0
Tuesday 25 Jun 2019 22:53
پاکستان بھارت سمیت تمام ہمسایوں سے تعلقات بہتر بنانے کیلئے پرعزم ہے

ہم امن، تحمل اور پرامن بقائے باہمی کی پالیسی پر یقین رکھتے ہیں، شاہ محمود قریشی

ہم امن، تحمل اور پرامن بقائے باہمی کی پالیسی پر یقین رکھتے ہیں، شاہ محمود قریشی
اسلام ٹائمز۔ پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ دنیا اس وقت بڑی تبدیلیوں سے گزر رہی ہے۔ کثیرالملکی، اصول پر مبنی بین الاقوامی تعاون اور عالمی قوانین کا احترام خطرات سے دوچار ہے۔ ماضی میں جو اقدار لازم رہی ہیں، وہ اپنی قدر و منزلت کھو رہی ہیں، سچائی دم توڑ رہی ہے۔ دو جوہری قوتوں کے درمیان کسی تناؤ کا نہ صرف تصور محال ہے بلکہ سادہ الفاظ میں یہ خودکشی کے مترادف ہے۔ جغرافیائی و سیاسی تنازعات نہ صرف واپس لوٹ رہے ہیں بلکہ یہ تقسیم مزید گہری ہو رہی ہے۔ دنیا کے تقریباً ہر خطے میں تزویراتی استحکام خطرے سے دوچار ہے، ریاستوں میں باہمی اعتماد اور احترام ختم ہو رہا ہے، موجودہ تنازعات پیچیدہ تر ہو رہے ہیں اور نئے تنازعات ابھر کر سامنے آرہے ہیں۔ دہشتگردی کے نئے خطرات میں اضافہ ہو رہا ہے، جن کا ہمیں پہلے سامنا نہیں تھا، "ہائیبرڈ" اور "سائیبر" خطرات سے پیدا ہونے والے چیلنجز کا بھی ہمیں سامنا ہے اور وہ نئی شکل میں دنیا کی سلامتی کے لئے مسائل کو جنم دے رہے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کی صبح یورپین ڈیفینس اینڈ سکیورٹی کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی سیاسی اور سکیورٹی انداز فکر کو معاشی اور مالی اہمیت سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔
جوہری قوتوں کے درمیان کشیدگی خودکشی کے مترادف ہے، پاکستان
انہوں نے کہا کہ اس حوالےسے میں کہوں گا کہ جیو اکنامک پہلو دراصل آج کی دنیا میں جیو پولیٹیکل اور اسٹرٹیجک مفادات کو متشکل کر رہے ہیں۔ غیر ملکی مصنوعات پر ٹیکسوں کے ذریعے مقامی صنعتوں کے تحفظ کا بڑھتا ہوا رجحان عالمی تجارتی نظام کے اصولوں کو غیر اہم بنا رہا ہے۔ معاشروں کے اندر تیزی سے تبدیلیاں وقوع پذیر ہو رہی ہیں۔ عدم برداشت اور انتہاء پسندی بڑھ رہی ہے، قوم پرست اور دائیں بازو کی قوتیں طاقتور ہو رہی ہیں، غیر ملکیوں سے نفرت اور اسلام سے خوف تہذیبوں کے تصادم کے گمراہ کن نظریات کو تقویت دے رہا ہے۔ یہ تمام رجحانات مشترکہ طور پر خطوں کے اندر اور ان سے باہر امن و سلامتی کے لئے ایک فوری خطرہ ہیں۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ یہ صورتحال میری توجہ جنوبی ایشیاء کی سلامتی کی صورتحال کی طرف لیجاتی ہے۔ یہ خطہ عجیب نوعیت کے "جیو اسٹرٹیجک" ماحول کی وجہ سے بے پناہ دباؤ میں ہے۔ غربت، ناخواندگی اور پسماندگی کی مشکلات اس خطے کے لئے پہلے سے موجود رکاوٹوں کو مزید بڑھا رہی ہے۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پاکستان دنیا میں شاید واحد ایسا ملک ہے، جس نے عظیم جانی و مالی قربانیاں دے کر دہشت گردی کی خوفناک لہر کا رُخ موڑ کر رکھ دیا ہے۔ دہشت گردی اور انتہاء پسندی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لئے پاکستانی قوم پرعزم ہے۔ آپریشن "ضرب عضب" اور "ردالفساد" نے اس ضمن میں عظیم کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ "نیشنل ایکشن پلان" پر عمل درآمد کے ثمرات کے نتیجے میں ملک کے طول و عرض میں امن اور خوشحالی کافی حد تک لوٹ آئی ہے۔
جوہری قوتوں کے درمیان کشیدگی خودکشی کے مترادف ہے، پاکستان
داخلی اور بین الاقوامی سطح پر سیاحت کا فروغ دہشت گردی کے خلاف ہماری اس کامیابی کا عملی ثبوت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اقوام متحدہ نے اسلام آباد کا فیملی اسٹیشن کا درجہ بحال کر دیا ہے۔ وزیراعظم عمران خان کی بصیرت افروز قیادت کے تحت پاکستان ایک ذمہ دار اور عالمی ضابطوں پر عمل کرنے والے ملک کی حیثیت سے اپنے لئے زیادہ بڑا کردار دیکھ رہا ہے۔ پاکستان امن، تحمل اور پرامن بقائے باہمی کی پالیسی پر یقین رکھتا ہے۔ ہم بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کے رہنما اصولوں پر کاربند ہیں، جس میں انہوں نے فرمایا تھا کہ ”ہماری خارجہ پالیسی تمام اقوام عالم کے ساتھ دوستی اور خیرسگالی کی حامل ہے۔“ ہم نے حال ہی میں کرتار پور راہداری کھولنے کا اقدام بھی ہمسایوں سے جڑنے اور امن کی جستجو میں کیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا پاکستان امن کی بہتری اور باہمی احترام، خود مختاری کے یکساں احترام اور باہمی مفاد میں بھارت سمیت تمام ہمسایوں سے تعلقات بہتر بنانے کے لئے پرعزم ہے۔ پاکستانی وزیر خارجہ نے پاکستان کا موقف بیان کرتے ہوئے مزید کہا کہ بھارت نے پاکستان پر بار بار دہشت گردی سے متعلق الزامات عائد کئے۔ ہم نے کہا کہ پاکستان بھارت کے ساتھ دہشت گردی کے معاملے پر بھی بات کرنے پر آمادہ ہے، ہمیں عار نہیں، کیونکہ ہمارے خلاف دہشت گردی میں بھارت کے ملوث ہونے کے بھی سنجیدہ امور ہمارے علم میں ہیں۔
خبر کا کوڈ : 801501
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب