0
Sunday 9 Jun 2019 20:46

فوج کے دفاعی بجٹ میں کمی کا بڑا فائدہ قبائلی اضلاع کو ہوگا، تیمور سلیم جھگڑا

فوج کے دفاعی بجٹ میں کمی کا بڑا فائدہ قبائلی اضلاع کو ہوگا، تیمور سلیم جھگڑا
اسلام ٹائمز۔ وزیر خزانہ خیبر پختونخوا تیمور سلیم جھگڑا نے کہا ہے کہ صوبے کے آئندہ مالی سال برائے 20- 2019 کے بجٹ کا حجم 800 ارب روپے کے لگ بھگ ہوگا جس میں قبائلی اضلاع کے علاوہ صوبے کا بجٹ 650 ارب روپے سے زائد ہوگا جبکہ بقایا 150 ارب روپے قبائلی اضلاع میں خرچ ہوں گے۔ انڈپینڈنٹ اردو’ کے ساتھ انٹرویو میں وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ فوج کی جانب سے دفاعی بجٹ میں اضافہ نہ لینے سے بچنے والی رقم کا کتنا حصہ صوبے کو ملے گا، میں اس کی تفصیلات آپ کو نہیں دے سکتا لیکن یہ کہہ سکتا ہوں کہ اس کا ان قبائلی اضلاع پر بہت ہی اچھا اثر پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہماری مجموعی منصوبہ بندی، کوششوں اور آرمی شیئر کی وجہ سے سابقہ  فاٹا کے لیے آنے والا سال ایسا ہوگا کہ جس کی مثال نہیں مل سکے گی، رواں سال یا اس سے پچھلے سالوں میں فاٹا میں جو پیسے لگتے رہے ہیں اس سے دگنے اس اگلے سال میں لگیں گے۔ تیمور جھگڑا صوبے میں وزیر خزانہ بننے سے پہلے بیرون ملک مختلف بڑی بین الاقوامی کمپنیوں کا حصہ رہے ہیں اور ان کے اسی تجربے کی بنیاد پر انہیں اس صوبے کی مالی اصلاحات کا کام سونپا گیا تھا۔ وہ سابق صدر مرحوم غلام اسحاق خان کے پوتے ہیں اور انہوں نے لندن سے ایم بی اے کی سند حاصل کر رکھی ہے۔ تیمور سلیم جھگڑا سے سوال پوچھاگیا کہ یہ جو ریکارڈ رقم آ رہی ہے اس سے قبائلی اضلاع میں سب سے پہلے کون سا کام کریں گے؟ اسکے جواب میں تیمور سلیم جھگڑا نے بتایا کہ 2 یا 3 کام ہماری نظر میں ہیں، جو فوری کریں گے۔ وہاں پر چونکہ نجی معیشت نہیں ہے، تو جہاں پر خلا ہیں، وہاں پر لوگوں کو نوکریاں دیں گے۔ تعلیم، صحت، پولیس اور دیگر شعبوں میں 17 ہزار نوکریاں دینے کے عمل کا آغاز ہو چکا ہے۔ دوسرا یہ کہ ہم سماجی شعبے میں سرمایہ کاری کریں گے، معیشت کو سہارا دینے کے لئے سرمایہ لگائیں گے، جیسے سڑکیں بنانا، بجلی پہنچانا تاکہ ان کی معیشت جب بہتر ہو تو پورا پاکستان وہاں آ سکے۔
خبر کا کوڈ : 798579
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے