0
Tuesday 25 Jun 2019 18:46

ایران پر حملے کے حوالے سے ٹرمپ اور بولٹن میں بڑھتے اختلافات

ایران پر حملے کے حوالے سے ٹرمپ اور بولٹن میں بڑھتے اختلافات
اسلام ٹائمز۔ ایک معروف امریکی اخبار وال اسٹریٹ جورنل نے اسلامی جمہوریہ ایران پر امریکی حملے کے حوالے سے ایران کے سپاہ پاسداران کے ہاتھوں انتہائی مہنگے اور جدید ترین امریکی ڈرون طیارے کی تباہی کے کچھ ہی دنوں کے بعد امریکی صدر اور ان کی قومی سلامتی کی ٹیم کے درمیان پائے جانے والے وسیع اختلافات سے پردہ اٹھایا ہے۔ وال اسٹریٹ جورنل کی رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ٹرمپ اور ان کی قومی سلامتی کی ٹیم کے درمیان موجود وسیع اختلافات جمعے کے دن (ایرانی سپاہ پاسداران کے ہاتھوں انتہائی مہنگے اور جدید ترین امریکی ڈرون طیارے کی تباہی کے بعد) سے اب اپنی بالاترین سطح تک پہنچ چکے ہیں جبکہ ٹرمپ نے اپنی ایک پرائیویٹ گفتگو میں یہ بھی کہا ہے کہ یہ لوگ ہمیں جنگ میں دھکیلنا چاہتے ہیں، جو نفرت انگیز بات ہے جبکہ ہمیں زیادہ جنگوں کی ضرورت نہیں۔

بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ ٹرمپ کے قومی سلامتی کے مشیر جان بولٹن امریکہ کو جنگ میں دھکیلنے کی منصوبہ بندی کرنے والوں میں سرفہرست ہیں۔ امریکی صدر ٹرمپ نے اپنے اس مکالمے میں زور دیتے ہوئے کہا تھا کہ ووٹ دینے والی عوام کی نظر میں ایران کے ہاتھوں تباہ ہونے والے امریکی ڈرون طیارے کی 130 ملین ڈالرز کی قیمت، (ایران کے ساتھ امریکہ کی) احتمالی جنگ کے اخراجات اور اس میں ہونے والے نقصانات سے کہیں کم ہے۔ وال اسٹریٹ جورنل کی رپورٹ کے مطابق ان اختلافات کے ظاہر ہونے کا یہ کوئی پہلا موقع نہیں، کیونکہ ٹرمپ کے کیمپ ڈیوڈ کے تازہ سفر سے قبل بھی انہوں نے خبرنگاروں کے ساتھ گفتگو کے دوران امریکی جوائنٹ چیف آف اسٹاف جنرل جوزف ڈینفورڈ کی تعریفوں کے پل باندھے تھے، جو دراصل بولٹن پر غیر واضح انداز میں سخت اعتراض تھا۔

ٹرمپ نے یہ کہہ کر کہ جنرل جوزف ڈینفورڈ ایران پر حملے کے اصلی مخالف تھے، ان کے (جنگ نہ کرنے کے) اس مشورے کا شکریہ ادا کیا جبکہ اس کے برعکس جان بولٹن پر یہ جملہ کسا کہ وہ تو لامحالہ ایک شکاری باز ہیں (جو جنگجو ہونے کی علامت ہے)۔ ٹرمپ نے گو کہ بارہا یہ کہا ہے کہ بولٹن اپنا کام خوب انجام دیتے ہیں، لیکن ہر بار اس بات پر بھی تاکید کی ہے کہ آخری فیصلہ ان کا اپنا ہی ہوگا۔ اسی طرح ٹرمپ جان بولٹن کی طرف سے عراق پر حملے کی حمایت کا ذکر کرتے ہوئے عراق پر جنگ مسلط کرنے کو ایک بہت بڑی غلطی بھی قرار دے چکے ہیں۔ انہوں نے اس بارے مزید گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ میں جان بولٹن اور مشرق وسطیٰ کے بارے ان کے طریقہ کار کا بطور کلی مخالف ہوں، جس کا ایک نمونہ عراق کا مسئلہ (یعنی عراق پر امریکی حملہ) ہے، جو ایک بہت بڑی غلطی تھا۔ جان بولٹن اپنا کام خوب انجام دیتے ہیں، لیکن عام طور پر ان کی نظر متشددانہ ہوتی ہے، جبکہ میرے پاس ایسے لوگ بھی موجود ہیں، جو ایسا طریقہ کار اختیار نہیں کرتے اور آخرکار وہ شخص جس کا فیصلہ اہم ہے، میں خود ہوں۔

واضح رہے کہ جان بولٹن امریکہ کے دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے ایک سیاست دان ہیں، جو گذشتہ 40 سالوں سے برسراقتدار آنے والی تقریباً ہر ریپبلیکن حکومت میں کسی نہ کسی عہدے پر فائز رہے ہیں، یہی وجہ ہے کہ اب وہ خود کو انتہائی موثر شخصیت کے روپ میں دیکھتے ہیں۔ گو کہ وہ گذشتہ وسیع عرصے سے مختلف قسم کے حکومتی عہدوں پر فائز رہ چکے ہیں، لیکن شاید اب کے جتنے کبھی امریکی صدر کے فیصلوں پر اثرانداز نہیں رہے ہوں گے۔ جان بولٹن کا ایران پر حملے کا منصوبہ کوئی نئی بات نہیں، کیونکہ وہ سالہا سال سے یہ خواب دیکھتے آرہے ہیں۔ جان بولٹن نے 2015ء میں اپنے معروف مقالے "ایران کا بم بننے سے روکنے کے لئے ایران پر بمباری کرو!" میں ایران پر حملے کے منصوبے کو بہت تفصیل کے ساتھ بیان کیا ہے، جس کے ساتھ ملتے جلتے دوسرے منصوبے وہ شمالی کوریا کے لئے بھی بنا چکے ہیں۔

البتہ جان بولٹن کے یہ منصوبے امریکی صدر ٹرمپ کی الیکشن مہم اور جنگوں سے بیزار امریکی عوام کی سوچ سے کہیں مختلف ہیں جبکہ جنگ سے دوری وہ تنہاء منصوبہ ہے، جو ہر اس شخص کو اپنی ترجیحات میں سرفہرست رکھنا ہوگا، جو مستقبل قریب میں ہونے والے امریکی صدارتی انتخابات میں کامیاب ہونا چاہتا ہے۔ امریکی صدر ٹرمپ کے اپنی قومی سلامتی کی ٹیم اور خصوصاً اس ٹیم کے سربراہ جان بولٹن کے ساتھ اختلافات اس قدر شدید ہوچکے ہیں کہ بعض لوگ تو یہ سمجھتے ہیں کہ اس جنگجو شخص کے امریکی حکومت پر پڑنے والے اثرات کو آہستہ آہستہ بالکل ختم ہی کر دیا جائے گا۔
خبر کا کوڈ : 801472
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب