0
Saturday 29 Jun 2019 21:37

اب چپو چلانے کی باری یورپی ممالک کی ہے، علی رضا کاظمی

جوہری معاہدے (JCPOA) پر ہالینڈ میں تعینات ایرانی سفیر کی خبرنگاروں کیساتھ گفتگو
اب چپو چلانے کی باری یورپی ممالک کی ہے، علی رضا کاظمی
اسلام ٹائمز۔ ہالینڈ میں تعینات ایرانی سفیر علی رضا کاظمی ابدی کی "ہیگ" میں واقع رہائشگاہ پر مقامی اخباروں کے ایڈیٹرز اور خبرنگاروں کے ایک وفد نے ان سے ملاقات کرکے اور بین الاقوامی حالات، ایرانی جوہری معاہدے، خطے میں تازہ ترین تبدیلیوں اور ایران کے یورپ کے ساتھ تعلقات سمیت بہت سے موضوعات پر گفتگو کی۔ ہالینڈ میں تعینات ایرانی سفیر علی رضا کاظمی ابدی نے ایرانی جوہری معاہدے (JCPOA) سے متعلق ایران کے تازہ ترین فیصلوں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران نے اپنے جوہری معاہدے کو توڑا ہے اور نہ ہی کوئی الٹی میٹم دیا ہے بلکہ ایران نے امریکیوں کی کھلی وعدہ خلافی کے باوجود بھی ایک سال تک اپنے صبر و حوصلے کا ثبوت دیتے ہوئے جوہری معاہدے کی حفاظت میں یورپی ممالک کی طرف سے مناسب اقدامات کے اٹھائے جانے کا انتظار کیا ہے جبکہ جوہری معاہدے کی شق نمبر 26 و 36 کے مطابق عملدرآمد میں یورپی ممالک کے ناکام ہو جانے کی صورت میں بالآخر ایران کو بھی یہ اعلان کرنا پڑا کہ وہ جوہری معاہدے پر رضاکارانہ طور پر ہونے والے اپنے یکطرفہ عملدرآمد کو معطل کر رہا ہے جبکہ ایران نے اس تعطل کی مدت کا بھی اعلان کیا ہے۔

ایرانی سفیر نے اس بات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہ اپنی سفارتی صلاحیتوں پر انحصار کرتے ہوئے یورپ سے باہر جوہری مذاکرات انجام دینا اور جوہری معاہدے تک پہنچنا یورپی ممالک کا پہلا تجربہ تھا، اس جوہری معاہدے کی حفاظت، اس کے مطابق اپنے تعہدات پر عملدرآمد اور اس کے خلاف ٹرمپ کی یکطرفہ سیاست کا مقابلہ کرنے میں ذمہ داری کے احساس پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی نظام میں "فری رائیڈ" کا کوئی تصور موجود نہیں۔ ایک وقت میں یورپ اور امریکہ مل کر 5+1 گروپ کی شکل میں (جوہری معاہدے) کی کشتی پر سوار ہوئے تھے جبکہ امریکہ کے اس کشتی سے اتر جانے پر اب یہ یورپی ممالک کی ذمہ داری ہے کہ وہ امریکہ کے حصے کے چپو بھی چلائیں۔

ہالینڈ میں تعینات ایرانی سفیر علی رضا کاظمی ابدی نے امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے مسائل کے حل کے امکان کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ مذاکرات کسی نتیجے تک پہنچنے کے لئے منعقد کئے جاتے ہیں جبکہ یہ کام پہلے ہی انجام دیا جا چکا ہے اور نتیجہ بھی حاصل کیا جا چکا ہے۔ جب گذشتہ حاصل کردہ نتیجے کو کوئی اہمیت نہیں دی گئی اور اس پر عملدرآمد نہیں کیا گیا تو اس کے بعد اب مذاکرات کا کوئی معنی نہیں رہتا، وہ بھی ایسے مذاکرات جن کا مقصد لاقانویت کے شکار مدمقابل کے زور زبردستی پر مبنی مطالبات کو تسلیم کرنا ہو؛ کسی آزاد قوم کو کبھی قبول نہ ہوں گے۔ لہذا مذاکرات کی میز وہی "ایرانی جوہری معاہدہ" (JCPOA) ہے، جس تک واپس پلٹنے کا رستہ اب بھی کھلا ہے۔
خبر کا کوڈ : 802229
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب