0
Monday 24 Jun 2019 19:35

عوام اپنے منتخب ارکان کو سمجھائیں کہ وہ وفاقی بجٹ کو منظور نہ ہونے دیں، سعید غنی

عوام اپنے منتخب ارکان کو سمجھائیں کہ وہ وفاقی بجٹ کو منظور نہ ہونے دیں، سعید غنی
اسلام ٹائمز۔ وزیر بلدیات سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ ملک بھر کے عوام سے گزارش کرتا ہوں کہ وہ اپنے اپنے حلقہ سے منتخب ہونے والے ارکان قومی اسمبلی کے پاس جاکر انہیں سمجھائیں کہ وہ اس بجٹ کو منظور نہ ہونے دیں، کیونکہ یہ بجٹ منظور ہوا تو مہنگائی کا سونامی جو گذشتہ 11 ماہ سے اس ملک میں معاشی دہشتگردوں کی وجہ سے آیا ہے اس میں مزید اضافہ ہوجائے گا، پیپلز پارٹی کے قائدین، کارکنان اور ارکان اسمبلی کسی قسم کے ہتھکنڈوں اور دباؤ سے ڈرنے والے نہیں ہیں اور ہم تمام کا مقابلہ کرنے کی ہمت رکھتے ہیں، عزیر بلوچ کے بیان پر اگر کسی شخص کو سزا ہوسکتی ہے تو وہ ذوالفقار مرزا کے سوا اور کوئی نہیں ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے سندھ اسمبلی کے باہر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔ سعید غنی نے کہا کہ میں کراچی کے عوام کا شکر گذار ہوں کہ انہوں نے پیپلز پارٹی کراچی ڈویژن کے تحت عوام دشمن بجٹ اور مہنگائی کے خلاف نکالی جانے والی ریلی میں بڑی تعداد میں شرکت کی اور اس آئی ایم ایف کے بجٹ کو مسترد کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم اور دیگر حکومتی اتحادی جماعتوں کے جو ارکان قومی اسمبلی جن جن حلقوں سے منتخب ہوئے ہیں، ان کے عوام سے گزارش کرتا ہوں کہ وہ ان کے گھروں پر جائیں اور انہیں سمجھائیں کہ وہ وفاقی بجٹ کو منظور نہ ہونے دیں، کیونکہ یہ بجٹ دراصل آئی ایم ایف کا بجٹ ہے اور اس سے مہنگائی میں مزید اضافہ ہوگا اور اس کا براہ راست اثر عوام پر ہوگا۔ سعید غنی نے کہا کہ وہ ان ارکان کو بتائیں کہ وہ عوام اور غریبوں کے نمائندے ہیں آئی ایم ایف کے نمائندے نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم جب ہماری وفاقی حکومت کا حصہ تھی اس وقت بین الاقوامی مارکیٹوں میں پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے پر ہماری وفاقی حکومت پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کرتی تھی تو وہ حکومت سے علیحدہ ہوجاتی تھی، لیکن آج جب پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں عالمی منڈی میں کمی کے باوجود ہر ماہ باقاعدگی سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہورہا ہے تو ایم کیو ایم کیوں خاموش ہے۔

انہوں نے کہا کہ میں ایم کیو ایم کے ووٹروں سے بھی پوچھتا ہوں کہ وہ اپنے ان منتخب نمائندوں سے پوچھیں کہ وہ آج کیوں معاشی دہشتگردی اور مہنگائی کے لئے آواز نہیں اٹھا رہے، یہ بھی ان کو سمجھائیں کہ وہ اس آئی ایم بجٹ کی منظوری میں حصہ دار نہ بنیں، کیونکہ یہ بجٹ مزید مہنگائی کا ضامن ہوگا۔ فریال تالپور کے حوالے سے سوال کے جواب میں سعید غنی نے کہا کہ جو خط انہوں نے الیکشن کمیشن کو لکھا گیا ہے اس میں آئین کے آرٹیکل کو جواز بنایا گیا ہے، اس کے لئے ضروری ہے کہ اس حوالے سے عدالت کا کوئی فیصلہ آیا ہو لیکن فریال تالپور کی جائیداد کے حوالے سے کسی بھی عدالت کی جانب سے کوئی فیصلہ نہیں آیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ الزام وہ لوگ لگا رہے ہیں جن کے لیڈران نے جائیداد تو کجا اپنی بیٹیاں بھی چھپائی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ علیمہ خان کی جائیدادیں تو سامنے آچکی ہیں اور انہوں نے نہ صرف اس کو تسلیم کیا بلکہ ایمنسٹی اسکیم سے فائدہ بھی اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ ایسا شخص کہے جس کے ہاتھ صاف ہو تو بات سمجھ میں نہیں آتی۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان جو آف شور کمپنی کے خلاف بولتا رہا ہے اس ملک کی سب سے پہلی آف شور کمپنی اس نے ہی بنائی۔ انہوں نے کہا کہ جعلی اکاؤنٹس جس پر آج کل ہمارے قائدین کے خلاف جھوٹے مقدمات بنائے گئے ہیں وہ پیپلز پارٹی کے قائدین کے کسی جاننے والے کے بھی نکل جائیں تو ہم قصوروار ہین، لیمن اگر خود جہانگیر ترین کے اپنے ملازمین کے جعلی اکاؤنٹس جو ثابت ہوگئے ہیں سامنے آتے ہیں تو وہ پارسا ہے اور پی ٹی آئی میں ہے۔
خبر کا کوڈ : 801268
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب