0
Wednesday 12 Jun 2019 23:34

کراچی میں پانی کی فراہمی کیلئے قلیل اور طویل مدتی منصوبوں پرکام شروع کریں گے، سعید غنی

کراچی میں پانی کی فراہمی کیلئے قلیل اور طویل مدتی منصوبوں پرکام شروع کریں گے، سعید غنی
اسلام ٹائمز۔ وزیر بلدیات سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ ہماری بھرپور کوشش ہے کہ ہم کراچی میں پانی کی فراہمی کے لئے قلیل اور طویل مدتی منصوبوں پر کام شروع کریں، کراچی کے صنعتی زونز کو سیوریج کا پانی ٹریٹ کرکے اسے صنعتی استعمال کے قابل بنانے کے لئے پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ اور واٹر بورڈ کے اشتراک پر مختلف منصوبوں پر کام کا آغاز کردیا گیا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے سیکرٹری بلدیات سندھ کے دفتر میں منعقدہ اجلاس کے دوران کیا۔ اجلاس میں سیکرٹری بلدیات سید خالد حیدر شاہ، ایم ڈی واٹر بورڈ اسد اللہ خان، پروجیکٹ ڈائریکٹر پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ (پی پی پی) خالد شیخ، ڈی ایم ڈی پلاننگ واٹر بورڈ ایوب شیخ، پی پی پی اور واٹر بورڈ کے دیگر افسران بھی موجود تھے۔ اجلاس میں کراچی میں مختلف ذرائع سے پانی کی فراہمی سمیت دیگر امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر وزیر بلدیات سندھ سعید غنی نے کہا کہ سندھ حکومت کراچی میں پانی کی فراہمی کے لئے ہر قسم کے وسائل کو بروئے کار لانے میں کوشاں ہے۔ انہوں نے کہا کہ کراچی میں اس وقت طلب کے مقابلے پانی کی رسد میں 50 فیصد کی کمی کا سامنا ہے اور اسی لئے ہم نے K-4 منصوبے کا آغاز کیا ہے لیکن افسوس کہ اس میں وفاقی حکومت کی سرد مہری کے باعث تاخیر ہورہی ہے۔

سعید غنی نے کہا کہ ہم نے سیوریج کے پانی کو ٹریٹ کرکے صنعتوں کے استعمال کے قابل بنانے کے لئے مختلف ملکی اور غیر ملکی کمپنیوں کی جانب سے آفرز پر بھی کام شروع کیا ہے اور اس سلسلے میں ہم نے صنعتکاروں کو بھی آن بورڈ لیا ہوا ہے، ہماری کوشش ہے کہ صنعتی پیداوار کو بڑھانے کے لئے سیوریج کے پانی کو ٹریٹ کرکے استعمال کے قابل بنایا جائے۔ سعید غنی نے کہا کہ ہم ڈی سیلینیش کے حوالے سے بھی کام شروع کئے ہوئے ہیں اور ہم چاہتے ہیں کہ کراچی کے آئندہ نصف صدی تک کے پانی کے مسئلے کے حل کے لئے قلیل اور طویل مدتی منصوبوں پر کام شروع کیا جائے۔ اس موقع پر پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے پی ڈی خالد شیخ نے اجلاس کو بتایا کہ مختلف کمپنیوں کی جانب سے سیوریج کے پانی کو ٹریٹ کرنے کے حوالے سے بات چیت کا سلسلہ جاری ہے اور اس سلسلے میں واٹر بورڈ اور پی پی پی مل کر اس پر کام کررہے ہیں۔
خبر کا کوڈ : 799217
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب