0
Wednesday 12 Jun 2019 23:30

بجٹ 2019-20ء پی ٹی آئی کا نہیں آئی ایم ایف کا بجٹ ہے، بیرسٹر مرتضیٰ وہاب

بجٹ 2019-20ء پی ٹی آئی کا نہیں آئی ایم ایف کا بجٹ ہے، بیرسٹر مرتضیٰ وہاب
اسلام ٹائمز۔ وزیراعلیٰ سندھ کے مشیر برائے اطلاعات قانون و اینٹی کرپشن سندھ  بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے کہا ہے کہ عوام دشمن بجٹ کو مسترد کرتے ہیں، اشیاء خوردونوش سے لیکر ہر چیز پر قیمتیں بڑھا دی گئی ہیں، بڑے بڑے دعوے کرنے والی تحریک انصاف کی حکومت نے عوام دشمن بجٹ پیش کیا ہے۔ وہ سندھ اسمبلی میں میڈیا کارنر پر پریس کانفرنس کررہے تھے۔ ان کے ہمراہ سید ناصر حسین شاہ، سعید غنی اور سید ذوالفقار شاہ بھی موجود تھے۔ مرتضیٰ وہاب نے مزید کہا کہ  عوام کو کسی بھی چیز پر سبسڈی نہیں دی گئی، اب ماہانہ پچاس ہزار روپے آمدن پربھی ٹیکس لاگو کردیا گیا ہے، عوام دشمن بجٹ پر جب قومی اسمبلی میں تنقید کی تو عمران خان نے اشاروں سے کام لیا، قوم سے خطاب میں عمران خان کی تقریر کو میوٹ کردیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان نے کہا تھا کہ ہم این آر او دینے والے نہیں، ہم کہتے ہیں پاکستان پیپلز پارٹی کوکسی این آر او لینے کی ضرورت نہیں، لیکن ایمنسٹی اسکیم میں کس کو این آراو دینے کی کوشش کی گئی؟ انہوں نے کہا کہ بجٹ میں کوئی ایسی چیز نہیں جس کی قیمت نہ بڑھائی گئی ہو، گیس سے لے کر کھانے پینے کی اشیاء ٍتک سب مہنگی کردی گئی ہیں، ریلیف دینے اور ماضی میں بڑی بڑی باتیں کرنے والے خان صاحب نے سرکاری ملازمین پر بھی پچاس ہزار پر ٹیکس عائد کردیا ہے، ماہانہ پچاس ہزار روپے کمانے والا کہاں سے کرایہ بھرے گا اور گذر بسر کر پائے گا، بجٹ ہر طرح سے عوام دشمن اور چیخیں نکالنے والا بجٹ ہے، بجٹ میں نان ٹیکس فائلر کو چھوٹ دی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ کل بھی وزیراعظم عوام کی چیخیں نکالنے سے باز نہیں آئے اور خطاب بھی کیا، ماضی میں ایک شخص نے پارلیمان پر مکے لہرائے تھے آج کہاں ہے وہ؟ جب پارلیمان پر مکے لہرائے جائیں گے تو ملک کی کیا حیثیت بنے گی، وزیراعظم کا کل کا خطاب حیرت انگیز تھا، جو لوگ قوم سے خطاب نہیں کرسکتے وہ ملک کو کیسے چلائیں گے۔ مرتضی وہاب نے کہا کہ وزیراعظم نے کمیشن بنانے کا اعلان کیا اور وہ دس سال کی جانچ پڑتال کریں گے لیکن کیا دس ماہ کی کارکردگی کی بھی جانچ پڑتال ہوگی؟ ہم کہتے ہیں انیس سو ننانوے سے اب تک کی تحقیقات ہونی چاہیئے، پیپلز پارٹی ماضی کی طرح اب بھی سرخرو ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ عوام سڑکوں پر اپنے حقوق کیلئے نکلیں گے، ہم پارلیمان اور سڑکوں پر عوام دشمن پالیسیوں کو بے نقاب کریں گے، وزیراعظم نے بار بار کہا کہ این آر او کسی کو نہ دیں گے اور اپنی بہن کے لئے این آر او تلاش کیا، پیپلز پارٹی کو کسی این آر او کی ضرورت نہیں، آپ نے نان ٹیکس فائلرز کو جو چھوٹ دی ہے وہ کیا این آر او نہیں؟ یہ این آر او کس کو اور کس کی جائیداد کو چھوٹ دی گئی۔ مشیر اطلاعات نے کہا کہ وزیراعظم سے خطاب نہیں ہوا جاتا وہ کمیشن کی کیا سربراہی کریں گے، آپ نے اپنے دس ماہ میں جو تباہی کی ہے کیا اس کی بھی تحقیقات کریں گے، اگر تحقیقات کرنی ہے تو اپنے رفقاء کی بھی کریں، کل یہ سب رفقاء نواز شریف کے دائیں بائیں بیٹھے تھے، ان کے خلاف انکوائری سے شاید ان کی بھی چیخیں نکل جائیں۔ انہوں نے کہا کہ عوام ہمارے لئے نہیں اپنے لئے نکلے گی، افطار ڈنر میں اپوزیشن کو مدعو کیا تھا اور عوام کے مسائل پر احتجاج اور حکمرانوں کے خلاف نکلنے کا فیصلہ کیا تھا، ہم زرداری صاحب کی گرفتاری سے قبل ہی نکلنے کا اعلان کرچکے تھے، اپوزیشن کی اسٹریٹجی درست جارہی ہے، وزیراعظم اور کابینہ پریشان تھے، اس لئے اشارے کئے جارہے تھے۔

 انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت نے ہمیشہ کوشش کی ہے کہ کوئی اضافی ٹیکس نہ لگے مگر این ایف سی نہ ملے تو کام کیسے کئے جاسکتے ہیں، 132 ارب روپے کم دیئے گئے، وفاق نے 162 ارب کراچی کو دینے کا وعدہ کیا مگر بجٹ میں پیسے کہاں ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ آصف علی زرداری پر الزام غلط ہیں ہم سرخرو ہونگے، اکاؤنٹس سے پیسے منقلی کے الزام غلط ہیں، احتساب کرنا ہے تو علیمہ باجی کے پیسے کہاں سے آئے، پیپلز پارٹی پر الزام لگائے جاتے ہیں تو بحیثیت حکومت لگتے ہیں، مگر پی ٹی آئی تو بطور جماعت کرپٹ ہے، صدر عارف علوی اور پرویز خٹک سمیت تمام رہنماؤں نے اپنے الیکشن میں پیسے خرچ کئے، اس جماعت نے عوام سے چندے لئے ان میں بھی کرپشن کی گئی یہ جماعت اور ان کے رہنماء بھی کرپٹ ہیں تو ان سے اچھائی کیا ہوگی، یہ پی ٹی آئی کا نہیں آئی ایم ایف کا بجٹ ہے، حکومت کے دعوے غلط ہیں، وزیر اعظم اور ایوان صدر کے اخراجات میں بھی اضافہ کیا گیا ہے، ن لیگ نے جو ٹیکس چھوٹ دی وہ غلط تھی ،مگر انہوں نے تو اپنوں کو نوازنے کے لئے اس میں بھی اضافہ کیا، ان کو دوسروں پر الزام زیب نہیں دیتا، دس سال ہی کیوں پیچھے جائیں اور پیچھے جائین گے تو شوکت عزیز اور حفیظ شیخ بھی رگڑے میں آئیں گے ہم تو خوش ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک کا سب سے بڑا معاشی دہشتگرد عمران خان ہے، احتساب کے لئے کمیشن صرف دس سال نہیں، آمروں کے دور کا بھی کیا جائے۔
خبر کا کوڈ : 799216
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے