0
Monday 24 Jun 2019 19:54

آئی ایم ایف کے بجائے اللہ اور اسکے رسول (ص) کی غلامی میں تمام مسائل کا حل ہے، محمد حسین محنتی

آئی ایم ایف کے بجائے اللہ اور اسکے رسول (ص) کی غلامی میں تمام مسائل کا حل ہے، محمد حسین محنتی
اسلام ٹائمز۔ جماعت اسلامی سندھ کے امیر و سابق ایم این اے محمد حسین محنتی نے کہا ہے کہ آئی ایم ایف کی بجائے اللہ اور اس کے رسول (ص) کی غلامی اختیار کرنے میں ہی تمام مسائل کا حل مضمر ہے، ایک طرف ریاست مدینہ طرز کی حکمرانی کے دعوے تو دوسری طرف سودی نظام معیشت، مہنگائی کا طوفان اور قادیانی نواز پالیسیاں کھلا تضاد ہے، قیام پاکستان سے اب تک جو قرض لیا گیا ہے ان کا مکمل جائزہ لیا جائے، آئندہ قرض نہ لینے، سودی معیشت کے خاتمے کے ساتھ کھانے پینے کی اشیاء پر ٹیکس ختم کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جماعت اسلامی ضلع حیدرآباد کے ذمہ داران کے اجلاس سے خطاب کے دوران کیا۔ ضلعی امیر حافظ طاہر مجید، صوبائی سیکرٹری اطلاعات مجاہد چنا و دیگر ذمہ داران بھی ساتھ موجود تھے۔ اجلاس میں گذشتہ ماہ کی کارکردگی کا جائزہ سمیت آئندہ کی منصوبہ بندی بھی کی گئی۔ دریں اثناء صوبائی امیر نے میڈیا سیل کے ذمہ دار حسن راشد کے والد عبدالحمید قرنی کی وفات پر ان کے گھر جاکر تعزیت، مرحوم کی مغفرت، بلند درجات کی دعا کی۔ محمد حسین محنتی نے مزید کہا کہ ہر سال ہر حکومت میں بجٹ کا بڑا حصہ قرضوں کی واپسی اور سود کی ادائیگیوں پر خرچ ہوتا ہے، پی ٹی آئی کی موجودہ حکومت نے اپنے وعدوں کے بر عکس صرف 11 ماہ میں قرضے اور مہنگائی کے ریکارڈ توڑ دیئے ہیں۔

محمد حسین محنتی نے کہا کہ حکمرانوں کی عیاشیوں و کرپشن کا خمیازہ عوام پر مختلف ٹیکس لگا کر ان کی جیبوں پر ڈاکہ ڈالا جاتا ہے، جو کہ ظلم و نا انصافیوں کے مارے عوام کے ساتھ سراسر ظلم ہے۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی پہلے دن سے اصلاح معاشرہ، دیانتدار قیادت اور کرپشن فری پاکستان کیلئے جدوجہد کر رہی ہے، 30 جون کو سہراب گوٹھ تا مزار قائد سینیٹر سراج الحق کی قیادت میں عوامی مارچ بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے، جماعت اسلامی کسی چور کو بچانے یا سابقہ حکمرانوں کو سہارا دینے کی بجائے مہنگائی کے خاتمے سمیت دیگر عوامی مسائل کے حل اور آئی ایم ایف کی غلامی سے نجات کیلئے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی، کیونکہ ملک آج جن بحرانوں سے دوچار اور عوام مہنگائی کی لپیٹ میں اس کی ذمہ دار باری باری اقتدار پر قابض ہونے والی سابقہ حکمراں جماعتیں ہیں۔ صوبائی امیر نے کہا کہ جماعت اسلامی مخالفت برائے مخالفت نہیں بلکہ اچھے کاموں پر حکومت کی تحسین اور خراب کارکردگی پر اصلاح کی خاطر ان پر تنقید بھی کرتی رہے گے، حکومت کی نیت پر کوئی شک نہیں ہے مگر پالیسیاں اور ٹیم سابقہ حکومتوں والی ہے جس پر نظرثانی کی ضرورت ہے۔
خبر کا کوڈ : 801274
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب