0
Tuesday 18 Jun 2019 23:37

وفاقی حکومت کے الیکٹرک کے جھوٹے بلوں پر فوری ایکشن لے، علامہ باقر عباس زیدی

وفاقی حکومت کے الیکٹرک کے جھوٹے بلوں پر فوری ایکشن لے، علامہ باقر عباس زیدی
اسلام ٹائمز۔ وفاقی حکومت کے الیکٹرک کے جھوٹے بلوں پر فوری ایکشن لے، زائد بجلی کا بل کے الیکٹرک کی کھلی معاشی دہشت گردی ہے، غریب صارفین ان بلوں کو دیکھ کر ہوش و حواس کھو بیٹھے ہیں اور وفاقی حکومت کے الیکٹرک کے جھوٹے بلوں پر کوئی کاروائی نہیں کررہی ہے، کے الیکٹرک کا نیا بل ٹیرف اور اسکے بعد لیٹ بلنگ انتہائی ظالمانہ ہے جبکہ پہلے ہی مرکب سود کی طرز پر بل چارج کئے جاتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار مجلس وحدت مسلمین سندھ کے سیکریٹری جنرل علامہ باقر زیدی نے میڈیا سیل کراچی سے جاری اپنے ایک بیان میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ کے الیکٹرک کا ادارہ پرائیوٹ ہونے کے بعد اربوں ڈالر سالانہ کما رہا ہے جو غریب عوام کی جیبوں سے چوری کیا جاتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ لوڈشیڈنگ دورانیہ کا تعین بلوں کی ادائیگی سے جوڑنا سفاکانہ طرز عمل ہے جس کی غریب عوام بھرپور مذمت کرتے ہیں۔ علامہ باقر زیدی نے کہا کہ کے الیکٹرک کی سوچ پوری طرح کمرشل بن چکی ہے جس سے عوام کو کوئی فائدہ نہیں، حکومت جلد از جلد اس ادارے کو واپس نیشنلائز کرے۔

علامہ باقر زیدی نے مزید کہا کہ کے الیکٹرک کے زیادہ استعمال والے اوقات میں جس نئے ٹیرف کو نافذ کرنا چاہتی ہے اس کا براہ راست نقصان تمام صارفین کو ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی نااہلی کی وجہ سے مہنگائی بڑھنے کا جو لامتناہی تسلسل جاری ہے اس کی وجہ سے روزمرہ استعمال کی ہر چیز خوفناک حد تک مہنگی ہوچکی ہے اور غریب آدمی دو وقت کی روٹی کے حصول کے لئے ناجائز ذرائع اختیار کرنے پر مجبور ہے، وزیراعظم سمیت تمام وزراء کے معاشی بہتری کے تمام تر دعوے طفل تسلی کے سوا کچھ نہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے عوام کو ریلیف دینے کی بجائے مزید ٹیکس کے پہیے میں کچل دیا ہے، تنخواہ دار طبقہ پر بھاری ٹیکس لگانا، بجلی گیس اور پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے نے غریب عوام کی کمر توڑ دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکمران اپنے عوام کو ریلیف دینے میں ناکام رہے۔ انہون نے اعداد و شمار کا ہیرپھیر اور ملک کے متوسط طبقے کی مشکلات میں ناقابل برداشت اضافہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ بجٹ انتہائی مایوس کن ہے، مہنگائی کے موجودہ تناسب سے مطابقت نہ رکھنے والا یہ بجٹ ظاہر کرتا ہے کہ حکومت کی داخلی اور خارجی پالیسیوں کی طرح اقتصادی معاملات بھی صلاحیتوں کے فقدان کی نذر ہو رہے ہیں۔

علامہ باقر زیدی نے کہا کہ سابقہ حکومت کی ناکام تجارتی پالیسیوں اور وطن عزیز میں عدم استحکام کی صورتحال نے غیر ملکی سرمایہ کاروں کو پاکستان سے دور کرنے میں اہم کردار ادا کیا، غیر ملکی قرضوں میں مذید اضافہ ہوا پاکستان کا کثیر سرمایہ غیر قانونی طریقہ سے ملک سے باہر منتقل کیا گیا، جس سے ملکی ترقی پر منفی اثرات مرتب ہوئے، پڑھے لکھے نوجوان طبقے کو ملازمتوں کی فراہمی میں شدید مشکلات کا سامنا ہے، جس سے عام شہریوں کی مایوسی میں اضافہ ہوا ہے۔ علامہ باقر زیدی نے کہا کہ وفاقی حکومت کی اصل ترجیحات سیاسی رسہ کشی اور سابقہ حکمرانوں کی کرپشن کو عیاں کرنے میں مقصود رہی ہے، غریب عوام کو پینے کی پانی سے لے کر بجلی، صحت کے بنیادی ضروریات،تعلیمی سہولیات تک میسر نہیں، اس بجٹ میں صرف سابقہ حکومتوں کی بجٹ پالیسی پر الزامات لگا کر عوام پر مزید ٹیکس لگا کر مشکلات میں مبتلا کردیا گیا ہے۔
خبر کا کوڈ : 800225
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے