0
Wednesday 26 Jun 2019 17:42
امریکہ ایران کے صبر کو کمزوری مت سمجھے، حالیہ اقدام انکی بیمار ذہنیت کا ثبوت ہیں، حسن روحانی

ڈونلڈ ٹرمپ کانگریس کی منظوری کے بغیر ایران کیخلاف فوجی کارروائی کا حکم جاری نہیں کرسکتے، نینسی پلوسی

امریکی عوام ایران کیساتھ جنگ نہیں چاہتی، سروے رپورٹ
ڈونلڈ ٹرمپ کانگریس کی منظوری کے بغیر ایران کیخلاف فوجی کارروائی کا حکم جاری نہیں کرسکتے، نینسی پلوسی
اسلام ٹائمز۔ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے لئے انہیں کانگریس کی منظوری کی ضرورت نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس فیصلے کا قانونی اختیار رکھتے ہیں لیکن کانگریس سے مشاورت صرف اس لئے کررہے ہیں کہ وہ مکمل طور پر آگاہ رہے کہ ہم کیا کررہے ہیں؟ اور پھر وہ ہماری کاوش کو سراہ رہے ہیں۔ امریکہ کے "قدامت پسند" گردانے جانے والے مؤقر اخبار "دی ہل" (The Hill) کو ایک خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے امریکی صدر نے انتہائی پراعتماد لہجے میں کہا کہ ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے احکامات دینے سے قبل کانگریس کی منظوری لینا ان کی قانونی مجبوری قطعی نہیں ہے، لیکن میں نے ہمیشہ کوشش کی ہے کہ کانگریس اٹھائے جانے والے ہر قدم سے آگاہ رہے۔

امریکہ کی خاتون اسپیکر نینسی پلوسی نے اپنے ایک بیان میں گذشتہ روز دعویٰ کیا تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کانگریس کی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کا حکم جاری نہیں کرسکتے ہیں۔ دی ہل کی جانب سے اس ضمن میں پوچھے جانے والے سوال کے جواب میں امریکی صدر نے کہا کہ میرا نکتہ نظر یکسر مختلف ہے اور مجھے یقین ہے کہ غالب اکثریت بھی پلوسی کے بیان کی مخالفت کرے گی۔ امریکہ ایران تنازعہ پر "انٹرنیٹ نیوز پورٹل دی ہل" اور سروے فرم "ہیرس ایکس" کی جانب سے کرائے جانے والے سروے میں 58  فیصد امریکیوں نے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کی مخالفت کی ہے جبکہ صرف 24 فیصد نے جنگ کرنے کو درست قرار دیا ہے۔ امریکہ ایران تنازعہ پر گذشتہ 48 گھنٹوں میں کئے جانے والے سروے میں شریک 19 فیصد امریکیوں نے مؤقف اپنایا ہے کہ ایران کے خلاف محدود فوجی کارروائی کی جائے۔سروے کے لئے ایک ہزار افراد کا انتخاب کیا گیا تھا جن میں سے پانچ فیصد کا کہنا تھا کہ جنگ کا اعلان کیا جائے۔

اُدھر ایرانی صدر حسن روحانی نے امریکہ کی جانب سے حالیہ پابندیوں کو مسترد کرتے ہوئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ذہنی مریض قرار دے دیا۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کی جانب سے ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای پر لگائی گئی پابندیاں بری طرح ناکام ہو جائیں گی، کیونکہ ان کی بیرون ملک کوئی جائیداد نہیں ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ امریکہ ایران کے صبر کو کمزوری مت سمجھے، وائٹ ہاؤس کے حالیہ اقدام ان کی بیمار ذہنیت کا ثبوت ہیں۔ دوسری جانب ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان عباس موسوی نے اپنی ٹویٹ میں کہا ہے کہ آیت اللہ سید علی خامنہ ای اور ایرانی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف پر غیر سنجیدہ نوعیت کی پابندیوں کا مطلب سفارت کاری کی راہ مکمل طور پر بند کر دینا ہے۔ موسوی نے مزید کہا کہ امریکی صدر خطے اور عالمی امن کو تباہ کرنے رستے پر چل پڑے ہیں۔ یاد رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے گذشتہ روز ایران کے خلاف نئی پابندیاں عائد کرنے سے متعلق ایک حکم نامے پر دستخط کئے تھے۔
 
خبر کا کوڈ : 801675
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب