0
Tuesday 11 Jun 2019 20:48

70 کھرب 22 ارب روپے کا خسارے کا بجٹ پیش, 11 کھرب روپے کے نئے ٹیکس عائد

70 کھرب 22 ارب روپے کا خسارے کا بجٹ پیش, 11 کھرب روپے کے نئے ٹیکس عائد
اسلام ٹائمز۔ وفاقی حکومت نے مالی سال 20-2019ء کیلئے  70 کھرب 22 ارب روپے کا خسارے کا بجٹ پیش کر دیا ہے، گریڈ 1 سے 16 تک کے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں 10 فیصد اضافہ جبکہ وزراء کی تنخواہوں میں دس فیصد کمی کر دی گئی، سگریٹ، سیمنٹ، گاڑیاں، گھی، گیس اور چینی سمیت کئی چیزوں پر 11 کھرب روپے کے نئے ٹیکس عائد کیے گئے ہیں، تنخواہ دار طبقے کے لیے قابل ٹیکس سالانہ آمدن چھ لاکھ روپے کرنے کی تجویز دی گئی، تنخواہ دار طبقے کے لیے چھ لاکھ روپے سالانہ سے کم آمدن ٹیکس سے مستثنیٰ ہوگی۔ چھ لاکھ سے زائد سالانہ آمدن والے تنخواہ دار طبقے پر چھ سلیبز میں 5 فیصد سے 35 فیصد تک انکم ٹیکس عائد ہوگا۔ پہلے یہ ٹیکس 12 لاکھ روپے سالانہ آمدن والے تنخواہ دار طبقے پر لاگو تھا۔

بجٹ کے اہم نکات
بجٹ کا کُل تخمینہ 7022 ارب روپے۔
گریڈ ایک سے 16 تک کے تمام سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 10 فیصد ایڈہاک اضافے کی تجویز۔
11 کھرب روپے کے نئے ٹیکس عائد
گریڈ 21 اور 22 کے سول ملازمین کی تنخواہوں میں کوئی اضافہ نہیں۔
ریٹائرڈ ملازمین کی پینشن میں بھی 10 دس فیصد اضافہ۔
ملک میں کم سے کم تنخواہ 17500 روپے کرنے کی تجویز۔
بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کا وظیفہ 5 ہزار روپے سے بڑھا کر 5500 روپے کر دیا گیا۔
دفاعی بجٹ 1150 ارب روپے برقرار رہے گا۔
کراچی کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 45.5 ارب روپے تجویز۔
قومی ترقیاتی پروگرام کے لیے 18 کھرب روپے مختص کرنے کی تجویز۔
اعلیٰ تعلیم کے لیے 45 ارب روپے روپے مختص۔
سیمنٹ کی فی بوری پر 2 روپے فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی عائد۔
وزیراعظم سمیت وفاقی کابینہ کا تنخواہوں میں 10 فیصد کمی کا فیصلہ۔
چینی، کوکنگ آئل، گھی، مشروبات، سگریٹ اور سی این جی مہنگی۔
وفاقی بجٹ کا خسارہ 35 کھرب 60 ارب روپے رکھا گیا۔

وفاقی محصولات مجموعی طور پر 6717 ارب روپے ہوں گے، جو پچھلے سال سے 19 فیصد زیادہ ہیں۔
سول بجٹ 460 ارب روپے سے کم کرکے 437 ارب روپے۔
ایف بی آر نے اس سال ٹیکس وصولی کا ہدف 5550 ارب روپے رکھا ہے۔
ساتویں این ایف سی ایوارڈ کے تحت صوبوں میں 3255 ارب روپے تقسیم کیے جائیں گے، جو پچھلے سال کی نسبت 32 فیصد زیادہ ہیں۔
نیٹ وفاقی ذخائر 3462 ارب تک پہنچ جائیں گے، جو کہ پچھلے سال کی نسبت 13 فیصد زیادہ ہیں۔
معذور ملازمین کا اسپیشل کنوینس الاؤنس 1 ہزار سے بڑھا کر 2 ہزار کر دیا گیا۔
بلین ٹری سونامی پروگرام کیلئے 7 ارب روپے مختص۔
گلگت بلتستان میں گندم پر سبسڈی کی مد میں 6 ارب 4 کروڑ روپے مختص ہونگے۔

وزیر مملکت برائے ریونیو حماد اظہر نے قومی اسمبلی میں تحریک انصاف کی حکومت کا پہلا مکمل بجٹ پیش کر دیا۔ حماد اظہر نے مالی سال 20-2019 کا بجٹ پیش کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کی قیادت میں ایک نئے سفر کا آغاز ہوا ہے، تحریک انصاف نئی سوچ، نیا عزم اور ایک نیا پاکستان لائی ہے، پاکستان کے لوگوں کی مرضی ہمیں یہاں لائی ہے، اب وقت ہے لوگوں کی زندگی بدلنے کا، اداروں میں میرٹ لانے کا اور کرپشن ختم کرنے کا۔ انہوں نے کہا کہ ہم سب اس ملک اور آئین کے محافظ ہیں، اس حکومت کے منتخب ہوتے وقت پائی جانے والی معاشی صورتحال کو یاد کریں اور کچھ حقائق بتانے کی اجازت دیں۔ وفاقی حکومت نے سالانہ بجٹ میں کوکنگ آئل، گھی، چینی، مشروبات، سگریٹ، سی این جی، ایل این جی، سیمنٹ اور گاڑیوں پر عائد ٹیکسز کی شرح میں اضافہ تجویز کیا ہے۔

نان فائلرز کے جائیداد خریدنے پر پابندی ختم کرنے کی تجویز
وزیر مملکت برائے ریوینو نے کہا کہ گذشتہ حکومت نے یہ پابندی عائد کی تھی کہ کسی نان فائلر (ٹیکس گوشوارے جمع نہ کرانے والے) کے نام پر 50 لاکھ روپے سے زائد کی جائیداد کو رجسٹر یا ٹرانسفر نہیں کیا جاسکتا، تاہم یہ بات مشاہدے میں آئی کہ جائیداد کی خریداری پر اس پابندی کے مطلوبہ نتائج سامنے نہیں آئے۔ انہوں نے کہا کہ اس اقدام کو عدالت میں بھی چیلنج کر دیا گیا ہے، لہٰذا نان فائلر کیلئے غیر منقولہ جائیداد کی خریداری پر عائد یہ پابندی ختم کرنے کی تجویز ہے۔

کراچی پیکج
وزیر مملکت برائے ریوینیو حماد اظہر کا کہنا تھا کہ کراچی کے 9 ترقیاتی منصوبوں کے لیے 45.5 ارب روپے تجویز کئے گئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا میں ضم ہونے والے قبائلی علاقوں کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے 152 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔

سابقہ فاٹا کی ترقی کیلئے خصوصی پیکج
وفاقی بجٹ میں یہ تجویز پیش کی گئی کہ وفاقی حکومت خیبر پختونخوا میں ضم ہونے والے قبائلی اضلاع کے جاری اور ترقیاتی اخراجات کیلئے 152 ارب روپے فراہم کرے گی۔ اس میں 10 سالہ ترقیاتی منصوبہ بھی شامل ہے، جس کیلئے وفاقی حکومت 48 ارب روپے دے گی۔ یہ 10 سالہ پیکج ایک کھرب روپے کا حصہ ہے، جو وفاقی اور صوبائی حکومتیں مہیا کریں گی۔ سابقہ قبائلی علاقوں کیلئے یہ تجویز بھی دی گئی ہے کہ خام مال اور پلانٹ و مشینری کی امپورٹ پر ٹیکس استثنیٰ کو ان علاقوں تک وسعت دی جائے۔ سابقہ فاٹا اور پاٹا میں تمام گھریلو اور کاروباری صارفین اور 31 مئی 2018ء سے پہلے قائم ہونے والی صنعتوں کو بجلی کی فراہمی پر سیلز ٹیکس پر استثنیٰ دینے کی تجویز ہے، اس استثنیٰ کا اطلاق ان علاقوں میں واقع اسٹیل ملوں اور گھی ملز پر نہیں ہوگا۔

انسداد کرپشن مہم
حماد اظہر کا کہنا تھا کہ منی لانڈرنگ ایک لعنت ہے، جس سے ملک کی بدنامی ہوتی ہے اور معیشت کو بھی نقصان پہنچتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹریڈ بیس منی لانڈرنگ کے خاتمے کے لیے نیا نظام تجویز کیا جا رہا ہے، مرکزی بینک کو افراط زر کو قابو میں رکھنے کے لیے مانیٹری پالیسی بنانے کے لیے وسیع تر خود مختاری دی جا رہی ہے۔

کامیاب جوان پروگرام
وزیر مملکت نے بتایا کہ کامیاب جوان پروگرام کے تحت 100 ارب تک کے سستے قرض دیئے جائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ صنعتی شعبے میں روزگار کے مواقع بڑھانے کے لیے مراعات دے رہے ہیں، جبکہ بجلی اور گیس کے لیے 40 ارب روپے کی سبسبڈی، برآمدی شعبے کے لیے 40 ارب روپے کا پیکج، لانگ ٹرم ٹریڈ فنانسگ کی سہولت برقرار رکھی جائے گی۔ وزیر مملکت کا کہنا تھا کہ روزگار پیدا کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے، وزیراعظم کے 50 لاکھ گھروں کے پروگرام سے 28 صنعتوں کو فائدہ ہوگا۔ انہوں نے بتایا کہ سستے گھروں کی تعمیر کے پروگرام کے لیے لاہور، کوئٹہ، پشاور اور اسلام آباد میں زمین لے لی گئی ہے، جس کے لیے سرمایہ کاری کے انتظامات کر رہے ہیں، یہ سلسلہ ملک بھر میں پھیلے گا، اس سے معیشت کا پہیہ چلے گا۔ حماد اظہر نے کہا کہ پہلے مرحلے میں پنڈی اور اسلام آباد کے 25 اور بلوچستان میں ایک لاکھ 10 ہزار ہائوسنگ یونٹ کا افتتاح کر دیا گیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ زرعی ٹیوب ویل پر 6.85 روپے فی یونٹ کے حساب سے رعایتی نرخ پر بجلی فراہم کی جائے گی۔ حماد اظہر نے کہا کہ ایل این جی سے چلنے والے دو بجلی گھروں اور چند چھوٹے اداروں کی نجکاری کی جائے گی، جس سے 2 ارب ڈالر جمع ہوں گے۔ وزیر مملکت نے بتایا کہ ٹیکس وصولیوں کا کل حجم 58 کھرب 22 ارب 20 کروڑ روپے رکھا گیا ہے جبکہ ایف بی آر کا ٹیکس وصولیوں کا ہدف 55 کھرب 50 ارب روپے رکھا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ متفرق ٹیکسز کا ہدف 26 کھرب 7 ارب 20 کروڑ روپے اور نان ٹیکس ریونیو کا ہدف 89 ارب 4 کروڑ 50 کروڑ روپے رکھا گیا ہے۔ ان کا بتانا تھا کہ بیرونی ذرائع سے حاصل ہونے والی وصولیوں کا ہدف 18 کھرب 28 ارب 80 کروڑ روپے رکھا گیا ہے۔ حماد اظہر نے بتایا کہ رواں برس قومی ترقیاتی پروگرام کے لیے 1800 ارب تجویز کئے گئے ہیں، جس میں سے 950 ارب روپے وفاقی ترقیاتی پروگرام کے لیے مختص ہوں گے۔ انہوں نے بتایا کہ دیامیر بھاشا ڈیم کی زمین حاصل کرنے کے لیے 30 ارب روپے اور مہمند ڈیم کے لیے 15 ارب تجویز کیے جا رہے ہیں۔ داسو ڈیم کے لیے 55 ارب رکھے جا رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ سڑک اور ریل کے کچھ منصوبے سی پیک کا حصہ ہیں، اس غرض سے 200 ارب تجویز کیے گئے ہیں، جن میں سے 156 ارب نیشنل ہائی وے سے خرچ ہوں گے۔ وزیر مملکت نے بتایا کہ ترقیاتی بجٹ میں صحت، غذائیت اور پینے کے صاف پانی کے حصول کے پروگرام کے لیے 93 ارب روپے مختص کئے جا رہے ہیں، جبکہ انسانی ترقی کے لیے 60 ارب اور اعلیٰ تعلیم کے لیے 45 ارب روپے کا ریکارڈ فنڈ رکھا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ توانائی کے حوالے سے 80 ارب روپے تجویز کر رہے ہیں، وفاقی ترقیاتی پروگرام میں زراعت کے لیے 12 ارب روپے رکھے جا رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان کی ترقی کے لیے 10.4 ارب روپے سے کوئٹہ پیکج کے دوسرے مرحلے کا آغاز کر رہے ہیں۔ وفاقی وزیر مملکت نے بتایا کہ کم سے کم تنخواہ 17500 روپے مقرر کی گئی ہے، جبکہ گریڈ ایک سے 16 تک کے تمام سرکاری ملازمین کو بنیادی تنخواہ پر 10 فیصد ایڈہاک ریلیف دیا جائے گا، پاک فوج کے ملازمین کی تنخواہوں میں 2017 کے ایڈہاک کے تحت 10 فیصد اضافے کا فیصلہ کیا گیا ہے جبکہ گریڈ 17 اور 22 کے سول ملازمین کی تنخواہوں میں کوئی اضافہ نہیں ہوگا۔ حماد اظہر کا کہنا تھا کہ کابینہ کے تمام وزراء نے رضاکارانہ طور پر اپنی تنخواہوں میں 10 فیصد کمی کا تاریخی فیصلہ کیا ہے۔
خبر کا کوڈ : 799015
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے