0
Tuesday 18 Jun 2019 20:23

خیبرپختونخوا، 900  ارب روپے کا مجوزہ بجٹ پیش، قبائلی اضلاع کیلئے 162 ارب روپے مختص

خیبرپختونخوا، 900  ارب روپے کا مجوزہ بجٹ پیش، قبائلی اضلاع کیلئے 162 ارب روپے مختص
اسلام ٹائمز۔ خیبرپختونخوا حکومت آج 900 ارب روپے مجوزہ بجٹ پیش کررہی ہیں جس میں قبائلی اضلاع کیلئے 162 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ تحریک انصاف کے مرکزی میڈیا سیل کے مطابق صوبائی اسمبلی میں نئے مالی سال 2019-20 کا بجٹ وزیر خزانہ تیمور سلیم جھگڑا پیش کر رہے ہیں۔ بجٹ میں قبائلی اضلاع کیلئے 162 ارب روپے ضم شدہ قبائلی اضلاع کیلئے جبکہ 693 ارب روپے باقی اضلاع کے لئے رکھے گئے ہیں۔ صوبے کے ترقیاتی بجٹ کا حجم 319 ارب روپے جن میں 83 ارب قبائلی اضلاع جبکہ 236 ارب روپے باقی اضلاع کے لئے مختص کیے گئے ہیں۔ بجٹ میں سیاحت، کھیل اور امور نوجوانان کے لئے بجٹ میں 100 فیصد، شہری ترقی بشمول پشاور کی ترقی کے لئے بجٹ میں 67 فیصد، زراعت کے لئے 63 فیصد، سائنس اینڈ ٹیکنالوجی 62 فیصد، جنگلات 43 فیصد، انڈسٹریز 40 فیصد اور اعلی تعلیم کے لئے 40 فیصد اضافے کی تجویز دی گئی ہے۔ اسی طرح پسماندہ اضلاع کولائی پالس، بٹگرام، ٹانک، کوہستان بالا، شانگلہ، چترال بالا و زیریں اور ہنگو کے لئے 1.1 ارب روپے کا سپیشل فنڈ جبکہ تور غیر کے لئے الگ پروگرام اور دیر کے لئے اے ڈی پی میں نمایاں فنڈنگ کی گئی ہے۔ ضم شدہ قبائلی اضلاع کا بجٹ 55 ارب سے بڑھا کر 162 ارب روپے کرنے کی تجویز ہے، جس میں 10 سالہ ترقیاتی پروگرام کے تحت پہلے سال کے لئے 83 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ علاوہ ازیں ضم شدہ قبائلی اضلاع میں 17 ہزار نوکریوں اور لیویز خاصہ داروں کے لئے 24 ارب روپے جبکہ 59 ارب ترقیاتی کاموں کیلئے رکھے گئے ہیں۔ پچھلے سال صوبے اور اضلاع کی تنخواہوں کی مد میں 256 ارب روپے مختص تھے اور اس عدد کو نئے مالی سال کے دوران بھی برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ وزیر اعلی اور صوبائی کابینہ کی تنخواہ میں 12 فیصد کمی کے علاوہ گریڈ 20 سے گریڈ 22 تک سرکاری ملازمین کی تنخواہ میں کوئی اضافہ نہ کرنے جبکہ ایڈہاک ریلیف الاؤنس کی مد میں گریڈ 17 سے گریڈ 19 تک تنخواہ میں 5 فیصد اور گریڈ 16 اور اس سے نیچے تک تنخواہ میں 10 فیصد اضاف کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
 
ریٹائرمنٹ عمر کی حد 63 سال تک بڑھانے سے سالانہ 20 ارب بچت ہوگی۔ دوسری جانب کم از کم ماہانہ اجرت 15 ہزار روپے سے بڑھا کر 17,500 روپے کر دی گئی ہے۔ پچھلے سال پنشن اور تنخواہ کے اخراجات کل بجٹ کا 51 فیصد تھے، اس سال اخراجات میں کمی کے ساتھ 60 ارب روپے کی بچت ہوگی۔ خیبر پختونخوا ریوینو اتھارٹی نے پچھلے سال ٹیلی کام سیکٹر محاصل کے علاوہ 50 فیصد زیادہ ریونیو اکھٹا کیا جبکہ اس سال 53.4 ارب روپے محاصل اکھٹا کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے 2023 تک جسے 100 ارب روپے تک بڑھایا جائے گا۔
خبر کا کوڈ : 800206
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب