0
Wednesday 12 Jun 2019 21:22

خیبر پختونخوا میں خواتین صحافیوں کو ثقافتی دباؤ کا سامنا

خیبر پختونخوا میں خواتین صحافیوں کو ثقافتی دباؤ کا سامنا
اسلام ٹائمز۔ پاکستان کے مرد نواز معاشرے میں اب بھی خواتین کو پروفیشنل زندگی میں رسم و رواج اور ثقافتی دبائو کا سامنا ہے جبکہ انہیں کسی بھی شعبے میں خود کو باصلاحیت ثابت کرنے کیلئے جدوجہد کرنا پڑتی ہے۔ ثقافتی مسائل کے باوجود ملک کے دوسروں صوبوں کی طرح خیبر پختونخوا میں بھی خواتین کئی پروفیشنل شعبوں میں قدم رکھ رہی ہیں۔ ان شعبوں میں صحافت کے میدان میں خواتین کے آنے کا رجحان زیادہ دیکھا گیا ہے۔ پشاور سے وابستہ ایک خاتون صحافی رابعہ خان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ میرے والدین نے مجھے خواب دیکھنے سے کبھی نہیں روکا، میری اعلٰی تعلیم کے حصول کی خواہش بھی پوری کی گئی، لیکن جیسے ہی انہیں پتہ چلا کہ میں نیوز روم میں مرد صحافیوں کے ساتھ کام کروں گی تو انہوں نے اپنی بیزاری کا اظہار کیا اور مجھے صحافت کے بطور پیشہ انتخاب سے روکا۔

والدین کے تحفظات کے باوجود میں اپنی بات پر ڈٹی رہی اور رپورٹر کے طور پر کام کرنے کیلئے انہیں قائل کرنے میں کامیاب ہوگئی کیونکہ میں صحافت کیلئے پرجوش تھی۔ رابعہ خان تین سال پشاور میں ریڈیو جرنلسٹ کے طور پر خدمات سرانجام دینے کے بعد کیریئر کے بہتر مواقعوں کیلئے اسلام آباد منتقل ہوگئیں۔ آج کل وہ ایک انٹرنیشنل خبررساں ادارے کے ساتھ منسلک ہیں اور اپنے بوڑھے والدین کا سہارا ہیں جنہیں اب اپنی بیٹی پر بڑا فخر ہے۔ رابعہ خان ایسی ایک ہی خاتون صحافی نہیں ہیں کہ جنہیں اپنے شعبے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، اکثر و بیشتر خواتین صحافیوں کو رکاوٹوں سے ہو کر گزرنا پڑتا ہے، جن میں پشاور کے دیہی علاقے خاص طور پر فاٹا ڈسٹرکٹ کے علاقے شامل ہیں جن میں شرح خواندگی انتہائی کم ہے۔ دیگر ثقافتی مسائل کے ساتھ خواتین صحافیوں سے ہراسگی بڑا مسئلہ ہے۔
خبر کا کوڈ : 799204
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے