0
Tuesday 2 Jul 2019 10:34

رانا ثناءاللہ کی گرفتاری پر مسلم لیگ نون نے آج ہنگامی اجلاس طلب کر لیا

رانا ثناءاللہ کی گرفتاری پر مسلم لیگ نون نے  آج ہنگامی اجلاس طلب کر لیا
اسلام ٹائمز۔ رانا ثناءاللہ کی گرفتاری پر مسلم لیگ نون نے اعلٰی سطح کا اجلاس آج طلب کر لیا ہے۔ مسلم لیگ نون کے ذرائع کے مطابق اجلاس پارٹی صدر شہباز شریف نے ماڈل ٹاؤن لاہور میں طلب کیا ہے، پارٹی کی اعلٰی قیادت کو لاہور پہنچنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ اجلاس میں رانا ثناءاللہ کی گرفتاری کے بعد کی صورتحال اور پارٹی کی آئندہ کی حکمت عملی پر غور کیا جائے گا۔ اجلاس میں اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں کی تواتر سے گرفتاریوں کا جائزہ بھی لیا جائے گا۔ واضح رہے کہ مسلم لیگ کے رہنما رانا ثناء اللہ کو گذشتہ روز فیصل آباد سے لاہور جاتے ہوئے اینٹی نارکوٹکس فورس نے حراست میں لیا تھا۔ شہباز شریف نے کہا کہ میں ہمیشہ کہتا تھا کہ پی ٹی آئی اور نیب آپس میں ملے ہوئے ہیں اور اس کے ثبوت سامنے آرہے ہیں، میں قوم کو بتانا چاہتا ہوں مسلم لیگ (ن) بطور اپوزیشن جماعت بالکل یکسو ہے، رانا ثناءاللہ کو فی الفور عدالت میں پیش کیا جائے اور بھونڈے الزامات قوم کے سامنے لائے جائیں۔ ذرائع اے این ایف کا کہنا ہے کہ متعدد منشیات فروشوں کا تعلق رانا ثناءاللہ سے ہے۔ رانا ثناءاللہ سے اس معاملے پر تحقیقات کی جا رہی ہیں۔ منشیات فروشوں کے کالعدم تنظیموں سے بھی رابطے ہیں۔

واضح رہے فیصل آباد سے رانا ثناءاللہ مسلم لیگ نون کے رکن قومی اسمبلی اور نون لیگ پنجاب کے صدر بھی ہیں۔ رانا ثناءاللہ بڑے متحرک نون لیگی رہنما ہیں۔ اسی طرح رانا ثناءاللہ پر کالعدم تنظیموں سے رابطوں اور مالی معاونت کے الزامات بھی ہیں۔ سابق صوبائی وزیرقانون رانا ثناءاللہ کا نام سانحہ ماڈل ٹاون کے مرکزی ملزمان کے طور پر بھی لیا جاتا ہے۔ نون لیگ کے مرکزی رہنما رانا ثناءاللہ نے گذشتہ روز وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کرنے والے ایم پی ایز سے متعلق بھی انتہائی سخت بیان دیا تھا۔ رانا ثناءاللہ نے اپنے ردعمل میں کہا تھا کہ وزیراعظم ہاوس میں لوٹا کریسی کے لئے خصوصی سیل قائم کیا گیا ہے۔ 15 ارب میں اتحادی خریدنے والی حکومت اب لیگی ارکان کو خریدنا چاہتی ہے۔ صوبائی صدر نون لیگ نے کہا کہ لیگی ارکان کو توڑنے کیلئے خزانے کے منہ کھول دیئے گئے۔ عمران خان کو لیگی ارکان کو خریدنے میں منہ کی کھانی پڑے گی۔ رانا ثناء اللہ نے کہا کہ حکومت عوام دشمن بجٹ سے توجہ ہٹانے کیلئے جھوٹا پروپیگنڈا کررہی ہے۔ کسی رکن نے لوٹا بننے کی کوشش کی تو اسے رکنیت استعفے کی صورت میں لوٹانا ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ کوئی لوٹا ہوا تو اس سے قیادت استعفیٰ طلب کرےگی، اگر کوئی لوٹا ہوا تو کارکن ان کے گھروں کا گھیراؤ کریں گے، لوٹا رکن کے گھر کے گھیراؤ کی قیادت خود کروں گا۔ علاوہ ازیں مسلم لیگ(ن)نے رانا ثناء اللہ کی گرفتاری کی مذمت کی ہے.، پاکستان مسلم لیگ(ن)کے صدر اور قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے رانا ثناء اللہ کی گرفتاری کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی مقدمے اور الزام کے بغیر ان کی گرفتاری لاقانونیت اور سیاسی انتقام کی بدترین مثال ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کے حکم پر اداروں کو سیاسی مخالفین کے خلاف استعمال کی ایک اور گھناونی مثال آج قائم کی گئی۔ کبھی نیب، کبھی نیب ٹو اور کبھی اے این ایف کو سیاسی مخالفین کو گرفتار کرنے اور دباؤ میں لانے کے لئے استعمال کرنا افسوسناک ہے۔ شہباز شریف نے مطالبہ کیا کہ رانا ثناءاللہ کو فوری طور پر مجاز عدالت میں پیش کرکے بتایا جائے کہ ان پر کیا الزام ہے؟ انہوں نے الزام عائد کیا کہ رانا ثناءاللہ کی گرفتاری میں عمران خان کا ذاتی عناد کھل کر سامنے آ گیا ہے۔ مسلم لیگ نون کی نائب صدر مریم نواز نے بھی الزام عائد کیا ہے کہ رانا ثناءاللہ  کی گرفتاری میں وزیر اعظم کا ہاتھ ہے۔ مریم نواز نے کہا کہ اے این ایف کا راناثناءاللہ سے کیا لینا دینا ہے؟

مریم نوز کا کہنا ہے کہ اس سے زیادہ بیہودہ صورت حال نہیں ہو سکتی۔ انہوں نے کہا کہ رانا ثناءاللہ کو جرات مندانہ موقف کی وجہ سے گرفتار کیا گیا۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے مسلم لیگ نون پنجاب کے صدر اور سابق صوبائی وزیر رانا ثناءاللہ کی اینٹی نارکوٹکس فورس کے ہاتھوں  گرفتاری پر کہا ہے کہ اس سے سیاسی انتقامی کارروائی کی کھلم کھلا نشاندہی ہوتی ہے۔ پیر کو رانا ثناءاللہ کی گرفتاری پر اپنے ٹیوٹر پیغام میں بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ رانا ثناءاللہ ماضی میں پیپلز پارٹی کے خلاف سخت تنقید کیا کرتے تھے اور آجکل وہ موجودہ حکومت پر کڑی نکتہ چینی کرتے ہیں۔ بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ گرفتاری سے حکومت کی کمزوری اور مایوسی بے نقاب ہوگئی۔  رانا ثناءاللہ مسلم لیگ نون پنجاب کے صدر ہیں اور ممبر قومی اسمبلی ہیں۔ وہ عام انتخابات میں نون لیگ کے ٹکٹ پر این اے 106 فیصل آباد سے ایم این اے منتخب ہوئے۔ ذرائع کے مطابق رانا ثناءاللہ سے چند روز قبل سرکاری سکیورٹی بھی واپس لے لی گئی تھی، جس کے حوالے سے انہوں نے قومی اسمبلی کی استحقاق کمیٹی کو بھی تحریری طور پر آگاہ کردیا گیا تھا۔
خبر کا کوڈ : 802639
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب