0
Wednesday 12 Jun 2019 09:26

عالمی برادری مقبوضہ کشمیر میں حقوق انسانی کی پامالیوں کا نوٹس لے، مسعود خان

عالمی برادری مقبوضہ کشمیر میں حقوق انسانی کی پامالیوں کا نوٹس لے، مسعود خان
اسلام ٹائمز۔ آزادکشمیر کے صدر سردار مسعود خان نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی سے کہا ہے کہ وہ حقائق سے نظریں چرانے کے بجائے کشمیر کے حوالے سے نوشتہ دیوار پڑھ کر اس دیرینہ تنازعہ کے حل کے لیے بات چیت کا راستہ اختیار کریں۔ تنازع کشمیر اور کشمیری عوام کے حق خودارادیت کی جدوجہد ایک تاریخی حقیقت ہے، بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی کی مالدیپ کی پارلیمان سے خطاب کے دوران جموں و کشمیر کے تحریک آزادی کو دہشت گردی سے جوڑنے کی کوشش کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے صدر سردار مسعود خان نے کہا کہ جموں و کشمیر کے عوام 27 اکتوبر 1947ء سے بھارت کے خلاف جدوجہد کر رہے ہیں جب بھارت نے اپنی فوجیں کشمیر میں اُتار کر فوجی قبضہ کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں پانچ لاکھ سے زیادہ کشمیریوں کا خون اور بھارت کی آٹھ لاکھ فوج کی موجودگی اس بات کا ثبوت ہے کہ جموں و کشمیر کے عوام ایک جارح ملک کی قابض فوج کے خلاف اپنی آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں جس کا دہشت گردی یا انتہا پسندی سے دور کا بھی کوئی تعلق نہیں ہے۔

صدر آزادکشمیر نے تنازع کشمیر کو کشمیری عوام کے جائز اور بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حق خودارادیت سے مسلسل بھارتی انکار کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس تنازع کو عدل و انصاف، بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کی روشنی میں کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق حل کئے بغیر جنوبی ایشیاء میں امن و سلامتی کو یقینی نہیں بنایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے اقوام متحدہ، برطانیہ، امریکہ، فرانس، روس اور چین سے مطالبہ کیا کہ وہ جنوب ایشیائی خطہ میں امن کو یقینی بنانے کے لیے سیاسی و سفارتی کوششوں سے تنازع کشمیر کو حل کرائیں۔

سردار مسعود خان نے کہا کہ بھارت کے تمام تر مظالم اور جبر و استبداد کے باوجود جموں و کشمیر کے حریت پسند عوام اپنی تحریک آزادی کو کامیابی تک جاری و ساری رکھنے کے لیے پرعزم ہیں اور دنیا کی کوئی طاقت اُنہیں اس جائز اور منصفانہ جدوجہد سے نہیں روک سکتی۔ صدر آزاد کشمیر نے حریت کے ایک اہم رہنما مسرت عالم کی مسلسل بھارتی انسوسٹی گیشن ایجنسی کی حراست میں رکھنے کی بھی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اُن سمیت تمام سیاسی رہنماؤں اور کارکنوں کی فوری اور غیر مشروط رہائی کا مطالبہ کیا۔ اُنہوں نے کہا کہ سیاسی رہنماؤں اور کارکنوں کو جھوٹے اور بے بنیاد الزامات میں طویل عرصہ تک بغیر مقدمہ چلائے جیلوں اور ٹارچر سیلوں میں رکھنا بد ترین سیاسی انتقام اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ اُنہوں نے انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں سے مطالبہ کیا کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں حقوق انسانی کی پامالیوں کا سخت نوٹس لیں۔
خبر کا کوڈ : 799066
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے