0
Friday 5 Jul 2019 20:42

وہ لوگ جو حکمرانوں کے غلط افعال کو انکا ذاتی فعل کہتے ہیں وہ گمراہ ہیں، مصطفیٰ کمال

وہ لوگ جو حکمرانوں کے غلط افعال کو انکا ذاتی فعل کہتے ہیں وہ گمراہ ہیں، مصطفیٰ کمال
اسلام ٹائمز۔ پاک سرزمین پارٹی کے چیئرمین سید مصطفیٰ کمال نے کہا کہ حکمرانوں کا نیک ہونا انتہائی ضروری ہے تبھی وہ اپنی قوم کے لئے ببانگِ دہل آواز بلند کرتے ہیں، وہ لوگ جو حکمرانوں کے غلط افعال کو ان کا ذاتی فعل کہہ کر دفاع کرتے ہیں وہ گمراہی میں ہیں، اگر ہم اپنے گھر میں چوکیدار رکھیں اور گھر میں روزانہ چوری ہوتی رہے جبکہ چوکیدار نشہ کرکے سوتا رہے تو اس کی اس حرکت کو اس کا ذاتی فعل کہہ کر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، اسی لئے جب تک پڑھے لکھے اور باکردار نوجوان سیاست میں حصہ نہیں لیں گے ملک کی تقدیر نہیں بدل سکتی،۔ پی ایس پی غریب و متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں کو بھی سیاست میں موقع دے رہی ہے، ہمارے قول و فعل میں پہلے دن سے تضاد نہیں ہے، اپنے کردار کی وجہ سے ببانگِ دہل عوام دشمنوں کو للکارتے ہیں۔ ان خیالات اظہار مصطفیٰ کمال نے ڈسٹرکٹ ایسٹ میں منعقدہ جنرل ورکرز اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ جہاں پارٹی صدر انیس قائم خانی و دیگر ذمہ داران بھی انکے ہمراہ موجود تھے۔ انہوں نے کہا کہ 21 جولائی کو بھرپور عوامی طاقت کا مظاہرہ کر کے بتائیں گے کہ شہر کس کا ہے اور مستقبل میں عوام کے لئے کس طرح کی سیاست قابل قبول ہوگی، سیاست کو برے لوگوں کی وجہ سے جھوٹ، فریب، مکاری سے تشبیح دیا جانے لگا ہے جبکہ اسلام کے نام پر بننے والی ریاست کے سیاست دانوں کا کردار ایسا ہونا چاہیئے تھا کہ دنیا خود اس کی گواہی دیتی۔

انہوں نے کہا کہ عوام کے پاس ہمارے علاوہ کوئی آپشن موجود نہیں ہے، لوگ سب کو آزما چکے ہیں، ہمارا دشمن بھی بند کمروں میں بولتا ہے کہ اس شہر کو ٹھیک کرنا ہے تو پی ایس پی کے طرزِ سیاست کو اپنانا ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اپنے ذاتی مفادات کی خاطر کراچی کو کچرا کنڈی میں تبدیل کردیا گیا ہے، کراچی کا کوئی ایسا علاقہ نہیں جہاں سیوریج کا نظام درہم برہم اور سڑکیں ٹوٹی پھوٹی نہ ہوں، اکیسویں صدی میں دنیا چاند پر پہنچ رہی ہے اور ہم فضلہ ملا پانی پینے پر مجبور ہیں، اردو بولنے والے ایک مہذب اور پڑھی لکھی قوم تھی جس کے نوجوانوں کو تعلیم سے دور کرکے اسے جاہل بنا دیا گیا، ہم گلی محلوں میں جاکر کراچی والوں سے کہیں گے کہ اٹھیں اور بولنا شروع کریں، جو لوگ حق کی جدوجہد میں شامل نہیں ہونگے ان پر انکے محلوں میں بھی عذاب آئے گا، اگر ایک لاکھ لوگ اپنے حقوق کیلئے چلنا شروع کریں تو جو لوگ کہتے ہیں ہماری ذمہ داری نہیں وہ خود چل کر آئیں گے کہ ہماری ذمہ داری ہے۔
خبر کا کوڈ : 803324
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب