0
Monday 8 Jul 2019 08:17

ہانگ کانگ، حکومت مخالف مظاہرین پر پولیس کا لاٹھی چارج

ہانگ کانگ، حکومت مخالف مظاہرین پر پولیس کا لاٹھی چارج
اسلام ٹائمز۔ ہانگ کانگ میں سیاسی کشیدگی کا سلسلہ ایک مرتبہ پھر شروع ہو گیا ہے جہاں مظاہرین کی ریلی کو منتشر کرنے کے لیے پولیس کی جانب سے لاٹھی چارج کیا گیا۔ خبر ایجنیس اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق ہانگ کانگ کے ضلع مونگ کوک میں 20 منٹ تک مظاہرین اور پولیس کے درمیان شدید کشیدگی کی صورت حال رہی جس کے بعد پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے لاٹھی چارج شروع کر دی جبکہ مظاہرین چھتریوں سے اپنا دفاع کر رہے تھے۔ پولیس نے 300 نوجوان کے ایک گروپ کو مظاہرہ ختم کرنے کے لیے وارننگ جاری کی لیکن انہوں نے پولیس کی ایک نہ سنی۔ حکومت مخالف مظاہرین پر پولیس کی جانب سے تشدد کیوں شروع اس حوالے سے واضح طور پر رپورٹس سامنے نہیں آئیں تاہم اس سے قبل پرامن مظاہرے دیکھے گئے تھے۔

خیال رہے کہ گزشتہ ماہ ہانگ کانگ میں مجرموں کی حوالگی سے متعلق متنازعہ بل کے خلاف لاکھوں افراد نے احتجاج کیا تھا جس کے باعث چیف ایگزیکٹو کیری لام نے عوام سے مدد مانگ لی تھی۔ عوام کی جانب سے غم و غصے اور شدید احتجاج کے بعد کیرم لام مجرمان کی حوالگی سے متعلق مجوزہ بل پر بحث منسوخ کرنے پر مجبور ہو گئی تھیں لیکن عوام نے احتجاج وقتی طور پر ختم کر دیا تھا لیکن ملک میں جمہوری اصلاحات کا مطالبہ کر دیا تھا۔ ہانگ کانگ میں تازہ مظاہروں کے حوالے سے میڈیا رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ پولیس نے کئی مظاہرین کو حراست میں لے لیا جس کے بعد مظاہرین نے گرفتار افراد کی رہائی کے لیے نعرے بازی کی۔

بعد ازاں 2 جولائی کو ہانگ کانگ کو چین کے حوالے کرنے کی 22ویں سالگرہ کے موقع پر مظاہرین نے پارلیمنٹ پر دھاوا بولتے ہوئے اس پر قبضہ کر لیا تھا تاہم پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے مظاہرین کو منتشر کر دیا تھا۔ ماسک اور پیلی ٹوپی پہنے نوجوان پولیس سے جھڑپ کے دوران پارلیمنٹ میں گھس آئے تھے اور انہوں نے عمارت میں توڑ پھوڑ اور اس کی دیواروں پر حکومت مخالف نعرے لکھے تھے۔ پولیس نے مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن کا آغاز کرتے ہوئے عمارت کو گھیرے میں لے کر آنسو گیس کے شیل فائر کیے اور لاٹھی چارج بھی کیا جس کی وجہ سے مظاہرین منتشر ہوگئے تھے۔
یاد رہے کہ ہانگ کانگ میں 2014 میں جمہوریت پسندوں نے دو ماہ تک طویل احتجاج کیا تھا اور اس دوران پولیس اور مظاہرین کے درمیان شدید جھڑپیں ہوتی تھیں جس سے مونگ کوک سب سے زیادہ متاثر ہونے والے اضلاع میں شامل تھا۔ مونگ کوک میں 2016 میں' فش بال انقلاب' کے نام سے تحریک ابھری تھی جو پولیس کی جانب سے غیر لائسنس یافتہ دکان داروں کے خلاف کارروائی کے ردعمل پر شروع ہوئی تھی۔
خبر کا کوڈ : 803734
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب