0
Friday 14 Jun 2019 00:46

ایران کیساتھ ہونیوالے جوہری معاہدے کی ناکامی کی تمامتر ذمہ داری امریکہ پر عائد ہوگی، روس

ایران کیساتھ ہونیوالے جوہری معاہدے کی ناکامی کی تمامتر ذمہ داری امریکہ پر عائد ہوگی، روس
اسلام ٹائمز۔ ویانا میں قائم بین الاقوامی ایٹمی انرجی کمیشن سمیت دوسری بین الاقوامی تنظیموں کے لئے روس کے مستقل نمائندے "میخائیل اولیانوف" نے کہا ہے کہ امریکہ اپنے اشتعال انگیز اقدامات کے ذریعے اس بات کی کوشش کر رہا ہے کہ تہران کو جوہری معاہدے (JCPOA) کے حوالے سے تند و تیز اور جلد بازی پر مبنی اقدامات اٹھانے پر اکسائے۔ "میخائیل اولیانوف" نے کہا کہ روسی حکام واشنگٹن سے توقع رکھتے ہیں کہ وہ ایرانی جوہری معاہدے (JCPOA) کے حوالے سے اپنے موقف کو بدلے، کیونکہ اگر یہ جوہری معاہدہ شکست سے دوچار ہوا تو اس کی ناکامی کی تمامتر ذمہ داری امریکہ پر عائد ہوگی۔ روسی نمائندے نے کہا کہ ہم امریکہ سے چاہتے ہیں کہ وہ ایران کے ساتھ اپنے جوہری معاہدے کے حوالے سے اختیار کردہ پالیسی پر نظرثانی کرے، جو جوہری عدم پھیلاؤ کے میدان میں ایک بہت بڑی پیشرفت ہے اور جو عالمی برادری کو یہ موقع بھی فراہم کرتا ہے کہ وہ ایرانی جوہری پروگرام کے پرامن ہونے پر کامل اطمینان حاصل کر لیں۔

اگر جوہری معاہدے کے مطابق اس اطمینان کے حصول کے لئے مہیا شدہ آلات ختم ہوگئے اور یہ معاہدہ ناکام ہوگیا تو اس ناکامی کی تمامتر ذمہ داری صرف اور صرف امریکہ کی گردن پر ہوگی۔ میخائیل اولیانوف کا کہنا تھا کہ امریکہ نہ صرف اس معاہدے سے دستبردار ہوا ہے بلکہ اس نے اس معاہدے کو جڑ سے ختم کرنے اور سب سے پہلے اس معاہدے کے اقتصادی حصے کو ناکارہ بنانے کی پالیسی اپنا رکھی ہے۔ روسی نمائندے نے واضح الفاظ میں کہا کہ امریکی حکومت بلیک میل کرنے، دباؤ ڈالنے اور دھمکانے کے ذریعے دنیا کی دوسری اقوام کو اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ اپنے قانونی، تجارتی و اقتصادی روابط بالخصوص تیل کے اور دوسرے مالیاتی معاملات کو روکنے پر مجبور کرنے کی کوشش میں ہے۔ امریکہ درحقیقت دوسرے ممالک کی آزادی کو محدود کرتے ہوئے کوشش کر رہا ہے کہ انہیں جوہری معاہدے پر عملدرآمد، جو سلامتی کونسل کی قرارداد نمبر 2231 کے عین مطابق ہے، روکنے پر مجبور کرے۔

میخائیل اولیانوف نے کہا کہ اس سے بھی بڑھ کر امریکہ نے جاری سال کے ماہ مئی کی ابتداء سے ہی جوہری معاہدے کی شقوں کے خلاف عمل شروع کر رکھا ہے اور ایران سے افزودہ شدہ اضافی یورینیم اور بھاری پانی کے اخراج پر بھی پابندی لگانے کی دھمکی دے رکھی ہے، یعنی امریکہ اپنے عمل سے تہران کو جوہری معاہدے سے منحرف کرنا اور شدید قسم کے جوابی اقدامات پر ابھارنا چاہتا ہے۔  ویانا میں روس کے مستقل نمائندے نے جوہری معاہدے پر ایران کے عملدرآمد پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جوہری معاہدے کی بعض شقوں پر ایران کے رضاکارانہ طور پر عملدرآمد کے عمل کو ماسکو پوری طرح سے درک کرتا ہے، بہرحال ایرانی حکام سے ہمارا مطالبہ ہے کہ وہ امریکی اشتعال انگیز اقدامات کا جواب نہ دیں اور اپنے جوہری معاہدے پر عملدرآمد روکنے سے متعلق جلد بازی پر مبنی کسی بھی اقدام سے پرہیز کریں۔

روسی نمائندے نے کہا کہ روس جوہری معاہدے میں باقی تمام رکن ممالک سے مطالبہ کرتا ہے کہ  وہ جوہری معاہدے کے مطابق اپنے جوہری و اقتصادی تعہدات کے درمیان توازن برقرار کرنے کے لئے اپنی تمامتر توانیاں بروئے کار لائیں، جبکہ ماسکو بھی اپنے طور پر اس حوالے سے اپنی کاوشیں جاری رکھے گا۔ اولیانوف نے مزید کہا کہ ہم اسلامی جمہوریہ ایران کے دوسرے اقتصادی پارٹنرز سے بھی مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ کسی قسم کے بیرونی دباؤ میں نہ آئیں اور اس واقعیت کو پوری طرح سمجھنے کی کوشش کریں کہ آج ایران کے بارے عالمی صورتحال کسی بھی قسم کے سیاسی اقدام سے بڑھ کر اہم ہے جبکہ سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عملدرآمد صرف (جوہری) عدم پھیلاؤ کے نظام کو مضبوط کرنے اور مشرق وسطیٰ کے خطے کو عدم استحکام کا شکار کرنے والے اقدامات سے پرہیز کے ذریعے ہی ممکن ہے۔
خبر کا کوڈ : 799372
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب