0
Wednesday 26 Jun 2019 14:19
مقبوضہ فلسطین میں سہ فریقی اجلاس

دہشتگردی کیخلاف جنگ میں ایران روس کے اہم ترین شراکت داروں میں سے ایک ہے، نکولائی پتروشیف

دہشتگردی کیخلاف جنگ میں ایران روس کے اہم ترین شراکت داروں میں سے ایک ہے، نکولائی پتروشیف
اسلام ٹائمز۔ روس کی قومی سلامتی کونسل کے سربراہ "نکولائی پتروشیف" نے جان بولٹن اور بنجمین نیتن یاہو کے ساتھ مقبوضہ فلسطین میں منعقد ہونے والے سہ فریقی اجلاس میں شرکت کرنے کے بعد تاکید کرتے ہوئے کہا کہ ایران دہشتگردی کے خلاف جنگ میں روس کے اہم ترین شراکت داروں میں سے ایک ہے۔ روسی قومی سلامتی کونسل کے سربراہ نے امریکی جاسوس ڈرون طیارے کی تباہی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ روسی وزارت دفاع کے فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق ایران نے امریکی جاسوس ڈرون طیارے کو اپنی فضائی حدود کے اندر نشانہ بنایا ہے۔ نکولائی پتروشیف نے اس سہ فریقی اجلاس کے بعد خبرنگاروں سے گفتگو کرتے ہوئے خلیج اومان میں بحری جہازوں پر حملے سے متعلق ایران پر واشنگٹن اور تل ابیب کے لگائے گئے الزامات کے بارے میں کہا کہ بحری جہازوں پر حملے کی تحقیق ہونا چاہیئے جبکہ تحقیق سے قبل (ایران پر) لگائے گئے الزامات کو ہم قبول نہیں کرتے۔

روسی قومی سلامتی کونسل کے سربراہ نے خلیج اومان میں بحری جہازوں پر کئے گئے حملے کے بارے دی گئی رپورٹ کو بھی "غیر پیشہ وارانہ" قرار دیا۔ واضح رہے کہ گذشتہ ہفتے جمعے کے دن ایرانی انقلابی گارڈز "سپاہ پاسداران" نے "گلوبل ہاک" نامی امریکہ کے جدید ترین جاسوس ڈرون طیارے کو ایرانی حدود میں داخل ہونے پر مار گرایا تھا جبکہ امریکیوں نے دعویٰ کیا تھا کہ ان کا ڈرون طیارہ بین الاقوامی سمندری حدود میں نشانہ بنایا گیا ہے۔ اسی طرح 13 جون 2019ء کے روز خلیج اومان میں دو بحری جہازوں کو بھی حملے کا نشانہ بنایا گیا تھا، جس پر امریکہ و اسرائیل کی طرف سے بغیر کسی ثبوت کے ایران پر الزام عائد کیا گیا تھا۔

روسی قومی سلامتی کونسل کے سربراہ نے جان بولٹن اور بنجمن نیتن یاہو کے ساتھ اپنے سہ فریقی اجلاس کے بعد شام کی خود مختاری پر زور دیا اور کہا کہ شام پر اسرائیلی حملے نامطلوب ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم شام کو ایک امن و امان، پیشرفت اور خود مختاری کا حامل ملک دیکھنا چاہتے ہیں جبکہ اس سہ فریقی اجلاس میں شرکت کرنے والے ممالک کو چاہیئے کہ اس مقصد کے حصول میں بھی اپنی شرکت ممکن بنائیں۔ نکولائی پتروشیف نے ایران کے بارے ایک مرتبہ پھر تاکید کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے بارے ہر قسم کا دھمکی آمیز اقدام ایک بین الاقوامی دھمکی آمیز اقدام تصور ہوگا جبکہ ایسا کوئی بھی اقدام غیرقابل قبول ہے۔
خبر کا کوڈ : 801631
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب