0
Friday 12 Jul 2019 11:39

افغانستان سے قبل از وقت فوجی انخلا حکمت عملی کی بدترین غلطی ہوگی، جنرل مائیک مائلی

افغانستان سے قبل از وقت فوجی انخلا حکمت عملی کی بدترین غلطی ہوگی، جنرل مائیک مائلی
اسلام ٹائمز۔ امریکی فوج کے چیف آف اسٹاف جنرل مائیک مائلی نے خبردار کیا ہے کہ افغانستان سے قبل از وقت فوجی انخلا حکمت عملی کی بدترین غلطی ہوگی۔ انہوں نے واضح کیا کہ امن مذاکرات میں پیشرفت دیکھی ہے اور اس کا مقصد بھی واضح ہے کہ جاری لڑائی کا خاتمہ ہو۔ جنرل مائیک مائلی اس وقت امریکی فوج میں چیف آف اسٹاف کے منصب پہ فائز ہیں لیکن انہیں جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے سربراہ کے طور پر نامزد کیا جا چکا ہے جو فوج کا اعلیٰ ترین عہدہ ہے۔ امریکی فوجی کے چیف آف اسٹاف نے یہ بات ایک ایسے وقت میں کہی ہے جب امریکہ اور طالبان کے درمیان دوحا، قطر میں ہونے والے مذاکرات کے کئی ادوار ہوچکے ہیں اور اس میں طالبان کی جانب سے پہلی شرط ہی یہ سامنے آئی ہے کہ افغانستان سے غیر ملکی افواج نکل جائیں جس کے بدلے میں طالبان اس بات کو یقینی نبائیں گے کہ افغانستان کی سرزمین دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہو۔ جنرل مائیک مائلی نے یہ بات امریکی سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے مسلح افواج کی سماعت کے دوران کہی ہے۔

امریکی فوج میں جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے سربراہ کے طور پرنامزد ہوچکنے والے جنرل مائیک مائلی نے کہا کہ جب سے امریکہ، ایران کے ساتھ ہونے والے جوہری معاہدے سے علیحدہ ہوا ہے اس وقت سے تہران کی سرگرمیاں شدت اختیار کرگئی ہیں۔ یہ جوہری معاہدہ 2015ء میں طے پایا تھا۔ جنرل مائیک مائلی نے الزام عائد کیا کہ ایران کی پشت پناہی والی تنظیموں نے عراق میں امریکی فوجیوں کو قتل کیا ہے۔ امریکی سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے مسلح افواج کو بریفنگ کے دوران جنرل مائیک مائلی نے افغانستان سے فوجی انخلا کے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں تسلیم کیا کہ میرے خیال میں یہ کام تکلیف دہ اور مشکل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ میں نے اپنی زندگی کا کافی وقت افغانستان میں گزارا ہے لیکن سمجھتا ہوں کہ یہ ضروری ہے۔ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جب اچانک شام سے امریکی افواج کے انخلا کا اعلان کیا تھا تو اس وقت بھی امریکہ کے کئی اعلیٰ عسکری و سول حکام نے اس فیصلے کی نہ صرف مخالفت کی تھی بلکہ بعض نے تو استعفیٰ بھی دے دیا تھا۔

امریکا کے مستقبل کے فوجی سربراہ کا کہنا ہے کہ امریکا کو پاکستان سے فوجی تعلقات برقرار رکھنے کی ضرورت ہے جو دونوں ملکوں کے مفاد میں ہے۔ انہوں نے سینیٹ کی آرمڈ سروسز کمیٹی کو بتایا کہ اگر میں چیئرمین بنتا ہوں تو میں امریکا اور پاکستان کے درمیان دفاعی تعلقات برقرار رکھنا چاہوں گا جبکہ ہم پاکستان سے کارروائیوں کا مطالبہ کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم نے سیکیورٹی معاونت معطل کردی ہیں اور دفاعی مذاکرات روکے ہوئے ہیں مگر ہمیں اپنے مشترکہ مفادات پر فوجی تعلقات قائم کرنے کی ضرورت ہے۔ خیال رہے کہ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا جب وزیر اعظم عمران خان چند روز بعد امریکا کا دورہ کرنے والے ہیں جو پاکستان اور امریکا کے تعلقات میں انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ یاد رہے کہ چیف آف آرمی اسٹاف جنرل ملی نے افغانستان، عراق، سومالیہ اور کولمبیا میں خدمات انجام دے چکے ہیں اور اب یہ امید کی جارہی ہے کہ وہ بغیر کسی مخالفت کے جوائنٹ چیفس آف اسٹاف بن جائیں گے۔

اس کے علاوہ جنرل ملی افغانستان میں امریکی فورسز کے کمانڈنگ جنرل، انٹرنیشنل سیکیورٹی اسسٹنس فورس جوائنٹ کمانڈ اور ڈپٹی کمانڈنگ جنرل کے طور پر بھی خدمات انجام دے چکے ہیں۔ ادھر سینیٹ پینل نے انہیں افغانستان، پاکستان اور عراق کے حساس معاملات پر تحریری سوالنامہ ارسال کیا جس کے جواب میں انہوں نے پاکستان سے دفاعی تعلقات کی ضرورت کو اجاگر کیا اور کہا کہ اسلام آباد کا افغانستان میں امن و استحکام میں اہم کردار ہے اور پاکستان کی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں تعاون کی اہم ضرورت ہے۔ کمیٹی نے سوال کیا کہ آپ اس عہدے پر پاکستان سے امریکا کے تعلقات، بالخصوص فوج سے فوج کے تعلقات اور عالمی سطح پر فوجی تربیت کے حوالے سے کیا تجاویز دیں گے۔ اس کے جواب میں انہوں نے کہا ڈونلڈ ٹرمپ کی جنوبی ایشیا سے متعلق حکمت عملی پاکستان کو امریکی مفادات حاصل کرنے میں اہم شراکت دار بتاتی ہے، اس کے علاوہ اس میں افغانستان میں القاعدہ اور داعش-خراساں کو شکست دینے کے لیے امریکی فوج کو ساز و سامان فراہم کرنا اور خطے میں استحکام برقرار رکھنے کے حوالے سے سیاسی معاہدے شامل ہیں۔
خبر کا کوڈ : 804592
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب