0
Tuesday 25 Jun 2019 17:13
غریب ترین مسلم عرب ملک یمن شدید انسانی بحران کے دہانے پر!

امیر ترین مسلم ملک سعودی عرب کی وحشیانہ بمباری سے ہر سال 40 ہزار یمنی کینسر کا شکار

امیر ترین مسلم ملک سعودی عرب کی وحشیانہ بمباری سے ہر سال 40 ہزار یمنی کینسر کا شکار
اسلام ٹائمز۔ یمن کے وزیر صحت "طہ المتوکل" نے یمنی وزارت صحت کی رپورٹ جاری کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ 2015ء میں یمن پر جارح سعودی عرب کی طرف سے جنگ مسلط کئے جانے اور سعودی عرب کی مسلسل وحشیانہ بمباری کے آغاز سے تاحال سالانہ 40 ہزار لوگ کینسر کا شکار ہو رہے ہیں۔ طہ المتوکل نے ایک پریس کانفرنس سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یمن پر سعودی عرب کی وحشیانہ بمباری کی وجہ سے کینسر کا شکار ہونے والے ان 40 ہزار بیگناہ یمنی شہریوں میں سے 50 فیصد، یعنی کینسر کے 20 ہزار مریض سعودی عرب کی طرف سے اقتصادی محاصرے کے باعث یمن میں دواؤں اور طبی خدمات کی شدید کمی کی وجہ سے جاں بحق ہو جاتے ہیں۔

یمنی وزیر صحت کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کی وحشیانہ بمباری کے نتیجے میں اب صورتحال اس حد تک پہنچ چکی ہے کہ دارالحکومت صنعاء میں ہر روز 25 تا 35 کینسر کے مریض رجسٹرڈ کئے جاتے ہیں، جو کسی انسانی المیے سے کم نہیں، جبکہ یہ ثابت شدہ بات ہے کہ یمن پر سعودی عرب کے مسلسل ہوائی حملے بیگناہ یمنی شہریوں کے درمیان کینسر کے مریضوں کی تعداد کے کئی گنا بڑھ جانے میں براہ راست موثر ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ یمن پر جنگ مسلط کرنے والے جارح ملک سعودی عرب کے اتحاد میں شامل تمام ممالک ایک طرف تو کسی یمنی مریض کو علاج معالجے کی خاطر بھی یمن سے باہر جانے نہیں دیتے جبکہ دوسری طرف وہ کسی قسم کا طبی، خصوصاً کینسر کے علاج سے متعلق ساز و سامان بھی یمن میں داخل بھی نہیں ہونے دیتے۔ یمن کے وزیر صحت طہ المتوکل نے ایک مرتبہ پھر صنعاء کے ہوائی اڈے کو کھولنے اور موت کے دہانے پر پہنچے ہزاروں بیگناہ یمنی مریضوں کو نجات دینے کا مطالبہ کیا ہے۔

سعودی عرب و متحدہ عرب امارات نے 2015ء سے یمن کا محاصرہ کر رکھا ہے جبکہ صنعاء کے بین الاقوامی ہوائی اڈے سمیت یمن کے تمام دیگر ہوائی اڈے بھی مسلسل بند ہیں جس کی وجہ سے ہزاروں ایسے مریض اپنی جانوں سے ہاتھ دھو چکے ہیں، جو غیر ملکی علاج کے ضرورت مند تھے۔ دوسری طرف انسانی حقوق کے ادارے "عین الانسانیہ" نے بھی اعلان کیا ہے کہ سعودی عرب کی طرف سے یمن پر جنگ مسلط کئے جانے کے کل 1,550 دنوں میں یمن کے جاں بحق ہونے والے بیگناہ شہریوں میں 3,605 بچے، 2,315 خواتین اور 10,234 مرد شامل ہیں۔ اس ادارے نے کہا کہ جارح سعودی عرب کی طرف سے یمن پر ہونے والی وحشیانہ بمباری میں زخمی ہونے والے یمنی بیگناہ شہریوں میں 3,752 بچے، 2,638 خواتین اور 18,964 مرد شامل ہیں۔

یاد رہے کہ اقوام متحدہ کے ادارے "انسانی امور اور ہنگامی امداد" کے نائب سیکرٹری جنرل "مارک لوکاک" بھی گذشتہ ہفتے خبردار کرچکے ہیں کہ یمن کی صورتحال جلد ہی تاریخ کے بدترین انسانی بحران میں بدلنے جا رہی ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ یمن کے مظلوم عوام میں سے آدھے لوگوں کو فوری طور پر انسانی امداد کی اشد ضرورت ہے جبکہ اقوام متحدہ نے بھی یہ اعلان کر رکھا ہے کہ یمن میں شدید انسانی بحران سے بچنے کی خاطر فوری طور پر 4,200 ملین ڈالرز کی اشد ضرورت ہے۔
خبر کا کوڈ : 801447
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے