2
Sunday 2 Jun 2019 02:18

ایران کا وہ خفیہ اسلحہ جس نے ٹرمپ جیسے امریکی صدر کو بھی لگام دیدی!

ایران کا وہ خفیہ اسلحہ جس نے ٹرمپ جیسے امریکی صدر کو بھی لگام دیدی!
اسلام ٹائمز۔ لبنانی اخبار "البناء" نے ہفتے کے روز اپنے ایک کالم میں امریکہ کے مقابلے میں ایران کے اس اہم ترین اسلحے کے بارے میں لکھا ہے، جس نے ڈونلڈ ٹرمپ جیسے امریکی صدر کو بھی لگام دے دی ہے۔ "البناء" نے لکھا ہے کہ بہت سے لوگ ایران کے اس خفیہ اسلحے کے بارے سوال کرتے ہیں، جسے ایرانی انقلابی گارڈز "سپاہ پاسداران" امریکی دیو کے دانت کھٹے کرکے اسے میدان سے بھاگنے پر مجبور کر دیتے ہیں۔ وہ اسلحہ کیا ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ ایران کے پاس دو قسم کے خفیہ اسلحے موجود ہیں۔ ایک قسم کا ایرانی اسلحہ وہ ہے، جو جنگ کی آگ بھڑکنے تک خفیہ ہی رہے گا اور ایران کا دوسری قسم کا اسلحہ تمام بڑی طاقتوں کا جانا پہچانا ہے، جبکہ ایران نے اپنے یہ دونوں قسم کے اسلحے اپنی قومی تگ و دو کے ذریعے حاصل کئے ہیں۔

لبنانی اخبار نے لکھا کہ ایران کا وہ اسلحہ جسے تقریبا تمام بڑی طاقتیں جانتی اور پہچانتی ہیں AD اور A2 ہے۔ AD سے مراد Area Denial جبکہ A2 سے مراد Anti Access/Area Denial ہے۔دوسری قسم کے ان دونوں اسلحوں کا معنی "خطے میں داخلہ ممنوع ہونا" ہے۔ سادہ الفاظ میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ اسلحہ "سائبر وار" کے سسٹمز پر مبنی ہے، جو دشمن کے سسٹمز میں صرف اختلال و رکاوٹ ہی پیدا نہیں کرتے بلکہ دشمن کے سارے کے سارے نظام کو تباہ کرنے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں جبکہ ترقی یافتہ ممالک میں ان سسٹمز کو مختلف ناموں سے پکارا جاتا ہے۔ ایران کی طرف سے ان سسٹمز کے استعمال کی ایک مثال امریکی جدید ترین ڈرون RQ-170 کو ایران کی طرف سے مکمل طور پر کنٹرول کرکے بحفاظت اپنی سرزمین پر لینڈ کروا لینے کا واقعہ ہے۔

اس سسٹم کے استعمال کی ایک اور مثال 2014ء میں روس کی طرف سے بحر اسود میں موجود امریکی بحری بیڑے Donald Crook پر اپنے Sukhoi-Su24 بمبار طیاروں کے ذریعے الیکٹرانک حملہ کرنے کا واقعہ ہے، جب روس نے اپنے "سائبر اسلحے" کے ذریعے امریکی بحری بیڑے Donald Crook کے نہ صرف "قبل از وقت خبردار کرنے کے" اور "میزائل فائر کرنے کے" سسٹمز کو بےکار کر دیا تھا بلکہ اس کے دوسرے تمامتر سسٹمز بھی جام ہو کر رہ گئے تھے اور Donald Crook پر موجود عملے کے 27 افراد نے فوری طور پر اپنے مشن کو "کینسل" کرنے کی درخواست دیدی تھی۔ اس کے بعد اسی طرح کا ایک اور واقعہ امریکی ریاست "الاسکا" میں بھی پیش آیا تھا، جب روسی بمبار طیاروں نے امریکی "اینٹی ایئر کرافٹ سسٹم NOARD" (North American Aerospace Defence Command) کو اپنے "سائبر" حملے کا نشانہ بنایا تھا، جس کے نتیجے میں روسی طیاروں کی پرواز کے دوران کوئی ایک امریکی جنگی جہاز اپنی جگہ سے ہل بھی نہ پایا تھا۔

لبنانی اخبار "البناء" نے مزید لکھا کہ جی ہاں! اسی ایرانی اسلحے کے سبب کہ جس کے بارے امریکی یقین رکھتے ہیں کہ یہ روسی طرز کا اسلحہ ہے، ٹرمپ کو ہوش کے ناخن لینا پڑے اور ان کو اپنی گیدڑ بھبکیاں بھول گئیں اور یوں انہوں نے جنگ کے لئے اپنی B ٹیم کی طرف سے ملنے والی بھاری بھرکم پیشکشوں سے ہاتھ اٹھا لیا۔ علاوہ ازیں امریکی جاسوس ایجنسیاں ایرانی جنگی آپشنز کے بارے میں بہت دقیق علم بھی رکھتی ہیں جنکہ ان ایجنسیوں نے امریکی صدر ٹرمپ کو صاف الفاظ میں کہہ دیا تھا کہ ایران پر کیا جانے والا کسی بھی قسم کا حملہ اس بات کا سبب بنے گا کہ ایران اپنی تمامتر طاقت کے ساتھ "سائبر وار" میں کود پڑے۔

جس کے نتیجے میں وہ اپنے اسی اسلحے کو استعمال کرتے ہوئے "خلیج عمان" سے لے کر "اوقیانوس ہند" تک "خلیج فارس" کے آس پاس کے ممالک میں موجود تمام امریکی بحری بیڑوں کو نشانہ بنا کر تباہ کرسکتا ہے اور یوں خطے میں موجود تمامتر امریکی "ارتباطی" اور "کمانڈ اینڈ کنٹرول" سسٹمز بھی تباہ ہو جائیں گے۔ امریکی حکومت کو اپنی انٹیلیجنس ایجنسیز سے ملنے والی رپورٹس کے مطابق امریکہ کی طرف سے ایران پر کئے گئے کسی بھی لیول کے حملے کا ایرانی فوجی تنصیبات پر کوئی اثر بھی نہیں ہوگا، کیونکہ ایرانی فوجی و غیر فوجی اسٹریٹجک تنصیبات کی دیوہیکل "الیکٹرومقناطیسی" گنبد کے ذریعے حفاظت کی جاتی ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ میں پڑنا امریکہ کو انتہائی سنگین نقصانات سے دچار کر دے گا۔
خبر کا کوڈ : 797496
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے