0
Sunday 23 Jun 2019 17:23
موجودہ نظام میں بھتہ لینا آسان، ٹیکس لینا مشکل ہے

پارلیمنٹ میں ہر طبقے کی نمائندگی کو یقینی بنانیکی کوشش ہونی چاہیئے، انوار الحق کاکڑ

پارلیمنٹ میں ہر طبقے کی نمائندگی کو یقینی بنانیکی کوشش ہونی چاہیئے، انوار الحق کاکڑ
اسلام ٹائمز۔ بلوچستان عوامی پارٹی (بی اے پی) کے رہنما اور سینیٹر انوار الحق کاکڑ نے کہا کہ ہمارے معاشرے میں قانون کی حکمرانی نہیں، اشرافیہ نے پورے نظام کو جکڑ لیا ہے۔ پروگرام ایجنڈا پاکستان میں میزبان عامر ضیاء نے اپنے ابتدائیے میں کہا کہ مسلم لیگ نون نے پنجاب اسمبلی میں نوازشریف سے کم سے کم 50 افراد کی ملاقات کا مطالبہ کیا ہے، عام قیدی سے اس کے گھر والے 20 منٹ کے لئے بھی مشکل سے ملتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اسی طرح آصف زرداری بھی ماضی کی سب چیزوں کو چھوڑ کر آگے دیکھنے کی بات کر رہے ہیں، ہماری سیاست میں یہ وطیرہ بن گیا ہے اسمبلیوں کو عوام سے متعلق پالیسیوں کے بجائے اپنے مفادات کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انوارالحق کاکڑ نے کہا کہ سیاسی جماعتوں نے خوف کو ہتھیار بنا کر اپنے لئے استعمال کیا اور پھر اسے سیاسی کلچر کا حصہ بنا دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جنوبی ایشیاء میں ایک بڑا سماجی مسئلہ ہے کہ یہاں طبقات سے سلوک ان کے درجے کی بنیاد پر ہوتا ہے۔

انوارالحق کاکڑ کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ میں ہر طبقے کی نمائندگی کو یقینی بنانے کی کوشش ہونی چاہیئے، ایم کیو ایم نے نچلی سطح کے لوگوں کو موقع دیا لیکن اس سے اس طبقے کے مسائل حل کرنے کے بجائے ان میں اضافہ کیا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے تجویز دی کہ جنہوں نے انتخاب کرنا ہے اور جن کا انتخاب ہونا ہے ان کے لئے کوئی بنیادی معیار مقرر کیا جانا چاہیئے کیونکہ جنہوں نے قوم کی تقدیر کا فیصلہ کرنا ہوتا ہے ان سے متعلق بھی کچھ شرائط کا ہونا ضروری ہے۔ رہنما بلوچستان عوامی پارٹی نے کہا کہ نوجوان قیادت اپنی الگ شناخت بنائے اور اپنے بڑوں کی غلطیوں کو بھی تسلیم کرے تو اس سے عوام ان کے پیچھے چل پڑیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ معاشرہ، خاندان اور ملک شہری کی تعلیم و تربیت میں اپنا کردار ادا کرے اس سے سب بدل جائے گا۔ تجزیہ کار ڈاکٹر رفعت حسین نے کہا کہ نظام عوام دوست نہیں ہے، اس کا رویہ شخصی بنیادوں پر ہوتا ہے، یہ سیاست کا المیہ ہے کہ عوامی مینڈیٹ لے کر ایوان میں آنے والا شخص بدل جاتا ہے اور خود کو قانون سے بالاتر سمجھنا شروع کردیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں ساختی اصلاحات کی ضرورت ہے لیکن اصل میں ہمارے رویئے غیرجمہوری ہیں۔ عام لوگوں کو نہ تعلیم دی گئی ہے اور نہ ہی ان کی تربیت کی گئی ہے۔

ڈاکٹر رفعت حسین نے کہا کہ تحریک انصاف کی اب تک کی کارکردگی یہ ہے کہ جن باتوں پر ووٹ لے کر آئی ہے ان سے یوٹرن لے لیا ہے۔ عمران خان عوام دوستی پر مبنی پالیسیوں کے بجائے آئی ایم ایف کی پالیسیاں نافذ کرنے کے لئے کوشاں ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ جب تک عام لوگوں کو موقع نہیں ملتا۔ مقامی حکومتوں کے نظام کو مضبوط نہیں کیا جاتا تب تک ملک میں جمہوریت مضبوط نہیں ہو سکتی۔ ڈاکٹر رفعت حسین نے کہا کہ خاندانی سیاست کے پس منظر سے آنے والے اسی مخصوص طریقے سے سیاست کرتے ہیں۔ جب تک نظام میں نئے لوگ نہیں آئیں گے، نئے طبقات کو نمائندگی کا موقع نہیں ملے گا تو یہی نظام رہے گا۔ انہوں نے ملکی مسائل کا حل بتاتے ہوئے کہا کہ سب کو تعلیم دے دیں، اس سے ملک بدل جائے گا۔ ماہر قانون راجہ عامر عباس نے کہا کہ آئین تفریق سے منع کرتا ہے لیکن موجودہ نظام میں اس پر عمل نہیں ہوتا۔ ہر آنے والی حکومت عوام سے ووٹ لے کر آتی ہے لیکن ان کے بجائے اپنے لئے قانون سازی کو ترجیح دیتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اراکین اسمبلی جن کی سرمایہ کاری سے ایوانوں میں آتے ہیں، وہ انہی کے مفادات کے تحفظ میں لگ جاتے ہیں۔ راجہ عامر عباس نے کہا کہ ہمیں کسی اور نظام کے پیچھے جانے کے بجائے دیکھنا ہوگا کہ کس نظام سے بہتر طور پر ہمارے مفادات کا تحفظ ہوتا ہے۔ ووٹ خرید کر آنے والے نظام کا استحصال کرکے اپنے لئے فائدے سمیٹتے ہیں، جیسے میثاق معیشت کی بات کرنے والی جماعتوں کے قائدین خود کرپشن پر جیلوں میں ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں راجہ عامر عباس نے کہا کہ اگر احتساب نہیں کرنا، اس سے آگے بڑھنا ہے تو اگلا قدم عدالتیں بند کرنا ہوگا۔ ملک میں قانون کی حکمرانی نہیں، یہ غریب اور امیر کے لئے مختلف ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر انصاف ہوگا تو اشرافیہ اور کچھ لوگوں کے لئے رعایتیں مانگنے اور دینے کی روایت خود ہی ختم ہوجائے گی۔ راجہ عامر عباس نے نوجوان قیادت سے متعلق سوال کے جواب میں تجزیہ دیا کہ موروثی سیاست کے ساتھ ساتھ اب موروثی کرپشن بھی سیاست میں آگئی ہے کہ نئی نسل پرانی قیادت کا دفاع اس طرح چاہتی ہے کہ کوئی ان کے ماضی کے اعمال سے متعلق سوال نہ کرے۔
خبر کا کوڈ : 801085
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب