0
Thursday 13 Jun 2019 12:21

پاکستان بار کونسل کا ججز کے خلاف ریفرنسز کالعدم قرار دینے کا مطالبہ

پاکستان بار کونسل کا ججز کے خلاف ریفرنسز کالعدم قرار دینے کا مطالبہ
اسلام ٹائمز۔ پاکستان بار کونسل (پی بی سی) نے اعلٰی عدلیہ کے 2 ججز کے خلاف ریفرنسز فائل کرنے کو حکومت کی بدنیتی قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ سپریم جوڈیشل کونسل (ایس جے سی) حکومت کے اس طرح کے ڈیزائن کے لئے پارٹی نہیں بنے گی۔ میڈیا کے ذرائع کے مطابق سپریم کورٹ جسٹس قاضی فائز عیسٰی اور سندھ ہائیکورٹ کے جسٹس کے کے آغا کے خلاف ریفرنسز کی سماعت کے آغاز سے 2 روز قبل پی بی سی کی جنرل باڈی کا اجلاس ہوا، جس میں وائس چیئرمین سید امجد شاہ کی جانب سے پڑھی جانے والی قرارداد میں کہا گیا کہ "ریفرنسز فائل کرنے میں دکھایا گیا انداز، جلد بازی اور اس کا وقف وکلا برادری میں سوالات اٹھا رہا ہے، لہٰذا ہم اسے رد کرتے ہیں"۔ وائس چیئرمین نے کہا کہ پاکستان بار کونسل کو امید ہے کہ سپریم جوڈیشل کونسل اس معاملے کو مکمل طور پر آئین اور قانون کے ساتھ آگے بڑھائے گی، وکلا کو امید ہے کہ احساس غالب ہوگا اور ریفرنسز کالعدم ہو جائیں گے۔

دوسری جانب وزیر قانون کی ممبرشپ منسوخ کرنے کے بعد 22 رکنی پی بی سی میں 14 ارکان کی اکثریت وفاقی وزیر قانون فرغ نسیم اور اٹارنی جنرل انور منصور کے فوری استعفیٰ کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ پاکستان بار کونسل کی جانب سے وزیر قانون کو وزیر ہونے کے باوجود بار کونسل کی رکنیت برقرار رکھنے کے لئے اظہار وجوہ (شوکاز) نوٹس بھی جاری کیا گیا ہے۔ انہیں یاد دہانی کروائی گئی ہے کہ پاکستان لیگل پریکٹیشنز اور بار کونسل رولز 1976ء کے سیکشن 108 سی کے تحت بطور وزیر وہ پی بی سی کے رکن یا قانونی پریکٹس جاری نہیں رکھ سکتے۔ اس نوٹس کے ذریعے پی بی سی نے وزیر سے کہا ہے کہ وہ 15 روز میں اپنے جواب کے ساتھ آئیں، کیونکہ اس معاملے کو جون کے آخری ہفتے میں ایک اجلاس میں اٹھایا جائے گا۔ سید امجد شاہ کا کہنا تھا کہ وہ ہمارے لئے بھائی کی طرح ہیں، لہٰذا ہم وزیر کو مشورہ دیں گے کہ وہ باوقار طریقہ اپناتے ہوئے بطور وزیر اپنا استعفٰی پیش کریں۔

اس موقع پر ایک سوال کے جواب میں وائس چیئرمین نے کہا کہ 2007ء کی تاریخی وکلا تحریک کی طرح مکمل تحریک شروع کرنے سے متعلق فیصلہ سپریم جوڈیشل کونسل کی 14 جون کی سماعت کے نتیجے کے بعد لیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان اور وزیر قانون کو آگے آنا چاہیئے اور جسٹس قاضی فائز عیسٰی اور جسٹس کے کے آغا کے خلاف ریفرنسز قائم کرنے کو کھلے عام تسلیم کرنا چاہیئے۔ علاوہ ازیں پی بی سی کے جنرل باڈی اجلاس میں پاکستان بار کونسل کے وائس چیئرمین اور چیئرمین ایگزیکٹو کمیٹی، سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن (ایس سی بی اے) کے صدر اور سیکرٹری، تمام صوبائی اور اسلام آباد بار کونسل کے وائس چیئرمین، پرنسپل نشستوں پر موجود تمام ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشنز کے صدور سمیت اسلام آباد ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن پر مشتمل ایک مشترکہ ایکشن کمیٹی تشکیل دی گئی۔
 
خبر کا کوڈ : 799268
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے