0
Saturday 13 Jul 2019 17:13

فلسطینی حکومت نے اسرائیل کے بجائے عراق سے تیل درآمد کرنے کا فیصلہ کر لیا

فلسطینی حکومت نے اسرائیل کے بجائے عراق سے تیل درآمد کرنے کا فیصلہ کر لیا
اسلام ٹائمز۔ فلسطینی وزیراعظم نے اسرائیل کے بجائے عراق سے تیل کی درآمد سے متعلق فلسطینی حکومت کے نئے پروگرام کے بارے خبر دی ہے۔ تفصیلات کے مطابق ایک معروف عرب اخبار "القدس العربی" نے لکھا ہے کہ فلسطینی وزیراعظم "محمد اشتیہ" نے خبرنگاروں کے ساتھ گفتگو کے دوران کہا ہے کہ ہم نے غاصب صیہونی رژیم سے اپنی جدائی کا آغاز کر دیا ہے، جبکہ اس کے پہلے مرحلے کے طور پر فلسطینی مریضوں کو اسرائیلی ہسپتالوں میں ریفر کئے جانے کے سلسلے کو روک دیا گیا ہے۔ اس حوالے سے ایک اسرائیلی ویب سائٹ (mynet) نے بھی یہ لکھا ہے کہ اسرائیل کئی ماہ کے وقفے کے بعد اب فلسطینی مریضوں کے اسرائیلی ہسپتالوں میں دوبارہ ریفر کئے جانے کے بارے میں فلسطینی حکمرانوں کو قائل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

اسرائیلی ہسپتال "ھداسا" کے ڈائریکٹر "ڈاکٹر زئیو روتشتاین" نے فلسطینی وزارت صحت کے نمائندوں کے ساتھ فلسطینی مریضوں کو اسرائیلی ہسپتالوں میں ریفر نہ کئے جانے کے فیصلے کے نتائج کے بارے میں بات چیت کی اور کہا کہ اس فیصلے کی وجہ سے ان کے ہسپتال کو سالانہ 100 ملین شِکِل (اسرائیلی کرنسی) کا بھاری نقصان ہو رہا ہے، لہذا فلسطینی وزارت صحت کو اپنے اس فیصلے میں تبدیلی لانا چاہیئے۔ فلسطینی وزیراعظم محمد اشتیہ نے تاکید کرتے ہوئے کہا کہ فلسطینی حکومت کی حکمت عملی ایک طرف سے فلسطینی شہریوں کو مضبوط بنانے جبکہ دوسری طرف سے غاصب صیہونی رژیم سے جدائی اور اپنے عرب تشخص پر مبنی ہے۔ کچھ ہی دن قبل ہم اردن گئے تھے جبکہ جاری ہفتے میں ہی عراق جائیں گے، تاکہ ہم تجارت سمیت دوسرے شعبوں میں اپنے عرب تشخص کے مطابق اپنے تعلقات کو ممکنہ حد تک مضبوط بنا سکیں۔

انہوں نے کہا کہ فلسطینی حکومت نے اسرائیل کے بجائے عراق سے تیل درآمد کرنے اور ایک اور عرب ملک کی آئل ریفائنریز میں اسے خالص بنانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ انہوں نے فلسطین کے مغربی کنارے اور غزہ کی پٹی میں بےروزگاری سے متعلق بھیانک اعداد و شمار کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ بیروزگاری کی یہ بلند شرح فلسطینی حکومت کی کسی غلط پالیسی کا نتیجہ نہیں بلکہ غاصب صیہونی رژیم کے "C" زون نامی  فلسطینی علاقے پر تسلط کا نتیجہ ہے اور یہی وجہ ہے کہ فلسطینی معیشت اسرائیل کے لئے ایک نفع بخش کاروبار میں تبدیل ہوچکی ہے جبکہ غاصب صیہونی رژیم بھی یہی چاہتی ہے کہ فلسطینی معیشت ہمیشہ اسرائیلی اقدامات کی محتاج رہے، لہذا ہم چاہتے ہیں کہ جہاں تک ممکن ہو، غاصب صیہونی رژیم سے جدائی اختیار کرکے اسرائیل کے ساتھ اپنی محتاجی کے اس رشتے کو ختم کیا جائے۔

واضح رہے کہ اسرائیلی حکام نے فلسطینی مریضوں کیطرف سے اسرائیلی ہسپتالوں کیطرف رجوع میں خاطر خواہ کمی کا اعلان کیا ہے، جو اسرائیلی طبی سہولیات نہ لینے کے فلسطینی حکومتی فیصلے کا نتیجہ ہے۔ اس حوالے سے "ھداسا" ہسپتال کے ڈائریکٹر "پروفیسر زئیو روتشتاین" نے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کو  "فلسطینی مریضوں کے اسرائیلی ہسپتالوں میں رجوع نہ کرنے کے نتیجے میں ممکنہ انسانی بحران" کے عنوان سے ایک انتباہ جمع کروایا تھا، جس کے نتیجے میں ان کے ہسپتال اور فلسطینی وزارت صحت کے نمائندوں کے درمیان مذاکرات کا انعقاد کیا گیا۔
اسرائیلی محتاجی سے چھٹکارے کے سلسلے میں چند روز قبل ہی فلسطینی وزیر اعظم نے اردن کے اپنے ہم منصب "عمر الرزار" سے ملاقات کی، جبکہ محمد اشتیہ جاری ہفتے کے دوران ایک اعلیٰ سطحی فلسطینی وفد اور فلسطینی تاجروں کے ہمراہ عراق کا دورہ بھی کریں گے۔
خبر کا کوڈ : 804870
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب