0
Sunday 30 Jun 2019 19:59

نصیریوں کا اجتماع فرقہ واریت کا باعث ہے، پابندی لگائی جائے، حافظ کاظم رضا نقوی

نصیریوں کا اجتماع فرقہ واریت کا باعث ہے، پابندی لگائی جائے، حافظ کاظم رضا نقوی
اسلام ٹائم۔ مشن قرآن و اہل بیت کے سربراہ علامہ حافظ کاظم رضا نقوی اور دیگر علماء کرام نے تکفیریت اور دہشتگردی کیخلاف تمام مکاتب فکر کے فتویٰ "پیغام پاکستان" پر عملدرآمد کرنے اور مشرکانہ خرافات پر مبنی 6 جولائی کو لاہور میں ہونیوالے غالی نصیری ٹولے کے پروگرام کا نوٹس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے اسے روکنے کا مطالبہ کیا ہے، نیز حکومت، انتظامیہ اور علماء حقہ بھی اس ٹولے کا سدباب کریں، جو نعوذ باللہ امیرالمومنین علی علیہ السلام کو اللہ کہنے کے مشرکانہ عقیدے کا اظہار کرتے ہیں۔ اہل تشیع کا ایسے کفریہ عقائد سے کوئی تعلق نہیں، مکتب اہلبیت توحید، نبوت، امامت اور قیامت پر یقین رکھتا ہے۔ بیرونی ایجنسی ایم آئی 6 کے ہاتھوں کھیلنے والے افراد فرقہ واریت پھیلا کر ملک میں افراتفری اور مسلمانوں میں انتشار کا باعث بننے کی سازش کر رہے ہیں۔

لاہور پریس کلب میں نیوز کانفرنس کے موقع پر مولانا حسن رضا قمی، مولانا مہدی حسن، مولانا اعجاز حسین حیدری، قاسم علی قاسمی، چودھری صغیر عباس ورک، لعل مہدی خان، علامہ مشتاق حسین جعفری، مفتی سید عاشق حسین، مولانا انتظار مہدی نجفی اور دیگر بھی موجود تھے۔ علامہ کاظم رضا نقوی نے کہا کہ حکومت اور پاک فوج نے مل کر نیشنل ایکشن پلان بنایا اور دہشتگردوں کو چن چن کر کیفر کردار تک پہنچایا۔ جس میں علماء کرام اور عوام نے بھی بھرپور کردار ادا کیا۔ پاک فوج کی کاوشوں سے علماء کرام کو تکفیریت، انتہا پسندی اور دہشتگردی کیخلاف ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کیا گیا اور پیغام پاکستان کے نام سے ایک متفقہ فتویٰ جاری کیا گیا، جس پر تمام مکاتب فکر کے ہزاروں جید علماء کرام نے دستخط کیے۔ ریاست کا قومی بیانیہ قرار پانے والے اس فتوے میں تکفیریت کی نفی کی گئی، خودکش حملوں کو حرام قرار دیا گیا اور دہشتگردی اور فرقہ واریت کی ہر شکل کی مذمت کی کئی اور اسے قرآن و حدیث کی روشنی میں فساد فی الارض قرار دیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ وفاق المدارس شیعہ پاکستان سمیت پانچوں وفاق المدارس کے علماء نے بھی اس پر دستخط کئے اور اسے قرارداد پاکستان اور علماء کے 22 نکات کے بعد ملک کے تحفظ اور بقا کیلئے اہم دستاویز قرار دیا گیا۔ لیکن افسوس کہ بدقسمتی سے ملک دشمن عناصر نے اس فتویٰ اور اس کے جاری کرنیوالے علماء کرام کیخلاف غلیظ مہم شروع کر دی۔ 4 مئی کو قصر بتول اقبال ٹاون لاہور میں اس فتویٰ کیخلاف انتہائی فرقہ وارانہ گفتگو کی گئی، فتویٰ کے خلاف پمفلٹ جاری کئے گئے اور اس میں معزز علماء کرام اور ریاستی اداروں کی کاوشوں کو تضحیک کا نشانہ بناتے ہوئے کہا گیا کہ فتویٰ جاری کرنا صرف اللہ کا کام ہے، کسی انسان کا کام نہیں۔ درحقیقت یہ عام آدمی کے مذہبی جذبات کو بھڑکانے اور فرقہ واریت کو ہوا دینے کی وہی کوشش ہے، جس کا شکار پاکستان تین دہائیوں تک رہا۔ اب ان شرپسندوں نے پھر اعلان کیا ہے کہ وہ 6 جولائی کو قصر بتول میں اجتماع کریں گے، جس میں تکفیریت کو فروغ دیا جائے گا اور پیغام پاکستان کیخلاف شر انگیزی پھیلائی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ ہم پاک فوج، حکومت پاکستان اور تمام انتظامی ریاستی اداروں اور علماء حق سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ اس شرپسند اجتماع کو روکیں اور پیغام پاکستان کے خلاف مہم کا سختی سے نوٹس لیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یکم جولائی کو جامعہ المنتظر میں علماء حق کا اس حوالے سے اجتماع ہو رہا ہے، جو پیغام پاکستان کی تقویت، پاک فوج کی تقویت و سربلندی کیلئے ہے۔ ہم شیعہ علماء، ذاکرین و خطباء پیغام پاکستان کے تحفظ کیلئے ہر اقدام اُٹھانے سے گریز نہیں کریں گے۔ ہم اپنی فوج اور ریاستی اداروں کے ساتھ کھڑے ہیں۔
خبر کا کوڈ : 802352
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب