0
Friday 28 Jun 2019 23:31

چین ایران سے تیل کی اپنی درآمدات جاری رکھے گا، عرب میڈیا

چین ایران سے تیل کی اپنی درآمدات جاری رکھے گا، عرب میڈیا
اسلام ٹائمز۔ عرب نیوز چینل "اسکائی نیوز" نے جمعے کے روز اپنی ایک رپورٹ میں ایک چینی حکومتی اہلکار سے نقل کرتے ہوئے کہا ہے کہ چین ایران سے تیل کی اپنی درآمدات جاری رکھے گا، البتہ اس عرب نیوز چینل نے چینی حکومتی اہلکار کی شناخت کے بارے کچھ واضح نہیں کیا۔ دوسری جانب ایران اور 5+1 گروپ کے درمیان ہونے والے جوہری مذاکرات کے لئے چین کے خصوصی مذاکرات کار نے ویانا میں خبرنگاروں سے گفتگو میں کہا ہے کہ چین، ایران پر امریکہ کی یکطرفہ پابندیوں کو قبول نہیں کرتا۔ اسی طرح چینی وزارت خارجہ کے ایک سینیئر اہلکار نے بھی ایرانی جوہری معاہدے (JCPOA) کے اجلاس کے بعد خبرنگاروں کے ساتھ گفتگو کے دوران کہا ہے کہ ہم ایران پر ہر قسم کی پابندیوں کو رد کرتے ہیں، کیونکہ "انرجی کے حصول میں سلامتی" چین اور چینی عوام کے لئے انتہائی اہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم امریکہ کی "ایران کے تیل کی برآمدات کو صفر تک پہنچانے" کی سیاست کو قبول نہیں کرتے۔

چین کی وزارت خارجہ نے بھی اعلان کیا ہے کہ ایران کا اپنے جوہری معاہدے (JCPOA) میں باقی رہنا ایک اہم امر ہے، جبکہ ہم تہران کے اس فیصلے کی حمایت کرتے ہیں۔ چینی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ایرانی جوہری معاہدے (JCPOA) کے مشترکہ کمیشن میں شرکت کرنے والے ممالک نے ایران کو جوہری معاہدے کے مطابق ملنے والے اقتصادی فوائد کے فراہم کرنے پر تاکید کی ہے، جبکہ یورپی یونین نے ایران کے لئے خصوصی تجارتی سسٹم (INSTEX) کے مکمل طور پر آمادہ ہو جانے کا بھی اعلان کیا ہے۔ واضح رہے کہ اس سے قبل بھی ایک امریکی اخبار "وال اسٹریٹ جورنل" نے اپنی رپورٹ میں لکھا تھا کہ یورپی ممالک نے اعلان کیا ہے کہ ایران کے لئے خصوصی تجارتی سسٹم (INSTEX) عملی طور پر فعال ہونے کے بعد ایران کے ساتھ اپنے پہلے لین دین میں مشغول ہے۔

یاد رہے کہ ایرانی جوہری معاہدے (JCPOA) کے مشترکہ کمیشن کا، ایران اور 5+1 گروپ کے سیاسی سربراہوں اور نائب سربراہوں کی سطح پر مشتمل 3 گھنٹے طولانی اجلاس ویانا میں منعقد ہوا، جبکہ ایرانی ڈپٹی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے جمعے کے روز یورپ کے ساتھ ایرانی تجارت کے خصوصی نظام (INSTEX) کے حوالے سے حاصل ہونے والی پیشرفت اور ایرانی جوہری معاہدے (JCPOA) کے مشترکہ کمیشن کے اجلاس کو آگے کی طرف ایک قدم قرار دیا تھا۔ اسی اثناء میں اقوام متحدہ میں روس کے مستقل نمائندے "میخائیل اولیانوف" نے بھی ویانا میں ہونے والے جوہری معاہدے کے مشترکہ کمیشن کے اجلاس پر اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے جمعے کے روز اپنے ٹوئٹر پر اس اجلاس کو رضایت بخش قرار دیا۔
خبر کا کوڈ : 802093
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب