0
Sunday 14 Jul 2019 13:19

شہباز شریف نے 500 ملین پاؤنڈ امداد کی برطانوی امداد منی لانڈرنگ سے باہر بھیجی، ڈیلی میل

شہباز شریف نے 500 ملین پاؤنڈ امداد کی برطانوی امداد منی لانڈرنگ سے باہر بھیجی، ڈیلی میل
اسلام ٹائمز۔ برطانیہ نے شہباز شریف کے دور میں پنجاب کو دی گئی کروڑوں پاؤنڈز امداد کی تحقیقات کا فیصلہ کیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق یہ دعویٰ معروف برطانوی اخبار کی جانب سے کیا گیا ہے، جس نے سابق وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کے خلاف ایک طویل آرٹیکل تحریر کیا ہے۔ ڈیلی میل نے مبینہ منی لانڈرنگ میں ملوث شریف خاندن کے فرنٹ مین آفتاب محمود کے انٹرویو کے حوالے سے دعوی کرتے ہوئے لکھا کہ شہباز شریف کا خاندان برطانیہ میں مبینہ منی لانڈرنگ میں ملوث رہا، شہباز شریف کے دور اقتدار میں برطانوی حکومت نے پنجاب کے زلزلہ زدگان کیلئے 500 ملین پاؤنڈ امداد فراہم کی، تحقیقاتی اداروں کے مطابق شریف خاندان نے یہ رقم مبینہ طور پر منی لانڈرنگ میں استعمال کی۔ برطانوی اخبار نے دعویٰ کیا ہے کہ آفتاب محمود نے شریف خاندان کے لئے کروڑوں پاونڈز کی مبینہ منی لانڈرنگ کا اعتراف کرلیا ہے۔

آفتاب محمود کے حوالے سے اخبار کا دعوی ہے کہ شریف خاندان کے لئے برمنگھم آفس کے ذریعے کئی ملین ڈالرز کی منی لانڈرنگ کی۔ ڈیلی میل کے مطابق غریب خواتین کو غربت سے نکالنے اور صحت کی سہولیات کے لئے بھیجی گئی رقم میں بھی خورد برد کی گئی، برطانوی حکومت کی جانب سے بھیجی گئی رقم میں سے 1 ملین پاؤنڈ شہباز شریف کے داماد کو دیئے گئے۔ ڈیلی میل کی رپورٹ کے مطابق مبینہ منی لانڈرنگ کی گئی رقم پاکستان سے برمنگھم بھیجی جاتی تھی، برمنگھم سے فرنٹ مین کے ذریعے یہ رقم شریف فیملی کے بینک اکاؤنٹس میں منتقل کی جاتی تھی، فرنٹ مین آفتاب محمود نے بتایا کہ آڈٹ ریوینیو ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے ہر تین ماہ بعد اکاؤنٹ کا آڈٹ ہوتا تھا، تحقیقاتی اداروں نے اس رقم سے متعلق بھی انکوائری شروع کر دی ہے۔ معروف برطانوی اخبار کے مطابق برطانوی نیشنل کرائم ایجنسی نے پاکستان کے ساتھ منی لانڈرنگ کی روک تھام کے لئے کام تیز کردیا ہے۔

جس کی وجہ وزیراعظم عمران خان کے منی لانڈرنگ کی روک تھام کے لئے اٹھائے گئے سنجیدہ اقدامات ہیں، اس سلسلے میں برطانیہ سے تعلیم یافتہ ماہر قانون دان کی سربراہی میں ایسٹ ریکوری یونٹ قائم کیا گیا ہے۔ ڈیلی میل لکھتا ہے کہ ریکوری یونٹ کی تحقیقات کی مطابق شریف خاندان کی دولت میں کئی مرتبہ اچانک اضافہ دیکھنے میں آیا ،خفیہ رپورٹ کے مطابق 2003ء میں شریف خاندان کی مکمل دولت صرف ڈیڑھ لاکھ پاؤنڈ تھی مگر 2018ء تک ان کی دولت میں بے پناہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ ڈیلی میل کے مطابق برطانوی حکام فنڈز فراہم کرتے وقت جانتے تھے کہ پاکستان میں کرپشن بہت زہادہ ہے، اس کے باوجود پاکستان کو دوسرے ممالک کی نسبت زیادہ فنڈز فراہم کئے گئے، ایک اندازے کے مطابق ماضی میں پاکستان کو سالانہ 463 ملین پاؤنڈ بطور فنڈ دی گئی۔
خبر کا کوڈ : 805002
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے