0
Thursday 13 Jun 2019 13:44

خیبر پختونخوا کے آئندہ مالی سال کیلئے ترقیاتی پروگرام کو حتمی شکل دیدی گئی

خیبر پختونخوا کے آئندہ مالی سال کیلئے ترقیاتی پروگرام کو حتمی شکل دیدی گئی
اسلام ٹائمز۔ خیبر پختونخوا حکومت نے مالی سال برائے 20-2019ء کیلئے سالانہ ترقیاتی پروگرام کو حتمی شکل دیدی ہے۔ خیبر پختونخوا حکومت نے نئے مالی سال کیلئے ترقیاتی پروگرام کا مجموعی حجم 209 ارب روپے رکھا ہے جس میں87 ارب روپے غیر ملکی وسائل سے حاصل ہوں گے، جن میں 50 ارب 45 کروڑ روپے قرض جبکہ 36 ارب 4 کروڑ روپے گرانٹ کی مد میں موصول ہوں گے۔ اس کے علاوہ صوبائی حکومت اپنے وسائل سے مجموعی طور پر 121 ارب 50 کروڑ روپے فراہم کرے گی جس میں 85 ارب روپے صوبائی سطح کے سالانہ ترقیاتی پروگرام کیلئے مختص کئے جارہے ہیں جبکہ 36 ارب 50 کروڑ ضلعی حصہ رکھا گیا ہے جو بلدیاتی اداروں کو ترقیاتی کاموں کیلئے فراہم کیا جائے گا۔

مالی سال برائے 20-2019ء میں مختلف شعبہ جات میں ترقیاتی کاموں کیلئے جو فنڈز مختص کئے جارہے ہیں ان میں عمارات کیلئے ایک ارب، صنعتوں کیلئے ایک ارب 70 کروڑ، جنگلات 3 ارب، ریلیف و بحالی 2 ارب 22 کروڑ، داخلہ 3 ارب 20 کروڑ، اعلٰی تعلیم ساڑھے 4 ارب، ڈی ڈبلیو ایس ایس ساڑھے 4 ارب، شہری ترقی 4 ارب 98 کروڑ، خزانہ 5 ارب 20 کروڑ، کھیل و سیاحت 5 ارب 66 کروڑ، خصوصی اقدامات 6 ارب، بلدیات 7 ارب، انرجی اینڈ پاور ساڑھے 8 ارب، زراعت 10 ارب، شعبہ آب 10 ارب، صحت 10 ارب 25 کروڑ، ٹرانسپورٹ 14 ارب سے زائد، ملٹی سیکٹر ڈیویلپمنٹ 20 ارب 44 کروڑ، ابتدائی وثانوی تعلیم 21 ارب 60 کروڑ، سڑکوں کے شعبہ کیلئے 22 ارب 65 کروڑ، ضلعی ترقیاتی پروگرام 36 ارب 50 کروڑ روپے، قانون 94 کروڑ، سائنس اینڈ ٹیکنالوجی 67 کروڑ، بہبود آبادی 64 کروڑ، خوراک 50 کروڑ، بورڈ آف ریونیو 48 کروڑ، معدنیات 42 کروڑ، مذہبی و اقلیتی امور 42 کروڑ، ہاﺅسنگ 37 کروڑ، سماجی بہبود 31 کروڑ، ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن 21 کروڑ 50 لاکھ، اطلاعات ساڑھے 15 کروڑ، لیبر 9 کروڑ 80 لاکھ اور ماحولیات کیلئے 4 کروڑ روپے رکھے گئے ہیں۔

جاری سال کے دوران 234 اسکیموں کو مکمل کیا جارہا ہے جبکہ 65 اضافی اسکیمیں شامل کی گئی ہیں جس سے منصوبوں کی مجموعی تعداد 299 ہوگئی ہے، 5 محکموں زراعت، انرجی، جنگلات، کھیل و سیاحت اور شعبہ آب کی جانب سے 27 ارب 76 کروڑ کے اضافی فنڈز مانگے گئے، محکمہ پی اینڈ ڈی نے 7 محکموں کیلئے فنڈز میں اضافہ کیا۔ صوبہ کے ضم شدہ قبائلی اضلاع کیلئے 213 جاری اور 21 نئی اسکیموں کو شامل کیا گیا ہے جس سے ان اسکیموں کی مجموعی تعداد 234 ہوگئی، صوبائی حکومت کو آئندہ مالی سال کیلئے سب سے زیادہ قرضہ ایشیائی ترقیاتی بینک سے ملے گا جو 29 ارب سے زائد ہے جو پشاور بی آرٹی کیلئے ہے۔

ضلع وار تخصیص میں پشاور کیلئے 7 ارب 19 کروڑ، سوات 3 ارب 62 کروڑ، نوشہرہ 3 ارب، صوابی 2 ارب، مردان ایک ارب 94 کروڑ، ہری پور ایک ارب 75 کروڑ، ایبٹ آباد ایک ارب 35 کروڑ، چارسدہ ایک ارب 26 کروڑ، ڈی آئی خان ایک ارب، مانسہرہ 1 ارب 2 کروڑ، بنوں 99 کروڑ 90 لاکھ، کوہاٹ 91 کروڑ 50 لاکھ، لکی مروت 79 کروڑ، دیر لوئر 75 کروڑ 80 لاکھ، کرک 69 کروڑ، دیر بالا 66 کروڑ 90 لاکھ، تورغر 63 کروڑ 80 لاکھ، چترال 48 کروڑ 20 لاکھ، بونیر 37 کروڑ 70 لاکھ، ملاکنڈ 37 کروڑ 60 لاکھ، کوہستان 29 کروڑ 40 لاکھ، شانگلہ 25 کروڑ 50 لاکھ، ہنگو 19 کروڑ 30 لاکھ، ٹانک 12 کروڑ اور بٹگرام 11 کروڑ 50 لاکھ روپے کا حصہ ملے گا۔ واضح رہے کہ جاری مالی سال 19-2018ء کے سالانہ ترقیاتی پروگرام کا حجم 180 ارب روپے رکھا گیا تھا جس میں بعد میں اضافہ کرتے ہوئے اسے 189 ارب کر دیا گیا تاہم امکان ظاہر کیا جارہا ہے کہ جاری سال کے اختتام تک اس میں سے 100 ارب سے کچھ زائد ہی خرچ ہوپائیں گے۔
خبر کا کوڈ : 799278
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے