0
Saturday 29 Jun 2019 02:39
یمنیوں کے جوابی حملے کا خوف

متحدہ عرب امارات نے یمن پر مسلط کردہ سعودی جنگ سے بتدریج علیحدگی کا فیصلہ کر لیا

متحدہ عرب امارات نے یمن پر مسلط کردہ سعودی جنگ سے بتدریج علیحدگی کا فیصلہ کر لیا
اسلام ٹائمز۔ معروف عرب اخبار "رأی الیوم" نے یمن کے خلاف سعودی عرب کی مسلط کردہ جنگ میں متحدہ عرب امارات کی فوجی موجودگی میں کمی کے آغاز کی خبر دیتے ہوئے متحدہ عرب امارات کے حاکم کی ابوظہبی کے اس فیصلے میں گہری تاثیر سے پردہ اٹھایا ہے۔ رہورٹ کے مطابق محمد بن راشد آل مکتوم نے اپنی ایک ملاقات میں ابوظہبی کے ولی عہد اور متحدہ عرب امارات کی آرمڈ فورسز کے ڈپٹی کمانڈر محمد بن زائد کو زور دیتے ہوئے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ اگر یمنیوں نے اپنے اوپر ہونے والے حملوں کے جواب میں دبئی کے اساسی مراکز کو نشانہ بنا لیا تو دبئی اس صورت میں ہونے والے نقصان کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ محمد بن راشد آل مکتوم نے تاکید کرتے ہوئے کہا کہ یمن کی جنگ سے متعلق متحدہ عرب امارات کی موجودہ سیاست متحدہ عرب امارات کی وحدت کو خطرے میں ڈال دے گی۔

واضح رہے کہ یمنی مزاحمتی تحریک انصاراللہ نے حال ہی میں اپنے ڈرون طیاروں کو متحدہ عرب امارات کی فضائی حدود میں بھیج کر ابوظہبی اور دبئی کے ہوائی اڈوں کی مفصل ویڈیوز بنا لی تھیں، جبکہ ان ہوائی اڈوں کے سکیورٹی کیمروں کو بھی اختلال سے دوچار کر دیا تھا۔ ذرائع کے مطابق یمن کا یہ اقدام متحدہ عرب امارات کے سربراہوں کے لئے ایک واضح پیغام کا حامل ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ یمنی مزاحمتی تحریک انصاراللہ اپنے جوابی دفاعی حملوں کو متحدہ عرب امارات کے ہوائی اڈوں تک پھیلانے کی صلاحیت بھی رکھتی ہے۔ عرب اخبار رأی الیوم نے لکھا ہے کہ متحدہ عرب امارات نے یمن پر مسلط کردہ سعودی عرب کی جنگ سے بتدریج علیحدگی کے فیصلے میں ان بعض اماراتی راہنماؤں کے ساتھ اتفاق کیا ہے، جو ایران کے خلاف جنگ کی زبان استعمال کرنے کے بعد اب اپنے اس موقف سے عقب نشینی میں مصروف ہیں۔

اسی طرح ایک اور بین الاقوامی خبر رساں ایجنسی "رویٹرز" نے بھی مغربی ممالک سے تعلق رکھنے والے ایک سفارت کار کی زبانی یمن کی جنگ میں متحدہ عرب امارات کی فوجی موجودگی میں خاطر خواہ کمی کی خبر دی ہے۔ قابل توجہ ہے کہ متحدہ عرب امارات کے اخبار "الخلیج" کے ایڈیٹر اور نیوز پیپرز یونین کے سربراہ "حبیب الصایغ" جو متحدہ عرب امارات کے حکمران محمد بن زائد کے انتہائی نزدیکی فرد کے طور پر بھی جانے جاتے ہیں، نے جمعرات کے روز اپنی اخبار میں "وہ لوگ جو خود کو اماراتی کہلواتے ہیں" کے عنوان سے ایک اداریہ لکھا، جس میں وہ "بعض لوگوں" پر اعتراض کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ یہ "بعض لوگ" متحدہ عرب امارات کی قومی پالیسی کے برعکس نفرتیں پھیلا کر ہمارے ملک کا چہرہ مخدوش کرتے ہیں۔

اسی طرح رأی الیوم نے متحدہ عرب امارات کے وزیر خارجہ عبداللہ بن زائد کے ماسکو کے سفر کی طرف بھی اشارہ کیا، جہاں انہوں نے میڈیا کے سامنے یہ کہا تھا کہ ابوظہبی خلیج فارس اور خلیج اومان میں بحری جہازوں پر ہونے والے حملوں میں ایران پر الزام عائد نہیں کرتا، جو بذات خود متحدہ عرب امارات کی روس کے ساتھ نزدیکی اور ایران کے ساتھ اپنے تناؤ میں کمی لانے کی ایک واضح علامت ہے۔ عرب اخبار رأی الیوم نے پیشینگوئی کرتے ہوئے لکھا ہے کہ بہت جلد ہی ہم خطے میں آنے والی تبدیلیوں کے حوالے سے متحدہ عرب امارات کے رویے میں بھی خاطر خواہ تبدیلی ہوتی دیکھیں گے، جبکہ یہ تبدیلی متحدہ عرب امارات کے لئے بھی اتنی ہی اہم ہے، جتنی سعودی عرب کے لئے اہم ہے۔
خبر کا کوڈ : 802100
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب