0
Tuesday 18 Jun 2019 13:06
جعلی بنک اکاؤنٹس کے ذریعے ٹرانزیکشنز بہت بڑا جرم ہے

کرمنل کیسز تقریباً ختم ہونیوالے ہیں، چند ہفتوں میں صفر رہ جائینگے، چیف جسٹس

کرمنل کیسز تقریباً ختم ہونیوالے ہیں، چند ہفتوں میں صفر رہ جائینگے، چیف جسٹس
اسلام ٹائمز۔ جعلی بنک اکاؤنٹس سے متعلق  ایک کیس کی سماعت کے دوران  چیف جسٹس آف پاکستان نے ریمارکس دیئے ہیں کہ جعلی بنک اکاؤنٹس کے ذریعے ٹرانزیکشنز بہت بڑا جرم ہے، بنک والوں کی شمولیت کے بغیر جعلی اکاؤنٹس نہیں کھل سکتے۔ نیشنل بینک راولپنڈی برانچ کے سینیئر اسسٹنٹ محمد انور کی جانب سے جعلی بنک اکاؤنٹس کھلونے کا کیس چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں 3 رکنی بنچ نے سنا۔ بنک کے وکیل نے دلائل دیئے کہ ملزم نے مختلف برانچوں میں جعلی اکاؤنٹس کھول کر دھوکہ دیا اور مظفرآباد برانچ سے بھی پیسے نکلوائے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ بنک والوں کی مرضی کے بغیر جعلی اکاؤنٹس نہیں کھل سکتے۔ ایک لاکھ کا اکائؤنٹ کھول کر اسے 9 لاکھ کا بنا دیا۔

چیف جسٹس کاکہنا تھا کہ 3 سال قید تو بہت کم دی گئی، جتنے بھی اکاؤنٹ کھلے سب کے اوپننگ فارم پر ملزم کے دستخط تھے، جتنی بھی ٹرانزیکشنز ہوئیں ملزم ان میں ملوث تھا۔ تفصیلات کیمطابق چیف جسٹس پاکستان نے ملزم کے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ چاہتے ہیں کہ ملزم کو بری کردیں تاکہ وہ بنک میں دوبارہ جائے اور جو بچ گیا ہے وہ کام بھی مکمل کرے۔ عدالت نے درخواست واپس لینے کی بنا پر نمٹا دی۔ سپریم کورٹ میں ایک کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کرمنل کیسز سے متعلق ریمارکس دیئے کہ کرمنل کیسز تقریباً اب ختم ہو گئے ہیں، انشاءاللہ اگلے چند ہفتوں میں صفر رہ جائیں گے، اس ہفتے کے بعد صرف 100 اپیلیں رہ جائیں گی، تمام کیسز کی ایک ساتھ تیاری کرلیں، کیسز ختم ہونے والے ہیں۔

سپریم کورٹ میں چیف جسٹس پاکستان جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں سینئر اسسٹنٹ بینک محمد انور کے جعلی اکاؤنٹس کھلوانے سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی، جس میں عدالت نے درخواست واپس لینے کی بنا پر معاملہ نمٹا دیا۔ چیف جسٹس آف پاکستان نے سماعت کے دوران ریمارکس دیئے کہ ایک کیس میں ٹرائل کورٹ نے ملزم محمد انور ایوب کو 3 سال سزا اور 8 لاکھ جرمانہ کیا، دوسرے کیس میں ٹرائل کورٹ نے ملزم محمد انور ایوب کو 8 سال کی سزا دی اور ہائیکورٹ نے دونوں کیسز میں سزا 3 سال کردی۔ چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیئے کہ بینک والوں کی شمولیت کے بغیر جعلی اکاؤنٹس نہیں کھل سکتے، ایک لاکھ کا اکاؤنٹ کھول کر اسے 9 لاکھ بنا دیا، اکاؤنٹ بغیر تصدیق کے تو نہیں کھل سکتے۔ جتنے بھی اکاؤنٹ کھلے سب کے اوپننگ فارم پر ملزم کے دستخط تھے، جتنی بھی ٹرانزیکشنز ہوئیں ملزم ان میں ملوث تھا۔
 
خبر کا کوڈ : 800156
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے