0
Wednesday 12 Jun 2019 22:18

لندن، بانی ایم کیو ایم الطاف حسین ناکافی شواہد کی بناء پہ ضمانت پر رہا

لندن، بانی ایم کیو ایم الطاف حسین ناکافی شواہد کی بناء پہ ضمانت پر رہا
اسلام ٹائمز۔ ایم کیو ایم کے بانی الطاف حسین 30 گھنٹے اسکاٹ لینڈ یارڈ کی حراست میں رہنے کے بعد ضمانت پر رہا کردیئے گئے۔ لندن میں ایم کیو ایم کے بانی الطاف حسین ضمانت پر رہا ہو گئے ہیں، انہیں گذشتہ روز حراست میں لیا گیا تھا اور مقامی پولیس اسٹیشن منتقل کرکے انہیں 30 گھنٹے سے زائد حراست میں رکھا گیا۔ گذشتہ روز اسکاٹ لینڈ یارڈ پولیس نے الطاف حسین کے گھر پر چھاپہ مار کر گرفتار کیا تھا اور میٹرو پولیٹن پولیس نے اپنے بیان میں کہا کہ الطاف حسین کو 2016ء میں نفرت انگیز تقاریر کے مقدمات میں حراست میں لیا گیا ہے۔ ان کے حوالے سے پاکستانی حکومت نے تفصیلات برطانیہ کو فراہم کی تھیں۔ واضح رہے کہ الطاف حسین پاکستان میں قتل و غارت، دہشت گردی اور منی لانڈرنگ کے متعدد مقدمات میں مطلوب اور اشتہاری ہیں۔

دیگر ذرائع کیمطابق بانی متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) الطاف حسین 2 روز تک لندن کی میٹرو پولیٹن پولیس کے زیر حراست رہنے کے بعد ضمانت پر رہا ہوگئے۔ برطانوی پولیس کے مطابق متحدہ کے بانی کو ناکافی شواہد کی بنا پر ضمانت پر رہا کر دیا گیا۔ پولیس کا کہنا تھا کہ الطاف حسین سے 2 روز تک پولیس اسٹیشن میں تفتیش کی گئی جس کے بعد ناکافی شواہد کی بنا پر انہیں ضمانت پر رہا کردیا گیا۔ سینٹرل لندن کے سدک پولیس اسٹیشن کے باہر ایم کیو ایم کے مقامی کارکن الطاف حسین کی رہائی کی خبر ملنے پر جمع ہوگئے اور اپنے قائد کے حق میں نعرے بازی کی۔ میٹرو پولیٹن پولیس کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ ایم کیو ایم سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کو پاکستان میں کی گئی تقاریر سے متعلق تحقیقات کے سلسلے میں گرفتار کیا گیا۔

بیان میں بتایا گیا کہ 60 سال سے زائد عمر کے شخص کو شمال مغربی لندن میں سنگین جرائم ایکٹ 2007 کی دفعہ 44 کے تحت دانستہ طور پر اکسانے یا جرائم میں معاونت فراہم کرنے کے شبے میں گرفتار کیا گیا۔ خیال رہے کہ رواں برس اپریل میں برطانیہ کی میٹروپولیٹن پولیس کی 12 رکنی ٹیم نے ایم کیو ایم لندن کے قائد الطاف حسین کی 2016ء کی متنازع تقریر سے متعلق کیس میں اپنی تفتیش مکمل کی تھی۔ اس سلسلے میں برطانوی پولیس کیس میں ثبوتوں کے حصول اور گواہوں کے بیانات کے لئے پاکستان آئی تھی، اس تفتیش کے دوران سندھ پولیس حکام کی ٹیم کے 6 اراکین برطانوی پولیس کی انسداد دہشت گردی کمانڈ (ایس او 15) کے سامنے بطور گواہ پیش ہوئے تھے اور اپنا بیان ریکارڈ کروایا تھا۔ کیس کی تفتیش کے دوران برطانوی پولیس کے ماہرین نے سندھ پولیس کے ان حکام کا انٹرویو کیا جو اس وقت صدر کراچی میں تعینات تھے، جب 22 اگست 2016ء میں الطاف حسین نے پاکستان مخالف تقریر کی تھی۔

واضح رہے کہ ایم کیو ایم کے قائد کی اس تقریر کے بعد ان کی جماعت کے حامیوں نے کراچی پریس کلب کے قریب میڈیا ہاؤسز پر مبینہ طور پر حملہ کیا تھا، پرتشدد کارروائیاں کی تھی اور گاڑیوں کو نذرآتش کیا تھا۔ تفتیش سے متعلق سرکاری ذرائع کا کہنا تھا کہ برطانوی سی ٹی سی ٹیم کا مقصد 22 اگست 2016ء کے واقعے کے اہم گواہوں سے تحریر بیان کو ثبوت کی شکل میں حاصل کرنا تھا۔ برطانوی پولیس کی جانب سے حاصل کئے گئے ثبوتوں کو اس بات کا تعین کرنے کے لئے کراؤن پروسیکیوشن سروس کے سامنے پیش کرنا تھا کہ آیا برطانوی عدالتوں میں الطاف حسین کے خلاف کارروائی کے آغاز کے لئے یہ کافی مواد ہے۔ واضح رہے کہ ایم کیو ایم کے بانی الطاف حسین کے خلاف نہ صرف نفرت انگیز تقریر بلکہ دیگر مقدمات بھی ہیں۔

اس سے قبل سال 2013ء میں لندن پولیس نے الطاف حسین کے گھر اور دفتر پر ڈاکٹر عمران فاروق کے قتل کی تحقیقات کے سلسلے میں چھاپے مارے تھے، جس میں الطاف حسین کے گھر سے مبینہ طور پر بڑی تعداد میں نقدی برآمد ہوئی تھی جسے 'پروسیڈ آف کرائم ایکٹ' کے تحت قبضے میں لے لیا گیا تھا۔ اس کے بعد لندن پولیس نے ڈاکٹر عمران فاروق کے قتل کے علاوہ منی لانڈرنگ کی تحقیقات بھی شروع کردی تھیں۔ ایم کیو ایم کے بانی کے خلاف منی لانڈرنگ کا مقدمہ درج کیا گیا تھا، جون 2014ء میں الطاف حسین کو برطانیہ میں پولیس نے تحقیقات کے لئے حراست میں لیا تھا، تاہم انہیں چند روز بعد رہا کردیا گیا تھا۔ بعد ازاں کیس کی تحقیقات کے دوران ان کی ضمانت میں کئی بار توسیع کی گئی۔ 13 اکتوبر 2016 ء اسکاٹ لینڈ یارڈ نے الطاف حسین کے خلاف منی لانڈرنگ کا کیس ختم کردیا تھا، تاہم بعد ازاں 2017ء میں حکومت پاکستان نے برطانیہ سے ایم کیو ایم کے بانی کے خلاف منی لانڈرنگ کے مقدمات ختم کرنے کے فیصلے پر نظر ثانی کی درخواست کی تھی۔
خبر کا کوڈ : 799210
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے