0
Monday 1 Jul 2019 21:34

کالعدم تنظیم کو فنڈنگ کیلئے منشیات فروشی پر رانا ثناء اللہ کو گرفتار کیا، اے این ایف

کالعدم تنظیم کو فنڈنگ کیلئے منشیات فروشی پر رانا ثناء اللہ کو گرفتار کیا، اے این ایف
اسلام ٹائمز۔ اینٹی نارکوٹکس فورس نے سابق وزیر قانون پنجاب، مسلم لیگ ن پنجاب کے صدر اور رکن قومی اسمبلی رانا ثناءاللہ خان کو منشیات فروشوں سے تعلق کے الزام میں گرفتار کرلیا۔ اے این ایف حکام کا کہنا ہے کہ رانا ثناءاللہ کی گاڑی سے بھی منشیات برآمد ہوئی ہیں، انہیں منگل کو انسداد منشیات کی عدالت میں پیش کیا جائے گا۔ رانا ثناءاللہ خان فیصل آباد سے ن لیگ کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں شرکت کیلئے لاہور آ رہے تھے لیکن سکھیکی کے قریب انہیں اے این ایف حکام نے گرفتار کر لیا۔ ن لیگ کے رہنما عطاء تارڑ کا کہنا ہے کہ رانا ثناءاللہ کا آخری رابطہ ان کیساتھ ہوا تھا جس کے بعد انہیں گرفتار کر لیا گیا۔

پہلے یہ خبریں سامنے آتی رہیں کہ رانا ثناءاللہ کو منشیات فروشوں سے تعلقات کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے تاہم بعد میں اے این ایف حکام نے اپنے بیان میں کہا کہ ان کی گاڑی سے بھی منشیات برآمد ہوئیں ہیں جس پر انہیں گرفتار کیا گیا ہے۔ رانا ثناءاللہ کو اے این ایف کے تفتیشی سنٹر میں رکھا گیا ہے اور منگل کے روز عدالت میں پیش کر دیا جائے گا۔ اے این ایف نے 3 ماہ قبل 6 سے 7 لوگوں کو گرفتار کیا تھا جو بطور فرنٹ مین کام کر رہے تھے، ان لوگوں کی نشاندہی پر بخاری نامی شخص کو گرفتار کیا گیا جس نے انکشاف کیا کہ یہ سارا سیٹ اپ رانا ثناءاللہ سے جڑا ہوا ہے اور فنڈز اکٹھے کرکے کالعدم تنظیموں کو دیئے جاتے ہیں۔ اس سارے معاملے کی ایک بریگیڈیئر کی سربراہی میں تحقیقات چل رہی ہیں اور اسی سلسلے میں رانا ثناءاللہ کو گرفتار کیا گیا ہے۔ ترجمان وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز گل نے رانا ثناءاللہ کی گرفتاری پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا اور کہا کہ اے این ایف صوبائی نہیں بلکہ وفاقی ادارہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ مقدمات پر سیاسی بیان بازی سے گریز کرنا چاہیے۔

دوسری جانب وزیر مملکت برائے انسداد منشیات شہریار آفریدی نے ڈی جی اینٹی نارکوٹکس فورس سے رانا ثناءاللہ کی گرفتاری کے حوالے سے رپورٹ طلب کرلی ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ وہ رپورٹ سامنے آنے کے بعد ہی اس پر تبصرہ کریں گے۔ زرائع نے ’’اسلام ٹائمز‘‘ کو بتایا کہ رانا ثناء اللہ کالعدم جماعتوں کو فنڈنگ کرتے تھے اور اس کیلئے رقوم منشیات فروشی کرکے حاصل کی جاتی تھی۔ تاہم اے این ایف کی ٹیم تمام پہلووں پر تفتیش کر رہی ہے اور کالعدم جماعت کے بھی رہنماوں کی گرفتاریاں متوقع ہیں۔ دوسری جانب مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف نے اس گرفتاری پر کہا کہ رانا ثناءاللہ کی گرفتاری سے عمران خان کا ذاتی عناد کھل کر سامنے آگیا ہے۔ رانا ثناءاللہ کو فوری طور پر عدالت میں پیش کیا جائے اور بتایا جائے کہ ان پر کیا الزام ہے؟۔ مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے اپنے رد عمل میں کہا کہ اے این ایف کی جانب سے رانا ثناءاللہ کو گرفتار کرنے سے زیادہ مضحکہ خیز کوئی بات نہیں ہو سکتی۔ انہوں نے لیگی رہنما کی گرفتاری کا الزام براہ راست وزیراعظم پر عائد کیا۔
خبر کا کوڈ : 802551
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب