0
Saturday 22 Jun 2019 23:29
سمجھ نہیں آرہا کہ اس ملک کو چلا کون رہا ہے، سینیئر صحافی فہد حسین

شریف خاندان میں وراثت کی جنگ چل رہی ہے، سینیئر صحافی ارشاد بھٹی

شریف خاندان میں وراثت کی جنگ چل رہی ہے، سینیئر صحافی ارشاد بھٹی
اسلام ٹائمز۔ سینیئر صحافی ارشاد بھٹی نے کہا ہے کہ شریف خاندان میں وراثت کی جنگ چل رہی ہے، مریم نے آج صاف کہہ دیا کہ پہلے نواز شریف اور میں ہوں، باقی سب بعد میں ہیں۔ نجی ٹی وی کے پروگرام بریکنگ پوائنٹ ود مالک میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مریم نواز سچ نہیں بول رہی کہ پارٹی میں جمہوریت ہے، اگر ہوتی تو شہباز شریف ان کے ساتھ بیٹھے ہوتے۔ انہوں نے کہا کہ اس مرتبہ مسلم لیگ نون کو اندرونی انتشار کا بھی سامنا ہے، مریم نواز کی آج کی پریس کانفرنس اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے پر ایک سخت ردعمل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آج مریم نواز نے مسلم لیگ نون پر قبضہ کرنے کی کوشش کی ہے۔ مریم نواز کی جانب سے میثاق معیشت کو مذاق معیشت کہنے پر سینیئر صحافی فہد حسین نے کہا ہے کہ ان کے اس بیانیے پر میں بھی حیران ہوں، آج جس طرح دو مخلتف بیانیوں کا ٹکراؤ ہوا، اس پر کئی سوالات کھڑے ہوتے ہیں کہ اس موقع پر یہ بیان دینے کا مقصد کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تحقیقاتی کمیشن کے حوالے سے مریم نواز کا ردعمل فطری تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ نواز شریف کی صاحبزادی کا جو پریس کانفرنس میں بیانیہ تھا، وہ کیا پارٹی کا بھی بیانیہ ہے یا نہیں۔ انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کی حکومت میں گورننس کے نام پر خطابات تو بہت ہو رہے ہیں، مگر اس ملک میں گورننس نہیں ہو رہی، سمجھ نہیں آرہا کہ اس ملک کو چلا کون رہا ہے۔ سینیئر صحافی مظہر عباس نے کہا ہے کہ مریم نواز کی پریس کانفرنس میں آج ان کا غصہ دکھائی دے رہا تھا۔ انہیں  پارٹی کی قیادت سے گلہ ہے کہ ان کی جانب سے نواز شریف کو لے کر کوئی لائحہ عمل طے نہیں کیا جا رہا۔ انہوں نے کہا کہ مریم نواز اور ان کے حامیوں کو محسوس ہو رہا ہے کہ حکومت  نواز شریف کو کوئی ریلیف نہیں دے گی۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر سپریم کورٹ سے نواز شریف اور مریم نواز کی اپیل خارج ہو جاتی ہے تو ان کے پاس سیاست کے لئے کچھ نہیں۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کو سب سے بڑا خدشہ ہے کہ بلدیاتی الیکشن میں اگر نواز شریف کا بیانیہ بک گیا تو انہیں بہت نقصان ہوگا۔ پیپلز پارٹی پر جے ڈی اے اور ایم کیو ایم کی جانب سے دباؤ کے حوالے سے سوال پر ان کا کہنا تھا کہ بتایا جائے کہ عزیر بلوچ کس کی حراست میں ہے اور اس کا بیان کیسے لیک ہوا؟ ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن کی جماعتیں جانتی ہیں کہ آصف علی زرداری کے اوپر کیسز سنجیدہ نوعیت کے ہیں، جس کا وہ فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں۔
خبر کا کوڈ : 801005
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب