0
Tuesday 25 Jun 2019 12:32

آئین میں ایسی کوئی شرط نہیں کہ سزایافتہ شخص پارٹی عہدیدار نہیں ہوسکتا، مریم نواز

آئین میں ایسی کوئی شرط نہیں کہ سزایافتہ شخص پارٹی عہدیدار نہیں ہوسکتا، مریم نواز
اسلام ٹائمز۔ مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے پارٹی عہدے کے خلاف درخواست پر اپنا تحریری جواب الیکشن کمیشن میں جمع کرا دیا ہے، تحریری جواب میں میں کہا ہے کہ آئین اور الیکشن ایکٹ میں ایسی کوئی شرط نہیں ہے کہ سزایافتہ شخص پارٹی کاعہدیدار نہیں ہوسکتا۔ الیکشن کمیشن نے مریم نواز کے سیاسی عہدے کے خلاف تحریک انصاف کی درخواست پر سماعت کی۔ مسلم لیگ (ن) کی جانب سے جواب جمع نہ کرایا گیا۔ مسلم لیگ (ن) کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ درخواست گزار نے مریم نواز کی بطور پارٹی نائب صدر تقرری پریس کلپنگز دی ہیں اس سے متعلق نوٹی فکیشن نہیں دیا۔ مریم نواز نے اپنے جواب میں کہا ہے کہ آئین اور الیکشن ایکٹ میں ایسی کوئی شرط نہیں کہ سزایافتہ شخص پارٹی کا عہدیدار نہیں ہوسکتا۔

اپنے جواب میں مریم نواز نےکہا کہ آمریت میں عوامی نمائندوں کومنتخب کرنے سے روکنے کے لئے اس طرح کے قوانین بنائے جاتے تھے، سیاسی جماعتوں کے آرڈر 2002ء میں شق رکھی گئی تھی کہ سزا یافتہ شخص پارٹی کا عہدہ نہیں رکھ سکتا، پارلیمنٹ نے الیکشن ایکٹ 2017ء میں اس شق کو ختم کر دیا تھا۔ مریم نواز نے اپنے جواب میں مزید کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلوں کا الیکشن کمیشن پر اطلاق نہیں ہوتا، اس لئے نواز شریف سے متعلق سپریم کورٹ کا فیصلہ یہاں لاگو نہیں ہوتا، ملیکہ بخاری اور دیگر درخواست گزار متاثرہ فریق نہیں ہیں اس لئے درخواست ناقابل سماعت ہے اور اسے خارج کیا جائے۔
خبر کا کوڈ : 801410
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے