0
Thursday 13 Jun 2019 00:29

کٹھوعہ آبروریزی و قتل کیس، فیصلہ پر سیاسی، سماجی اور مذہبی جماعتوں کا اظہار اطمینان

کٹھوعہ آبروریزی و قتل کیس، فیصلہ پر سیاسی، سماجی اور مذہبی جماعتوں کا اظہار اطمینان
اسلام ٹائمز۔ جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس کی خواتین ونگ، عوامی نیشنل کانفرنس، جمعیت ہمدانیہ اور انجمن علماء و آئمہ مساجد نے رسانہ آبرو ریزی و قتل کیس کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لئے پولیس اور عدلیہ کے رول کو سراہا ہے۔ نیشنل کانفرنس خواتین ونگ کی ریاستی صدر شمیمہ فردوس، سینئر لیڈر سکینہ ایتو، صوبائی صدر خواتین ونگ جموں ستونت کور، صوبائی صدر خواتین ونگ کشمیر انجینئر صبیہ قادری اور صوبائی ترجمان سارا حیات شاہ نے رسانہ آبروریزی و قتل کیس کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لئے پولیس اور عدلیہ کے رول کی سراہنا کرتے ہوئے کہا کہ قانون کی بالادستی مقدم ہے اور ہمیشہ رہنی چاہیئے۔

ایک مشترکہ بیان میں پارٹی کی خواتین لیڈران نے کہا کہ رسانہ جیسے واقعات کی روک تھام کیلئے ٹھوس اور بروقت اقدامات کی ضرورت ہے اور ایسے واقعات میں ملوثین کو عبرتناک سزا دی جانی چاہیئے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ جس طرح سے دہلی کے نربھیا کیس میں مجرموں کو پھانسی کی سزا دی گئی اُسی طرح کٹھوعہ کی معصوم بچی کے مجرموں کو بھی موت کی سزا دی جانی چاہیئے۔ پارٹی لیڈران نے کہا ہے کہ سماج میں ایسے افراد کا سوشل بائیکاٹ ہونا چاہیئے جو ایسے وحشیانہ، دلدوز اور شرمناک واقعات کے ملوثین کی حمایت کرتے ہیں۔ عوامی نیشنل کانفرنس کی صدر خالدہ شاہ نے مجرموں کو عدالت کی جانب سے سزا دینے کے فیصلہ کا خیرمقدم کیا ہے اور سزا دینے کی شدت میں اضافہ کرنے پر بھی زور دیا ہے۔

خالدہ شاہ نے کرائم برانچ ٹیم کی کار کردگی کی سراہنا کی جنہوں نے غیرجانبدارانہ تحقیقات کرکے کیس کو منطقی انجام تک پہنچایا۔ انہوں نے ان تمام سیاسی، سماجی اور مذہبی تنظیموں کا بھی شکریہ ادا کیا ہے، جنہوں نے ملزموں کو کیفر کردار تک پہنچانے کے لئے آواز بلند کی۔ جمعیت ہمدانیہ کے سربراہ مولانا ریاض احمد ہمدانی نے عدالتی فیصلے پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کیس میں ملوث افراد کے لئے سزائے موت کا انتظار کررہے تھے۔ انہوں نے پولیس کی تحقیقاتی ٹیم کی طرف سے مضبوط کیس بنانے اور عدالت کی طرف سے انصاف پر مبنی فیصلے کو اطمینان بخش قرار دیا۔ انجمن علماء و آئمہ مساجد کے امیر حافظ عبدالرحمٰن اشرفی نے عدالت کے فیصلہ کو اطمینان بخش قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگرچہ سزا بہت کم لگتی ہے تاہم عدالتی فیصلہ سے حق کو فتح ضرور ملی ہے کیونکہ عدالت نے بہت ہی کم مدت کے اندر تاریخ ساز فیصلہ سناکر ایک تاریخ رقم کی۔
خبر کا کوڈ : 799089
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے