0
Tuesday 11 Jun 2019 17:28

بحیرہ عرب میں بننے والا سمندری طوفان کراچی سے 11 سو کلومیٹر دور رہ گیا

بحیرہ عرب میں بننے والا سمندری طوفان کراچی سے 11 سو کلومیٹر دور رہ گیا
اسلام ٹائمز۔ بحیرہ عرب میں بننے والا سمندری طوفان کراچی سے 11 سو کلومیٹر دور رہ گیا، محکمہ موسمیات کی جانب سے سمندری طوفان کے باعث کراچی میں 3 روزہ ہیٹ ویو کی پیش گوئی کی گئی ہے۔ کراچی سے 1100 کلومیٹر دور جنوبی بحیرہ عرب میں ہوا کا شدید کم دباو سمندری طوفان میں تبدیل ہو گیا ہے جو کہ اگلے 24 گھنٹوں میں انتہائی طاقتور سائیکلون میں تبدیل ہوجائے گا۔ سمندری طوفان کو بھارتی محکمہ موسمیات نے وائیو (Vayu) کا نام دیا ہے جس کا مطلب”ہوا“ ہے۔ محکمہ موسمیات کے ٹراپیکل سائیکلون وارننگ سینٹر کے مطابق سمندری طوفان کراچی سے 1100 کلومیٹر دور مشرقی بحیرہ عرب میں موجود ہے۔ محکمہ موسمیات کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ سمندری طوفان وائیو بھارتی ریاست گجرات اور رن آف کچھ کے علاقوں میں شدید بارشیں برسائے گا لیکن اس کے زیر اثر سر سندھ کے ساحلی علاقوں ٹھٹھہ، بدین اور تھرپارکر میں آندھی کے ساتھ شدید بارشیں متوقع ہیں۔ اہلِ کراچی کے لیے بری خبر یہ ہے کہ سمندری طوفان وائیو کی وجہ سے کراچی میں جمعرات سے لے کر ہفتے تک ہیٹ ویو آنے کا خدشہ ہے۔ ڈائریکٹر میٹ کراچی سردار سرفراز کا کہنا ہے کہ سمندری طوفان وائیو کے زیرِ اثر سندھ کے ساحلی علاقوں ٹھٹھہ، بدین اور اور تھر پارکر میں جمعرات اور جمعے کو درمیانی اور شدید بارشیں متوقع ہیں جبکہ کراچی میں جمعرات سے لے کر ہفتے تک موسم شدید گرم رہے گا۔

ان کا کہنا ہے کہ اس دوران کراچی میں درجہ حرارت 40 سے اوپر جا سکتا ہے جبکہ ہوا میں نمی میں کا تناسب 70 فیصد سے زیادہ ہونے سے گرمی کی شدت بہت زیادہ محسوس کی جائے گی۔ محکمہ موسمیات کے ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ سمندری طوفان یا سائیکلون ممکنہ طور پر بھارتی گجرات کے ساحلوں سے ٹکراتا ہوا نظر آ رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ محکمہ موسمیات اس طوفان پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور جیسے ہی سائیکلون نزدیک آئے گا تمام متعلقہ اداروں اور عوام کو اس کے متعلق آگاہ کردیا جائے گا۔ ماہرینِ ماحولیات کا کہنا ہے کہ بحیرہ عرب میں مئی اور جون کے مہینوں میں سمندری طوفان بننے کے امکانات ہوتے ہیں جب کہ مون سون کے موسم کے بعد ستمبر اور اکتوبر کے مہینوں میں بھی سمندری طوفان بن سکتے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگرچہ ان دنوں سمندری طوفان بننے کی شرح کم ہوتی جا رہی ہے لیکن اب جو بھی طوفان بنیں گے ان کی شدت اور تباہی پھیلانے کی صلاحیت ماضی کے مقابلے میں زیادہ ہوگی۔
خبر کا کوڈ : 798978
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے