0
Friday 21 Jun 2019 13:45
احتساب عدالت نے آصف زرداری کے ریمانڈ میں 11 روز کی توسیع کر دی

ایک ہی بار 90 دن کا ریمانڈ دیں، زرداری کا جج سے مکالمہ، احتساب عدالت میں قہقہے

ایک ہی بار 90 دن کا ریمانڈ دیں، زرداری کا جج سے مکالمہ، احتساب عدالت میں قہقہے
اسلام ٹائمز۔ قومی احتساب بیورو (نیب) پراسیکیوٹر نے آصف علی زرداری کااسلام آباد کی احتساب عدالت سے مزید 14روزہ جسمانی ریمانڈ مانگا تو سابق صدر نے جج سے مخاطب ہو کر کہا کہ ایک ہی بار 90 دن کا ریمانڈ دے دیں، یہ کیا 14،14 دن کا ریمانڈ دے رہے ہیں؟ آصف علی زرداری کی بات پر عدالت میں قہقے گونج اٹھے۔ نیب کی طرف سابق صدر کے مزید جسمانی ریمانڈ کی استدعا پر عدالت نے انہیں 2 جولائی تک نیب کے حوالے کر دیا۔ مبینہ جعلی بنک اکاؤنٹس کیس میں گرفتار سابق صدر آصف علی زرداری کو دس روزہ جسمانی ریمانڈ ختم ہونے کے بعد اسلام آباد کی احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کے روبرو پیش کیا گیا۔ ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل سردار مظفر نے سابق صدر کے میڈیکل چیک اپ کی رپورٹ عدالت میں جمع کرا دی۔ نیب پراسیکیوٹر نے سابق صدر کے 14 روزہ مزید جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی، جج ارشد ملک نے آصف زرداری کے وکیلوں سے مخاطب ہوکر کہا کہ پراسیکیوٹر بتانا چاہتے ہیں کہ انہیں کون کون سی بات پتہ چل چکی ہے۔ سردار لطیف کھوسہ نے کہا انہیں کوئی باتیں پتہ نہیں چلیں بلکہ یہ صرف کہانیاں گھڑ رہے ہیں کیونکہ یہ سارا کیس صرف مفروضوں پر مبنی ہے۔ ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل نیب سردار مظفر عباسی نے عدالت کو تفتیش میں پیش رفت سے آگاہ کیا۔ آصف زرداری سے اب تک ہونے والی تفتیش کی پیش رفت رپورٹ عدالت میں پیش کردی گئی۔ آصف زرداری رپورٹ کا متن سننے روسٹرم پر آئے تو نیب پراسیکیوٹر نے کہا کیا زرداری صاحب کچھ کہنا چاہتے ہیں؟ اس پر لطیف کھوسہ نے کہا کہ نہیں، یہ صرف سننا چاہتے ہیں، جو ان کے بارے میں لب کشائی کی جا رہی ہے۔ سردار مظفر عباسی نے کہا ہم کچھ گھڑ نہیں رہے بلکہ تفتیش میں سامنے آنے والی باتیں بتا رہے ہیں۔ دوران تفتیش آصف زردرای نے مفرور ملزم ناصر عبداللہ سے قریبی تعلق کو تسلیم کیا ہے، زرداری نے یہ تسلیم نہیں کیا کہ ناصر عبداللہ ان کا فرنٹ مین ہے۔ آصف زرداری کے وکیل فاروق ایچ نائیک نے کہا انکے مؤکل کا ان اکاونٹس سے کوئی تعلق نہیں، کسی دستاویز پر اصف علی زرداری کے دستخط موجود نہیں ہیں۔ فاروق ایچ نائیک نے کہا ملزم ناصر نے اپنے بیان میں کہا کہ آصف زرداری کو جانتا ہوں مگر کوئی مالی تعلق نہیں، ناصر عبداللہ نے بیان میں کہا کسی شخص کو جاننا کوئی جرم نہیں ہے۔ نیب ٹیم نے سابق صدر کو 10جون کو اسلام آباد ہائیکورٹ سے ضمانت کی درخواست مسترد ہونے پر گرفتار کرکے تفتیش کے لئے 20 جون تک جسمانی ریمانڈ حاصل کیا تھا۔ یاد رہے کہ 11جون کو اسلام آباد کی احتساب عدالت  نے سابق صدرآصف زرداری کو دس روزہ جسمانی ریمانڈ پر نیب کے حوالے کیا تھا۔

نیب پراسیکیوٹر نے آصف زرداری کے 14 روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی تھی۔ عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد نیب کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا تھا جو لگ بھگ پون گھنٹے بعد سنا دیا گیا تھا۔ نیب پراسیکیوٹر سردار مظفر عباسی نے عدالت کو بتایا تھا کہ بنک حکام کی معاونت سے جعلی بینک اکاؤنٹس کھولے گئے۔ ملزم کو گرفتار کیا ہے تفتیش کے لئے ریمانڈ کی ضرورت ہے۔ آصف زرداری کے وکیل فاروق ایچ نائیک نے اپنے دلائل میں کہا تھا کہ کیس کراچی کی عدالت سے اس عدالت کو منتقل ہوا، اس عدالت نے آصف زرداری کے مچلکے وصول کیے۔جب کیس اس عدالت میں ہے تو کیا چیئرمین نیب کے پاس اختیار ہے کہ وہ وارنٹ گرفتاری جاری کرے؟ زرداری کے وکیل نے کہا چیئرمین نیب کے پاس انکوائری اور تفتیش کے دوران گرفتاری کا اختیار ہوتا ہے، اس کیس میں وہ وقت گزر چکا اب ریفرنس دائر ہو چکا ہے۔ فاروق ایچ نائیک نے کہا سپریم کورٹ نے نیب کو تفتیش کے لئے دو ماہ کا وقت دیا۔سپریم کورٹ سے ہمیں کوئی نوٹس جاری نہیں ہوا کہ سپریم کورٹ نے مدت میں توسیع کی ہے۔ ہمیں تاحال وارنٹ گرفتاری اور گرفتاری کی وجوہات فراہم کی گئیں۔ سابق صدر کے وکیل نے کہا آصف زرداری کا پرتھنون کمپنی سے کوئی تعلق نہیں ہے، نہ وہ اس کے ڈائریکٹر ہیں۔ یہ چار ارب روپے کی بات کرتے ہیں میرے موکل پر ڈیڑھ کروڑ روپیہ ڈالا گیا۔ فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ وہ گنے کی سپلائی کی رقم ہے اس کے دستاویزات ہائی کورٹ میں بھی جمع کرائیں۔ آصف زرداری کو گرفتار کر کے نیب نے اس عدالت کی توہین کی ہے۔اس کیس میں دیگر ملزمان کے مچلکے عدالت نے منظور کیے ان کے وارنٹ جاری نہیں کیے گئے۔ آصف زرداری کے وکیل نے کہا یہ قانون کی خلاف ورزی ہے، قانون کہتا ہے کہ تمام ملزمان سے برابری کی بنیاد پر سلوک کیا جائے۔اس کیس کے مرکزی ملزمان کو گرفتار نہیں کیا گیا، میرے  موکل پر تو صرف ڈیڑھ کروڑ روپے کا الزام ہے۔ فاروق ایچ نائیک نے استدعا کی تھی کہ عدالت آصف زرداری کے ورانٹ گرفتاری کالعدم قرار دے کر انہیں رہا کرنے کا حکم دے۔
خبر کا کوڈ : 800702
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب