین مولانا احمد اقبال رضوی، رہنما ایم ڈبلیو ایم ناصر شیرازی، مولانا شہنشاہ حسین نقوی، رہنما جمعیت علمائے اسلام مولانا عقیل انجم شامل تھے۔ ریلی میں ہزاروں کی تعداد میں مرد و خواتین، بزرگوں اور بچوں نے کثیر تعداد میں شرکت کی اور امام خمینی (رہ) کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا کہ قبلہ اوّل بیت المقدس کی آزادی اور غاصب صیہونی ریاست اسرائیل کی نابودی تک صدائے احتجاج بلند کرتے رہیں گے۔ آزادی القدس ریلی سے خطاب کرتے ہوئے امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان کے مرکزی صدر قاسم شمسی نے کہا کہ وہ دن دور نہیں کہ جب یہ دنیا اسرائیل کے ناپاک وجود سے پاک ہوگی، اللہ کا وعدہ ہے کہ بیشک اللہ کا گروہ ہی غالب آنے والا ہے، ہم نے قرآن کی اس آیت کا مصداق  لبنان میں حزب اللہ اور فلسطین میں حماس کی کامیابی کی صورت میں دیکھ لیا ہے، امام خمینی (رہ) کی بدولت عالم اسلام آج اپنے اہم ترین مسئلے یعنی بیت المقدس کی آزادی کی طرف پلٹ چکا ہے اور انشاءاللہ امت مسلمہ رہبر معظم آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی با بصیرت قیادت میں بیت المقدس کو صیہونی قبضے سے نجات دلائے گی۔

انہوں نے صدی کی ڈیل کے نام پر اسرائیل کو مزید مستحکم کرنے اور فلسطین کے رہے سہے حقوق کو سلب کرنے کی شدید مذمت کی اور کہا کہ امریکی صدر امریکی عوام کے نہیں صہیونیوں کے صدر ہیں۔ انہوں نے ایران کے خلاف جنگی ماحول پیدا کرنے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ امریکی صدر ایران سے جنگ چاہتے ہیں جبکہ امریکی عوام تک اس جنگ کے مخالف ہے۔ صوبائی صدر شیعہ علماء کونسل علامہ ناظر عباس تقوی نے شرکاء ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مسئلہ فلسطین عالم اسلام کا عظیم ترین مسئلہ ہے، جس کو آج کے معاشرے میں زندہ رکھنا بھی بہت بڑا جہاد ہے، بہت جلد امت مسلمہ اپنے اتحاد سے عالمی استعمار کے عزائم کو خاک میں ملا دے گی۔ انہوں نے کہا کہ آج یمن شام و عراق اور سوڈان میں جو کچھ ہورہا ہے اس کے پیچھے صہیونی سازش ہے۔ مولانا عقیل انجم نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ غاصب صیہونی ریاست اسرائیل مسجد اقصیٰ کو منہدم کرکے وہاں پر ہیکل سلیمانی بنانے کا منصوبہ بنا رہی ہے، جبکہ مسلسل غزہ پر اسرائیل کی جارحیت جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کی واضح مثال سعودی عرب میں ایران کے خلاف جنگ کا ماحول بنانے کے لئے تین بڑی کانفرنس طلب کی گئی جن کا ہدف اسرائیل نہیں ایران ہے، کیونکہ ایران ہی وہ واحد قوت ہے جس نے مسئلہ فلسطین کو مضبوط کیا۔ ناصر شیرازی نے خطاب کرتے ہوئے کہا ہم کسی صورت اسرائیل کو تسلیم نہیں ہونے دیں گے، آخر کیوں اسرائیلی درندگی پر اقوام متحدہ اور نام نہاد انسانی حقوق کی دعویدار تنظیمیں خاموش ہیں، آئے دن نہ جانے کتنے بچے یتیم اور نہ جانے کتنے والدین بے اولاد ہوجاتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ امام خمینی (رہ) کی بابصیرت قیادت نے اس اہم مسئلے کو اتنی اہمیت دی کہ آج دنیا بھر میں یوم القدس منایا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے عوام نے ہمیشہ غاصب صیہونی ریاست اسرائیل کی مخالفت اور فلسطینیوں کے مؤقف کی حمایت کی ہے اور ہر فورم میں ان کے حق میں آواز بلند کی ہے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آج مکہ میں اسلامی ممالک کی کانفرنس کی بلاکر صہیونی سازش کو مزید مستحکم کرنے کی کوشیش کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج مسلمان انتشار کا شکار ہیں، مسلم امہ کو غیرت کا ثبوت دیتے ہوئے مسئلہ فلسطین پر یکجاء ہونے کی ضرورت ہے۔ مقررین نے شرکاء سے مزید خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو امریکی کالونی بنانے کا منصوبہ فی الفور ترک کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل کو تسلیم کرنے کی باتیں قابل مذمت ہیں، ہم پاکستانی عوام فلسطینی مظلومین کے خون کا سودا نہیں کریں گے، پاکستان اسرائیل کو کبھی تسلیم نہیں کرے گا۔ ریلی کے اختتام پر قراردادیں ترجمان تحریکِ آزادی القدس پاکستان نے پیش کیں جبکہ شرکاء نے امریکہ اور اسرائیل کے پرچم بھی نذر آتش کئے۔
خبر کا کوڈ : 797297
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے