0
Sunday 16 Jun 2019 18:11

حالیہ آئل ٹینکر حملوں پر سعودی ولی عہد کی ایران پر ہرزہ سرائی

حالیہ آئل ٹینکر حملوں پر سعودی ولی عہد کی ایران پر ہرزہ سرائی
اسلام ٹائمز۔ سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان نے مشرق وسطیٰ میں آئل ٹینکرز پر ہونے والے حملوں کا ذمہ دار ایران کو ٹھہراتے ہوئے الزام عائد کیا کہ وہ ملک کو دی جانے والی دھمکیوں سے نمٹنے کے لئے کسی قسم کی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کریں گے۔ گذشتہ ہفتے عمان کے ساحل کے قریب 2 آئل ٹینکرز کو دھماکا خیز مواد سے نشانہ بنایا گیا تھا اور یہ ایک ماہ کے دوران آئل ٹینکرز پر ہونے والا دوسرا حملہ تھا، جسے امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے تناظر میں دیکھا جارہا ہے۔ فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی نے عربی روزنامہ اشراق الوسط کے حوالے سے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ محمد بن سلمان کا کہنا تھا کہ ہم خطے میں جنگ نہیں چاہتے۔۔۔ لیکن ہم اپنی عوام کو، ملک کے استحکام کو اور اپنے مفاد کو دی جانے والی دھمکیوں کا جواب دینے میں ہچکچاہٹ محسوس نہیں کریں گے۔

اپنے الزام میں ان کا مزید کہنا تھا کہ ایران نے تہران میں جاپانی وزیراعظم کے مہمان ہونے کا بھی خیال نہیں کیا اور ان کی سفارتی کوششوں کا یوں جواب دیا کہ خطے میں 2 ٹینکرز پر حملہ کیا گیا جن میں سے ایک جاپانی تھا۔ اس کے علاوہ انہوں نے 12 مئی کو متحدہ عرب امارات کے پورٹ فوجیرہ پر 4 آئل ٹینکروں پر ہونے والے حملوں کا ذمہ دار بھی ایران اور خطے میں موجود ان کی پراکسیز کو قرار دیا۔ خیال رہے کہ اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی متحدہ عرب امارات اور عمان کے ساحل پر آئل ٹینکرز پر ہونے والے حملوں کی ذمہ داری ایران پر عائد کی تھی اور ساتھ ہی ایران کی تردید کو بھی مسترد کردیا تھا۔ یاد رہے کہ سعودی عرب، امریکا کا خطے میں انتہائی قریبی اتحادی تصور کیا جاتا ہے اور دونوں ہی ممالک کے ایران سے تعلقات انتہائی کشیدہ ہیں۔

گذشتہ دنوں امریکی فوج کی جانب سے فوٹیج جاری کی گئیں تھیں جس کے حوالے سے دعویٰ کیا جارہا تھا کہ اس میں ایرانی پیٹرولنگ کشتی کو ایک آئل ٹینکر کے ساتھ کارروائی کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ گذشتہ روز متحدہ عرب امارات کے وزیر خارجہ شیخ عبداللہ بن زیاد النہیان نے عالمی طاقتوں سے بین الاقوامی کشیدگی روکنے اور توانائی کی سپلائی لائن کو محفوظ بنانے کا مطالبہ کیا تھا۔ خطے میں کشیدگی کو کم کرنے کی کوششوں میں مصروف متحدہ عرب امارات کے وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ ہم پُر امید ہیں کہ ایران سے وسیع تعلقات سے متعلق فریم ورک بنا لیں گے۔ علاوہ ازیں سعودی عرب کے وزیر برائے توانائی نے حالیہ واقعہ کے بعد توانائی کی ترسیل کو لاحق خطرات کا فوری اور فیصلہ کن جواب دینے کا مطالبہ کیا تھا۔ واضح رہے کہ 13 جون کو خلیج عمان میں دو ٹینکروں پر حملہ کیا گیا تھا۔ جس کی ذمہ داری تاحال کسی قبول نہیں کی۔
خبر کا کوڈ : 799834
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب