0
Friday 5 Jul 2019 20:22

ریونیو کا محکمہ ہی نہیں ہے تو وزیراعلیٰ سندھ بتائیں ریکوری میں اضافہ کہاں سے کروں، میئر کراچی

ریونیو کا محکمہ ہی نہیں ہے تو وزیراعلیٰ سندھ بتائیں ریکوری میں اضافہ کہاں سے کروں، میئر کراچی
اسلام ٹائمز۔ میئر کراچی وسیم اختر نے کہا ہے کہ ایس ایل جی اے 2013ء میں حکومت سندھ نے بلدیہ عظمیٰ کراچی کے ریونیو کے وہ تمام محکمے اپنے پاس لے لئے جن کا سالانہ ریونیو تقریباً 14 سے 15 ارب روپے ہے، اگر یہ محکمے بلدیہ عظمیٰ کراچی کو واپس کردیئے جائیں تو نہ امداد کی ضرورت پڑے گی نہ حکومت سندھ کے ساتھ وسائل مہیا کرنے کا مطالبہ باقی رہے گا، بلدیہ عظمیٰ کراچی کے پاس ریونیو کا کوئی محکمہ ہی باقی نہیں رہا تو وزیراعلیٰ صاحب بتائیں ریکوری میں اضافہ کہاں سے کروں، کراچی چڑیا گھر کے ٹکٹ فیس یا دکانوں کے کرایہ سے کراچی کو نہیں چلایا جاسکتا، ایس بی سی اے اور ماسٹر پلان سے حکومت سندھ ساڑھے 4 تا 5 ارب روپے وصول کرتی ہے جو خالصتاً شہری ادارے ہیں، جبکہ حکومت سندھ کی جانب سے دیگر ٹیکسز سے 300 تا 400 ارب روپے وصول کئے جاتے ہیں، لوکل ٹیکسز بھی بلدیہ عظمیٰ کراچی سے لے لیا گیا، ان وسائل پر کراچی کے شہریوں ہی کا حق ہے جو کراچی کا ریونیو ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اپنے دفتر میں منعقدہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر ڈپٹی میئر سید ارشد حسن، سٹی کونسل کے پارلیمانی لیڈر اسلم شاہ آفریدی اور چیئرمین باغات کمیٹی خرم فرحان اور دیگر بھی موجود تھے۔

 میئر کراچی نے کہا کہ وزیراعلیٰ صاحب نے کہا ہے کہ میئر ریکوری میں اضافہ کرے مگر ایس ایل جی او 2013ء میں دیئے گئے محکموں اور اختیارات سے نہ شہر چل سکتا ہے اور نہ ہی کے ایم سی ریکوری میں اضافہ کیا جاسکتا ہے، لہٰذا اس شہر کو بہتر کرنے اور مسائل حل کرنے کے لئے وہ سارے ریونیو کے محکمے بلدیہ عظمیٰ کراچی کو واپس دیئے جائیں جو غیرقانونی اور غیر اخلاقی طور پر لئے گئے ہیں۔ میئر کراچی نے کہا کہ کراچی میں پانی کا بحران شدت اختیار کرگیا ہے، وزیر اعلیٰ سندھ نے خود اعتراف کیا کہ کے فور منصوبے کی پلاننگ ٹھیک نہیں، پانی کی چوری اور لیکیج رک جائے تو کافی بہتری آسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ میری جگہ کسی کو بھی لے آئیں موجودہ سسٹم کے تحت صورتحال بہتر نہیں ہوسکتی، بجلی کے بل کی عدم ادائیگی پر بلدیہ عظمیٰ کراچی کی بجلی ایک ہفتہ سے منقطع ہے اور ہمارے پاس اتنے وسائل نہیں کہ ہم بجلی کا بل ادا کریں، ملازمین کو تنخواہیں اور پنشن کی ادائیگی سمیت تمام امور بند ہیں، افسران بالکونیوں میں بیٹھ کر کام کررہے ہیں، ہماری آمدنی کا تمام دارومدار حکومت سندھ کے شیئرز پر ہے، ہمارا کہنا ہے کہ حکومت سندھ ہمارے شیئرز پورے نہیں دے رہی، اگر کے ایم سی کے جو اپنے ٹیکسز ہیں وہ بھی مل جائیں تو کے ایم سی کو حکومت کی طرف دیکھنے یا اضافی وسائل کی ضرورت ہی نہیں پڑے گی۔
خبر کا کوڈ : 803308
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب