0
Friday 5 Jul 2019 23:08

مشرکین سے برائت نہ صرف ایک اسلامی فریضہ بلکہ حج کا لازمی جزو بھی ہے، آیت اللہ خامنہ ای

مشرکین سے برائت نہ صرف ایک اسلامی فریضہ بلکہ حج کا لازمی جزو بھی ہے، آیت اللہ خامنہ ای
اسلام ٹائمز۔ اسلامی جمہوریہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای نے خدام و عازمین حج سے خطاب کرتے ہوئے حج بیت اللہ کو دین اسلام کے مطلوب اسلامی معاشرے اور اسلامی تمدن کا ایک زندہ نمونہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ حج کے دوران حاصل ہونے والا اخلاقی و معنوی عروج اور خضوع و خشوع حجاج کرام کی نہ صرف معنوی بلکہ مادی زندگی میں بھی پیشرفت کا سبب ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں حج کی معنوی تجلیوں کے ساتھ ساتھ وحدت و برادری، عرفات و مشعر الحرام اور منیٰ میں مسلمانوں کے اجتماع اور امت مسلمہ کی جدوجہد و طواف اور سعی جیسے اسلامی طرز زندگی کے زندہ نمونے بھی نظر آتے ہیں، جو اخلاق، برادری اور درگزر جیسے ممتاز اسلامی اصولوں پر استوار ہیں۔

ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای نے بیت اللہ الحرام کے حج کو دین اسلام کی غیر معمولی اور ممتاز اقدار میں ایک قرار دیا اور حج کے وحدت مسلمین، مظلومین کی حمایت اور مشرکین سے برائت جیسے انتہائی اہم سیاسی پہلوؤں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ بعض لوگ جو یہ کہتے ہیں کہ حج کو سیاسی نہ بنائیں، ان کی بات درست نہیں، کیونکہ حج کے سیاسی پہلو اسلام کی تعلیمات کے عین مطابق ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کی باہمی وحدت، یمنی اور فلسطینی عوام جیسی مظلوم قوموں کی حمایت یا مشرکین سے بیزاری کا اعلان؛ یہ سب حج کے سیاسی پہلو اور اسلامی تعلیمات کے عین مطابق ہیں۔ لہذا مسلمانوں کو چاہیئے کہ حج کے سیاسی پہلوؤں پر، اس کے عبادی پہلوؤں کی طرح، اُنہیں اسلام کی تعلیمات کے عین مطابق جانتے ہوئے دل و جان کیساتھ عمل کریں۔ انہوں نے کہا کہ مشرکین سے بیزاری کا اعلان نہ صرف مسلمانوں کا ایک دینی فریضہ ہے بلکہ مسلمانوں کے لئے انتہائی ضروری بھی ہے اور یہی وجہ ہے کہ ہم ہر سال اسے بہترین انداز میں منعقد کرنے پر اصرار کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ دین اسلام کے سیاسی اقدامات کے مقابلے میں دین مخالف اور شیطانی اقدامات بھی موجود ہیں، مثلاً یہی جو کہا جاتا ہے کہ حج کے دوران امریکہ کے خلاف احتجاج یا مشرکین سے برائت کا اظہار نہ کریں۔ آیت اللہ سید علی خامنہ ای نے "اسلامی برادری کے درمیان الفت و محبت" کے پیدا کرنے کو حج کی خصوصیات میں سے ایک قرار دیا اور اسی تناظر میں کہا کہ سعودی حکومت پر حجاج کرام کے عزت و احترام کی مکمل حفاظت اور بھاری بھر کم حفاظتی انتظامات سے اجتناب کرتے ہوئے بیت اللہ الحرام کے زائرین کے مکمل تحفظ کی بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے، جبکہ حجاج کرام کو بھی اس بےمثال موقع کو غنیمت سمجھتے ہوئے اور حج کے اجتماعی، سیاسی اور اخلاقی پہلوؤں پر اپنی توجہ مرکوز رکھتے ہوئے حج ابراہیمی کے قدردان مومن کی حیثیت سے اپنی شان و منزلت کی حفاظت کرنا چاہئے۔

ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای نے امریکہ سمیت دنیا کے تمام استکباری ممالک کی اسلامی حقائق سے گہری دشمنی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی بدمعاش ٹولے کی امت مسلمہ کے خلاف وحشیانہ سیاسی، اجتماعی، تہذیبی، معاشی اور امنیتی جارحیت اسلامی معارف کے خلاف ان کی گہری دشمنی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ انہوں نے اسلامی معارف کو استکباری طاقتوں کی ظالمانہ روش کے خلاف سیسہ پلائی دیوار قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسلامی معاشروں کی طرف سے اسلامی اصولوں و شریعت پر مکمل پابندی اور بین الاقوامی بدمعاش ٹولے کی زور زبردستی کے مقابلے میں گھٹنے نہ ٹیکنے کا عمل پوری امت اسلامی کے لئے کامیابی، پیشرفت، مصلحت اور نجات کا ذریعہ ثابت ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ تاریخ شاہد ہے کہ اپنے ملک کے اندرونی مسائل میں جس مسئلے میں ہم نے اسلامی اصولوں اور حدود و قیود کی زیادہ پابندی کی ہے، اُس مسئلے میں ہمیں خدا کی مدد بھی دوسرے مسائل کی نسبت کہیں زیادہ حاصل رہی ہے، لیکن جہاں جہاں ہم نے ان مفاہیم سے غفلت برتی ہے، ہمیں سزا بھی جھیلنا پڑی ہے۔ آیت اللہ سید علی خامنہ ای نے مسلمانوں کے پیشرفت اور عزت و عظمت سے بھرپور مستقبل کو مسلم اقوام کی جدوجہد، مسلسل کوشش اور آپسی تعاون کے مرہون منت قرار دیتے ہوئے اس بات پر تاکید کی کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے ایرانی قوم سمیت پوری امتِ مسلمہ کے وحشی اور درندہ صفت دشمن، بالآخر اسلام کی عظمت کے سامنے اپنے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہو جائیں گے۔
خبر کا کوڈ : 803365
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب