0
Tuesday 18 Jun 2019 00:20

بلوچستان حکومت کا بجٹ کو ”عوامی بجٹ، عوامی ترجیحات“ کا عنوان دینے کا فیصلہ

بلوچستان حکومت کا بجٹ کو ”عوامی بجٹ، عوامی ترجیحات“ کا عنوان دینے کا فیصلہ
اسلام ٹائمز۔ وزیراعلٰی بلوچستان جام کمال خان کا کہنا ہے کہ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں پالیسی ریفارمز اور پی ایس ڈی پی کے ذریعہ ہر شعبہ میں بہتری لائی جائے گی، صوبے میں ایک عوامی حکومت ہے جو عوام کو کبھی مایوس نہیں کرے گی۔ کوئٹہ میں وزیراعلٰی جام کمال کی زیرصدارت صوبائی کابینہ کے اجلاس میں آئندہ مالی سال کے صوبائی بجٹ کو ”عوامی بجٹ عوامی ترجیحات“ کا عنوان دینے کا فیصلے کیا گیا ہے جبکہ کابینہ اراکین کی جانب سے بجٹ کی تیاری کے حوالے سے وزیراعلٰی کے وژن کو سراہتے ہوئے اس یقین کا اظہار کیا گیا ہے کہ 2019-20ء کا بجٹ صوبے کا تاریخی بجٹ ہوگا۔ صوبائی کابینہ کو آئندہ مالی سال کے بجٹ کے خدوخال اور ترقیاتی و غیر ترقیاتی تخمینہ جات سے متعلق سیکرٹری خزانہ نور الحق بلوچ نے بریفنگ دی۔

انہوں نے بتایا کہ بجٹ میں تعلیم اور صحت سمیت دیگر شعبوں میں اصلاحاتی عمل کو ترجیح حاصل رہے گی، نئی صنعتوں اور سی پیک کی ضروریات کے مطابق ہُنر مند افرادی قوت کی تیاری کے پروگرام کا آغاز کیا جائے گا، جس کے تحت موبائل ٹریننگ یونٹس کے ذریعہ ہر ضلع میں 3 ماہ کے تربیتی پروگرام شروع کرکے نوجوانوں کو مختلف شعبوں میں ہنرمند بنایا جائے گا اور آئندہ مالی سال میں ریسورس مینجمنٹ کے ذریعہ محصولات و آمدنی میں اضافہ کو ممکن بنایا جائے گا، سوشل سیکٹر پروٹیکشن اور یوتھ ڈیولپمنٹ پروگرام کو بھی ترجیح دی جائے گی اور ترمیمی فنانس بل 2019ء متعارف کرایا جائے گا، انہوں نے محکمہ تعلیم اور محکمہ صحت میں مجوزہ اصلاحات اور ریفارمز پروگرام کی تفصیلات سے بھی آگاہ کیا۔ کابینہ نے بلوچستان مائنز اینڈ منرل ڈیولپمنٹ پالیسی 2019ء کی اصولی طور پر منظوری دیتے ہوئے پالیسی کو مزید جامع بنانے کیلئے پارلیمنٹیرینز اور اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت اور تجاویز کے حصول کیلئے ایک ماہ کے اندر سیمینار منعقد کرنے کی ہدایت کی۔

سیکرٹری معدنیات زاہد سلیم نے مجوزہ پالیسی کے حوالے سے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ معدنیات کے شعبہ میں یہ پہلی پالیسی ہے، اور محکمہ نے اپنے وسائل کے ذریعہ اسے مرتب کیا ہے، جس میں معدنیات کی ترقی، مقامی افراد کے معاشی اور صوبے کے مجموعی مفادات کے تحفظ کو یقینی بنایا گیا ہے، کابینہ نے جامع پالیسی مرتب کرنے پر محکمہ معدنیات کی کاوشوں کو سراہا اور اس بات سے اتفاق کیا گیا کہ ماضی میں صوبے کے وسائل کے تحفظ کی پالیسیوں کے فقدان کے باعث بلوچستان کے مفادات کا تحفظ صحیح معنوں میں نہیں کیا جاسکا تاہم موجودہ حکومت اس حوالے سے مؤثر پالیسیوں کو متعارف کرا کے ان پر عملدرآمد یقینی بنائے گی اور اپوزیشن سمیت تمام اسٹیک ہولڈروں کو اعتماد میں لیا جائے گا۔

کابینہ نے پولیس فورس کے کانسٹیبل، ہیڈ کانسٹیبل اور اسسٹنٹ سب انسپکٹر کی اسامیوں کی اپ گریڈیشن کی منظوری دیتے ہوئے لیویز فورس کی اسامیوں کی اپ گریڈیشن کا بھی فیصلہ کیا اور اس حوالے سے محکمہ داخلہ اور محکمہ خزانہ کو فوری اقدامات کی ہدایت کی۔کابینہ نے محکمہ صحت کے عمودی پروگراموں کیلئے  اضافی فنڈز کے اجراء اور ہرنائی گرڈ اسٹیشن کی اپ گریڈیشن کی منظوری بھی دی، جس کیلئے وفاقی اور صوبائی حکومتیں فنڈز فراہم کریں گی، کابینہ میں فیصلہ کیا گیا کہ آئندہ مالی سال کے ترقیاتی پروگرام میں شامل ایسے نئے منصوبوں جن کی تمام کاغذی کارروائی مکمل ہوچکی ہوگی، کیلئے فنڈز کا اجراء اور ٹینڈرنگ پراسس اس سال جولائی کے دوسرے ہفتے میں شروع کردیا جائے گا۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلٰی بلوچستان نے کابینہ کے ایجنڈے میں بھرپور دلچسپی لینے اور تجاویز و مشاورت پر اراکین کابینہ کا شکریہ ادا کیا، ان کا کہنا تھا کہ یہ صوبے کی پہلی کابینہ ہے جس میں تمام اہم صوبائی امور کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے باہمی اتفاق رائے کے ساتھ طے کیا جاتا ہے، کابینہ کے ساتھیوں اور پارلیمانی دوستوں کا اعتماد اور حمایت میری طاقت ہے۔ وزیراعلٰی نے اس موقع پر آئندہ مالی سال کے ترقیاتی پروگرام کے حوالے سے اپنے وژن پر روشنی ڈالتے ہوئے کابینہ کو اعتماد میں لیا اور کہا کہ پالیسی ریفارمز اور پی ایس ڈی پی کے ذریعہ ہر شعبہ میں بہتری لائے جائے گی، صوبے میں ایک عوامی حکومت ہے جو عوام کے سامنے جوابدہ ہے اور ہم کبھی بھی عوام کو مایوس نہیں کریں گے۔
 
خبر کا کوڈ : 800045
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب